سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(108) حافظ قرآن اور رشتہ داروں کی شفاعت

  • 13629
  • تاریخ اشاعت : 2014-12-21
  • مشاہدات : 447

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا یہ صحیح ہے کہ حافظ قرآن قیامت کے دن رشتہ داروں کی شفاعت کرے گا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا یہ صحیح ہے کہ حافظ قرآن قیامت کے دن رشتہ داروں کی شفاعت کرے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ۱۴۸/۱ ح۱۲۶۸ ح۱۲۷۸) ترمذی (۲۹۰۵) ابن ماجہ (۲۱۶) نے حفص بن سلمان ابو عمر ابزاز عن کثیر بن زاذان عن عاصم بن ضمرہ عن علی (بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) کی سند سے روایت ہے کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ’’من قرا القرآن و حفظہ ادخلہ اللہ الجنۃ و شفعہ فی عشرۃ من اھل بیتہ، کلھم قد امتوجب النار‘‘ جس نے قرآن پڑھا اور اسے یاد کر لیا (پھر اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھا) اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ اور اس کے دس گھر والوں میں، جن پر جہنم واجب ہوگئی اس کی شفاعت قبول کرے گا۔ (نیز دیکھئے مشکوٰۃ المصابیح: ۲۱۴۱ و مابین القوسین منہ)

اس روایت کے بعد امام ترمذی نے لکھا ہے کہ ’’ھذا حدیث غریب……… ولیس لہ اسناد صحیح و حفص بن سلیمان ابو عمر بزار کو فی یصعف فی الحدیث۔‘‘ یہ حدیث غریب ہے…… اور اس کی کوئی صحیح سند نہیں ہے اور حفص بن سلیمان ابو عمر البزاز الکوفی کو حدیث میں ضعیف سمجھا جاتا ہے۔

حفص بن سلمان مذکور کے بارے میں امام بخاری نے فرمایا: ’’ترکوہ‘‘

محدثین نے اسے ترک کر دیا ہے۔ (کتاب الضعفاء للبخاری: ۷۳ بتحقیقی)

امام نسائی نے فرمایا: ’’متروک الحدیث‘‘ متروک الحدیث ہے۔ (کتاب الضعفاء للنسائی:۱۳۴) 

اس راوی پر مزید جروح کے لئے دیکھئے تہذیب الکمال للمزی (۳۶/۵، ۳۷)

تنبیہ:

باسند صحیح یہ ثابت نہیں ہے کہ امام وکیع نے اسے ثقہ کہا ہے، اور اگر یہ ثابت ہو تو اس کا تعلق قراءت سے ہے، یعنی وہ قراءت میں ثقہ ہے اور حدیث میں متروک ہے۔ اس کے دوسرے راوی کثیر بن زاذان کے بارے میں امام ابو حاتم الرازی اور ابو زرعہ الرازی نے کہا: ’’شیخ مجھول‘‘ شیخ مجہول ہے۔ (الجرح و التعدیل ۱۵۱/۷)

لہٰذا ثابت ہوا کہ روایت مذکورہ سخت ضعیف ہے، الشیخ الالبانی نے بھی اسے ’’ضعیف جدا‘‘ (سخت ضعیف) قرار دیا ہے۔ دیکھئے ضعیف الترغیب و الترہیب (۴۳۲/۱) و ضعیف الجامع (۵۷۶۱)

جرح کے بغیر سخت ضعیف روایت کا بیان کرنا حلال نہیں ہے اور تعجب ہے ان واعظین پر جو تکمیل حفظ قرآن کی مجالس میں یہ روایت مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔

ضعیف روایت کے بارے میں علماء کے دو مؤقف ہیں:

(۱)          یہ فضائل و مناقب میں بھی حجت نہیں ہے۔ یہ مؤقف ابن العربی وغیرہ کا ہے اور یہی راجح ہے۔

(۲)         یہ فضائل و مناقب میں حجت، مستحب یا جائز ہے۔ یہ موقف نووی وغیرہ کا ہے اور مرجوح ہے۔

ثانی الذکر کے مؤقف کی تشریح میں حافظ ابن حجر العسقلانی یہ شرط لگاتے ہیں:

’’الاول متفق علیه ان یکون الضعف غیر شدید‘‘ پہلی شرط یہ سب کا اتفاق ہے کہ اس روایت کا ضعیف شدید نہ ہو۔ صالقول البدیع للسخاوی ص۲۵۸)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص284

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ