سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(118) محدثین اور تقلیدی فقہاء کا اختلاف

  • 13639
  • تاریخ اشاعت : 2014-12-22
  • مشاہدات : 599

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا فقہاء و محدثین میں اصولِ حدیث یا قبولِ حدیث میں کوئی اختلاف ہے؟ سنا ہے تدریب الراوی کے اندر ایسی کوئی بحث موجود ہے کہ فقہاء کے ہاں جو معیار احادیث کے قبول کرنے کا ہے وہ محدثین سے مختلف ہے۔ اس لئے ائمہ اربعہ کا خصوصاً امام ابوحنیفہ کا محدثین سے اختلاف رہا ہے۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فقہاء و محدثین میں اصولِ حدیث یا قبولِ حدیث میں کوئی اختلاف ہے؟ سنا ہے تدریب الراوی کے اندر ایسی کوئی بحث موجود ہے کہ فقہاء کے ہاں جو معیار احادیث کے قبول کرنے کا ہے وہ محدثین سے مختلف ہے۔ اس لئے ائمہ اربعہ کا خصوصاً امام ابوحنیفہ کا محدثین سے اختلاف رہا ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح حدیث کی پانچ شرائط: عدل، ضبط، اتصال، عدم شذوذ اور عدم علتِ قادحہ پر تو سب کا اتفاق ہے۔ بعض جزوی مسائل اور فروع میں محدثین کرام اور بعض اہلِ علم کا آپس میں اختلاف ہے مثلاً: 

(۱)          ثقہ کی زیادت عدم شذوذ کی صورت میں مطلقاً مقبول ہوتی ہے یا اسے مخالفت قرار دیا جاتا ہے۔

(۲)         بعض راویوں کی جرح و تعدیل میں اختلاف ہے۔

اگر فقہاء سے تقلیدی اور فرقہ پرست فقہاء مردانہ ہوں تو محدثین اور فقہاء ایک ہی گروہ کے مترادف صفاتی نام اور القاب ہیں، مثلاً امام بخاری رحمہ اللہ حدیث کے امام اور امیر المومنین فی الحدیث تھے، ان کے بارے میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:

’’وامام الدنیا فی فقہ الحدیث‘‘ (تقریب التہذیب: ۵۷۲۷)

یعنی امام بخاری زبردست محدث و فقیہ ہونے کے ساتھ فقہاء کے سردار تھے۔

صحیح  مسلم کے مصنف امام مسلم رحمہ اللہ مشہور محدث تھے، جن کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ’’عالم بالفقہ‘‘ فقہ کے عالم تھے۔ (تقریب التہذیب: ۶۶۲۳)

یہ کہنا کہ محدثین علیحدہ ہیں  اور فقہاء علیحدہ میں، غلط ہے۔

یہ تسلیم ہے کہ تقلیدی اور فرقہ پرست فقہاء علیحدہ چیز ہیں جو اپنی مرضی والی مرسل روایات کو حجت سمجھتے ہیں اور جب مرضی کے خلاف مرسل روایت ہو تو فوراً اسے مرسل یا منقطع کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ زمانۂ تدوین حدیث گزرنے کے بعد راویوں پر جرح و تعدیل کا عمل بھی ان کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔ مثلاً ابو انور شاہ کشمیری دیوبندی فرماتے ہیں، ’’مین نے ان لوگوں کو پزمایا ہے، یہ متناقض اصول بناتے ہیں، پس اس کے بعد ان سے اورکیا امید کی جا سکتی ہے، ان میں سے کوئی شخص جب اپنے مذہب کے موافق ضعیف حدیث پاتا ہے تو یہ قانون بنا دیتا ہے کہ تعددِ طرق کی وجہ سے ضعف اٹھ جاتا ہے اور جب اپنے مذہب کے خلاف کوئی صحیح حدیث پاتا ہے تو (فوراً) قانون بنا دیتا ہے کہ یہ شاذ ہے۔‘‘ الخ (فیض الباری ج۲ ص۳۴۸، راقم الحروف کی کتاب: تعدادِ رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ ص۵۰)

تدریس الراوی وغیرہ کتابوں میں بہت سے صحیح و ضعیف، ثابت و غیرثابت اور موافق و متعارض اقوال ملتے ہیں جن کا صرف ایک علاج ہے کہ ہر قول کی سند تلاش کرکے اس کی تحقیق کے بعد ہی اس سے استدلال کیا جائے اور غیر ثابت ہونے کی صورت میں اسے مردود اور ناقابل حجت قرار دے کر پھینک دیا جائے۔

تنبیہ:

تقلیدی فقہاء کے نام نہاد اصول کا ثبوت باسند صحیح ائمہ اربعہ سے نہیں ملتا مثلاً بعض الناس کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ یا امام مالک کے نزدیک مرسل حجت ہے حالانکہ اس بات کا کوئی ثبوت باسند صحیح یا حسن موجود نہیں ہے۔ تقلیدی فقہاء کی خواہشاتِ نفسانیہ کو چھوڑ کر اگر مسلم عند الفریقین محدثین و فقہائے محدثین کی طرف رجوع کیا جائے تو حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے کا مسئلہ فوراً حل ہو جاتا ہے اور اسی میں نجات ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص300

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ