سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(106) سیدنا اویس القرنی رحمۃ اللہ علیہ کا قصہ

  • 13627
  • تاریخ اشاعت : 2014-12-21
  • مشاہدات : 722

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مجھے کافی عرصہ سے حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ سے متعلق کچھ سوالات کے جواب معلوم کرنا تھے مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔

(۱)          جنگ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہونے پر آپ یعنی اویس قرنی نے اپنے تمام دانت توڑ لیے کیا یہ درست ہے۔ کیا ایسا کرنا اور خود کو نقصان پہچانا جائز ہے؟

(۲)         نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ راضی اللہ عنھم خاص طور سے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو فرمایا کہ آپ ان سے دعا کروایا کریں؟ کیا یہ درست ہے؟ جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما کا رتبہ ان سے بلند ہے اور ان کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہے۔

(۳)           آپ رحمہ اللہ اپنے والدین کی خدمت میں مشغولیت کے باعث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکے۔ والدین کی خدمت اپنی جگہ درست۔ میں نے کہیں پڑھا تھا غالباً یوں کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کی اولاد اس کے ماں باپ سے زیادہ اس کو عزیز نہ ہو جاؤں۔ مہربانی فرما کر اس کی بھی تصحیح فرما دیجئے اور جواب بھی تحریر فرمائیے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(۱) یہ روایت کہ سیدنا اویس بن عامر القرنی رحمہ اللہ نے اپنے تمام دانت توڑ دیئے تھے، بے اصل اور من گھڑت روایت ہے جو کہ جاہل عوام میں مشہور ہوگئی ہے۔ محدثین کی کتابوں میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔

اپنے آپ کو نقصان پہنچانا جائز نہیں ہے۔

(۲)         سیدنا اویس القرنی رحمہ اللہ کے بارے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف تھا لیکن صحیح و محقق بات یہی ہے کہ ان کا وجود ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«ان خیر التابعین رجل یقال له اویس، وله والدة، وکان به بیاض، فمروه فلیستغفرلکم» تابعین میں سے بہترین انسان وہ شخص ہے جسے اویس کہتے ہیں، اس کی والدہ (زندہ) ہے اور اس (کے جسم) میں سفیدی ہے۔ اس سے کہو کہ تمہارے لئے دعا کرے۔ (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل اویس القرنی ح۲۵۴۲ و تقریم دارالسلام: ۶۴۹۱)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اویس رحمہ اللہ مستجاب الدعوات تھے یعنی اللہ تعالیٰ آپ کی دعا خاص طورپر قبول فرماتا تھا۔

صحیح مسلم کی دوسری روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی والدہ کی خدمت کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر نہ ہوسکے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی شامل تھی۔

روایات اویس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا کوئی ذکر نہیں تاہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ان سے استغفار (دعا کی درخواست) کرانا مذکور ہے۔ (صحیح مسلم، ترقیم دارالسلام: ۶۴۹۲) 

کسی افضل شخص کا مفضول شخص سے دعا کروانا توہین کی بات نہیں ہوتی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے افضل تھے مگر ان سے آپ کا (استسقاء کی) دعا کروانا ثابت ہے۔ دیکھئے صیح بخاری (۱۰۱۰، ۳۷۱۰)

تنبیہ بلیغ:

سیدنا اویس رحمہ اللہ بذاتف خود دوسرے مفضول اور غیر افضل افراد سے دعا کرواتے تھے۔ دیکھئے صحیح مسلم (ح۶۴۹۲ ترقیم دارالسلام)

لہٰذا اس قسم کی باتوں سے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔

(۳)         اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ماں باپ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرے۔ (دیکھئے صحیح بخاری: ۱۵ و صحیح مسلم: ۴۴)

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام لانے والے تمام تابعین پر یہ فرض و واجب تھا کہ وہ ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کرتے اگرچہ ان کے پاس حاضر نہ ہوسکنے کا شرعی عذر بھی تھا۔ دوسرے یہ کہ راقم الحروف نے حدیث کی روشنی میں عرض کر دیا ہے کہ اویس رحمہ اللہ کا مدینہ منورہ تشریف نہ لانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے تھا ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیتے کہ مدینہ حاضر ہو جاؤ۔ واللہ اعلم

تنبیہ:

اویس قرنی والی روایت امام مسلم اور جمہور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ امام بخاری کا اس پر جرح کرنا صحیح نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص278

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ