سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(113) حدیث کی صحت یا ضعیف کا حکم کس بنیاد پر ہے؟

  • 13634
  • تاریخ اشاعت : 2014-12-21
  • مشاہدات : 637

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا کسی روایت پر صحیح، حسن یا ضعیف کا حکم لگانا، مبنی بر اجتہاد ہے؟
جیسا کہ یوسف لدھیانوی صاحب نے ’’اختلاف امت اور صراط مستقیم‘‘ میں امام ابن تیمیہؒ کے حوالہ سے اس بات کو توثق کی ہے اور نتیجہ یہ نکالا ہے کہ ائمہ و محدثین کے مابین اختلاف دراصل اسی اجتہاد کی وجہ سے ہے۔ یعنی کوئی امام یا محدث کسی روایت کو صحیح کہتا ہے تو دوسرا اس کو ضعیف کہتا ہے۔ ایک حسن کہتا ہے تو تیسرا صحیح وغیرھما………

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کسی روایت پر صحیح، حسن یا ضعیف کا حکم لگانا، مبنی بر اجتہاد ہے؟

جیسا کہ یوسف لدھیانوی صاحب نے ’’اختلاف امت اور صراط مستقیم‘‘ میں امام ابن تیمیہؒ کے حوالہ سے اس بات کو توثق کی ہے اور نتیجہ یہ نکالا ہے کہ ائمہ و محدثین کے مابین اختلاف دراصل اسی اجتہاد کی وجہ سے ہے۔ یعنی کوئی امام یا محدث کسی روایت کو صحیح کہتا ہے تو دوسرا اس کو ضعیف کہتا ہے۔ ایک حسن کہتا ہے تو تیسرا صحیح وغیرھما………


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح یا ضعیف روایات دو قسم کی ہیں:

اول:         ان کے صحیح یا ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔

حافظ ابو حاتم الرازی (متوفی ۲۷۷ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’واتفاق اهل الحدیث علی شی یکون حجة‘‘

اور اہل حدیث (محدثین) کا کسی چیز پر اتفاق کرنا حجت ہوتا ہے۔ (کتاب المراسیل ص۱۹۲ ت۷۰۳ ترجمۃ محمد بن مسلم الزہری)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ الحرانی (متوفی ۷۲۸ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’فاذا اجتمع اهل الفقه علی القول بحکم لم یکن الا حقا واذا اجتمع اهل الحدیث علی تصحیح حدیث لم یکن الا صدقا‘‘

پس فقہاء کسی قول پر اجماع کرلیں تو یہ حق ہی ہوتا ہے اور اگر محدثین کسی حدیث کی تصحیح پر اجماع کرلیں تو یہ حدیث (یقیناً) سچی ہی ہوتی ہے۔ (مجموع فتاویٰ ج۱ ص۹،۱۰)

معلوم ہوا کہ اجماعی حدیث کو ماننا اجتہادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اجماع کی پیروی ہے۔

دوم:         وہ حدیث جس کے صحیح یا ضعیف ہونے پر اختلاف ہے۔ اس میں جمہور کی تحقیق کو ترجیح دینا اجتہادی مسئلہ ہے۔

یاد رہے کہ جس اصول کو بھی اختیار کیا جائے پھر اس پر عمل ضروری ہے ورنہ قول و فعل میں تضاد کا دوسرا نام  منافقت ہے۔

تنبیہ:

(۱):         عبدالوھاب بن علی السبکی (متوفی ۷۷۱ھ) لکھتے ہیں:

’’ان عدد الجارح اذا کان اکثر قدم الجرح الجماعا‘‘

بے شک اگر جارحین کی تعداد زیادہ ہو تو بالاجماع جرح مقدم ہوتی ہے۔ (قاعدۃ فی الجرح و اتعدیل ص۵۰)

اس سے معلوم ہوا کہ جس راوی کو جمہور محدثین مجروح سمجھیں تو ماتخرین کے نزدیک یہ راوی مجروح ہی ہوتا ہے۔

حدیث کے صحیح یا ضعیف ہونے پر اختلاف اجتہادی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حنفی حضرات اپنے ےمطلب کی حدیث کو صحیح اور دوسروں کی حدیث کو ضعیف کہہ کر کام چلالیں۔ اس میں بھی راجح یہی ہے کہ ائمہ محدثین کی اکثریت جس طرف ہے اسے ہی ترجیح دی جائے گی۔

تنبیہ:

(۲):          صاحب ’’اختلاف امت اور صراط مستقیم‘‘ کی پارٹی والے لوگ صحیحین کی تلقی بالقبول والی اجماعی احادیث کو رد کرکے اپنے اکابر کے افعال و اقوال کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثلاً دیکھئے ارشاد القاری ص۴۱۲

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص293

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ