سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(124) سفیان ثوری کی تدلیس

  • 13645
  • تاریخ اشاعت : 2014-12-22
  • مشاہدات : 1058

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سفیان ثوری کی تدلیس (عن والی روایت) مقبول ہے یا غیر مقبول؟ دلیل سے جواب دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کے بارے میں درج ذیل تحقیق پیش خدمت ہے۔

(۱)          سفیان ثوری رحمہ اللہ بالاجماع ثقہ و ثبت ہیں، انہیں احمد بن حنبل، عجلی، دارقطنی اور ابن حبان وغیرہم نے ثقہ کہا ہے۔ امام نسائی فرماتے ہیں: ’’وہ اس سے بلند ہیں کہ انہیں ثقہ کہا جائے وہ میرے خیال میں متقین کے اماموں میں سے ایک امام تھے۔‘‘

امام شعبہ نے انھیں امیر المومنین فی الحدیث قرار دیا۔

دیکھئے تہذیب الکمال للمزی (۳۶۰/۷)

ان کی بیان کردہ احادیث کتب ستہ اور عام کتب حدیث میں موجود ہیں۔

(۲)         اس پر بھی اتفاق ہے کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ تدلیس کرتے تھے۔

ہشیم بن بشیر (متوفی ۱۸۳ھ) نے عبداللہ بن المبارک سے کہا:

’’ان کبیریک قددلسا: الاعمش و سفیان‘‘ (الکامل لابن عدی ۲۵۹۶/۷، و سندہ صحیح و العلل الکبیر للترمذی ۹۶۶/۲، و سندہ صحیح، علمی مقالات ۲۵۱/۱)

یعنی تیرے دونوں بزرگوں: اعمش اور سفیان (ثوری) نے تدلیس کی ہے۔

یحییٰ بن معین نے کہا: ’’وکان یدلس‘‘ یعنی سفیان ثوری تدلیس کرتے تھے۔ (الجرح و التعدیل ۳۲۵/۴ و سندہ صحیح، الکفایۃ للخطیب ص۳۶۱ و سندہ صحیح)

سفیان ثوری کے شاگرد ابو عاصم (النبیل) نے کہا: ’’نری ان سفیان الثوری انما دلسه عن ابی حنیفة‘‘ (سنن الدارقطنی ۲۰۱/۳ ح۳۴۲۳)

امام بخاری نے کہا: ’’اعلم الناس بالثوری یحیی بن سعید، لانه عرف صحیح حدیثه من تدلیسه‘‘ (الکامل لابن عدی ۱۱۱/۱، و سندہ صحیح)

یعنی سفیان کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے یحییٰ بن سعید (القطان) ہیں، کیونکہ وہ ان کی تدلیس میں سے صحیح حدیثیں جانتے ہیں۔

یحییٰ القطان کی ثوری سے روایت سماع پر محمول ہوتی ہے۔ (دیکھئے نور العینین طبع دوم ص۱۲۴)

امام علی بن المدینی فرماتے ہیں: ’’والناس یحتاجون فی حدیث سفیان الی یحیی القطان الحال الاخبار یعنی علی: ان سفیان کان یدلس و ان یحیی القطان کان یوقفه علی ماسمع ممالم یسمع‘‘ لوگ حدیث سفیان میں یحییٰ القطان کے محتاج ہیں کیونکہ وہ مصرح بالسماع روایات بیان کرتے تھے۔ علی بن المدینی کے نزدیک سفیان (الثوری) تدلیس کرتے تھے اور یحییٰ القطان ان کی معنعن اورمصرح بالسماع روایتیں ہی بیان کرتے تھے۔ (الکفایہ ص۳۶۲، وسندہ صحیح)

دیگر اقوال کے لئے نور العینین اور علمی مقالات (۲۵۱/۱) پڑھیں، غرض یہ کہ سفیان الثوری کا مدلس ہونا اجماع مسئلہ ہے۔

تنبیہ:

حافظ سیوطی نے تدریب الراوی میں لکھا ہے:

’’روی البیهقی فی المدخل عن محمد بن رافع قال: قلت لابی عامر: کان الثوری یدلس؟ قال: لا………الخ‘‘

یعنی بقول ابی عامر: سفیان ثوری تدلیس نہیں کرتے تھے، یہ حوالہ کئی لحاظ سے مردود ہے:

۱:             امام بیہقی کی کتاب المدخل میں یہ حوالہ نہیں ملا۔

۲:            سیوطی نے بیہقی سے لے کر محمد بن رافع تک سند بیان نہیں کی۔

۳:            سیوطی نے یہ نہیں بتایا کہ انھوں نے یہ عبارت المدخل سے نقل کی ہے یا کسی اور خص سے المدخل کا حوالہ نقل کیا ہے۔

۴:            محدثین کے ثابت شدہ اقوال و شہادات کے مقابلے میں یہ حوالہ شاذ ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

تنبیہ ۲:

راقم الحروف نے نور العینین میں سفیان ثوری کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’حافظ العلائی کی کلدی نے حافظ ابن حجر سے پہلے ان کو طبقہ ثانیہ میں ذکر کیا ہے۔‘‘ (طبع قدیم ص۱۰۲ و جدید ص۱۲۷)

یہ حوالہ غلط ہے جس سے میں رجوع کرتا ہوں۔ صحیح عبارت درج ذیل ہے:

’’امام حاکم نے حافظ ابن حجر سے پہلے ان کو طبقہ ثانیہ (جنس ثالث) میں ذکر کیا ہے۔‘‘ (جامع التحصیل ص۹۹ و معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص۱۰۶)

یہ امام حاکم کا قول ہے جو غلطی کی وجہ سے حافظ العلائی  کی طرف منسوب ہوگیا ہے۔ امام حاکم کے اس قول سے میرے دعوے کو مزید تقویت حاصل ہوگئی کہ سفیان ثوری کا شمار طبقہ ثانیہ میں غلط ہے بلکہ طبقات کی تقسیم والوں پر لازم یہی  ہے کہ وہ انہیں طبقہ ثالثہ میں ذکر کریں۔

حنفیوں کے امام عینی حنفی نے سفیان ثوری کے بارے میں لکھا ہے: ’’وسفیان من المدلسین و المدلس لا یحتج بعنعنته الا ان یثبت سماعه من طریق آخر‘‘ سفیان (ثوری) مدلسین میں سے ہیں اور مدلس کی عن والیروایت حجت نہیں ہوتی الا یہ کہ دوسری سند سے اس مدلس کی تصریح سماع ثابت ہو جائے۔ (عمدۃ القاری ج۳ ص۱۱۲ باب الوضوء من غیر حدث)

سفیان ثوری ضعیف راویوں سے تدلیس کرتے تھے۔ (دیکھئے میزان الاعتدال ۱۶۹/۲ ت۳۳۲۲)

ابو بکر الصیر فی کتاب الدلائل میں لکھتے ہیں: ’’کل من ظهر تدلیسه عن غیر الثقات لم یقبل خبره حتی یقول حدثنی او سمعت‘‘ ہر وہ شخص جس کی غیر ثقہ سے تدلیس ظاہر ہو تو اس کی صرف وہی خبر قبول کی جائے گی جس میں وہ حدثنی یا سمعت کے الفاظ کہے۔ (شرح الفیۃ العراقی / التبصرۃ والتذکرۃ ج۱ ص۱۸۴، ۱۸۵، علمی مقالات ۲۵۱/۱)

اس سے بھی معلوم ہوا کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ طبقہ ثالثہ کے مدلس ہیں، امام حاکم کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حافظ ابن حبان نے لکھا ہے: ’’واما المدلسون الذین هم ثقات و عدول فانا لا تحتج باخبارهم الا ما بینوا السماع فیما رووا مثل الثوری والاعمش وابی اسحاق و اضرابهم‘‘ اور وہ مدلس جو ثقہ و عادل ہیں جیسے (سفیان) ثوری، اعمش، ابو اسحاق وغیرہم، تو ہم ان کی صرف انھی احادیث سے حجت پکڑتے ہیں جن میں وہ سماع کی تصریح کرتے ہیں۔ (الاحسان ۹۲/۱، و نسخۃ محققہ ۱۶۱/۱)

تفصیلی بحث کے لئے نور العینین اور علمی مقالات (۲۵۱/۱) کا مطالعہ کریں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص312

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ