سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(93) حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں

  • 13614
  • تاریخ اشاعت : 2014-11-30
  • مشاہدات : 1628

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

راقم الحروف کو ایک حدیث کے بارے میں چند اشکالات ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ ان کے ترتیب وار جوابات اپنے ماہنامہ الحدیث میں دیں۔

ترمذی کی روایت میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) جوانانِ اہل جنت کے سردار ہوں گے۔‘‘

اس حدیث میں چند اشکالات ہیں:

۱۔             جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا، کیا اس وقت حسن و حسین رضی اللہ عنہما نوجوان تھے؟

۲۔            ہمارے علماء ک بموجب جنت میں سب ہی نوجوان ہوں گے۔ ان میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ، چچا جعفر طیار رضی اللہ عنہ بھی ہوں گے۔ کیا یہ دونوں بچے ان کے بھی سردار ہوں گے؟

۳۔           اسی طرح انبیاء علیہم السلام بھی سب نوجوان ہوں گے۔ اس روایت کی رو سے کیا حضرات حسنین رضی اللہ عنہما انبیاء کے بھی سردار ہوں گے؟

۴۔           یہ مسلمہ امر ہے کہ ہمیشہ ایک گروہ کا صرف ایک ہی سردار ہوتا ہے۔ یہ بات کہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما دونوں سردار ہوں گے محل نظر ہے۔

۵۔           اسلام میں چونکہ شخصیت پرستی نہیں ہے اور اللہ کے نزدیک اکرام کی بنیاد تقویٰ پر ہے اور کسی شخصیت کا اعتراف اس کی خدمات کے پیش نظر ہوتا ہے اسی لئے اگر کسی کو جنت کا سردار بنانا ہی تھا تو ان کو سردار بنانا چاہئے تھا جنھوں نے جنگ بدر میں حصہ لے کر ابوجہل کو قتل کیا تھا اور اس طرح تاریخ عالم کا دھارا بدل دیا تھا۔

۶۔             امام ترمذی کی ایک اور روایت ہے: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ سامنے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں جنت میں تمام اولین و آخرین میں جتنے بوڑھے ہوں گے سب کے سردار ہوں گے بجز انبیاء و رسل کے۔ اے علی! ان دونوں کو مطلع نہ کرنا۔ یہ بھی خوب ہے کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی ذات کا مسئلہ آیا تو انبیاء و رسل خارج کر دیئے گئے اور جب حسنین کا معاملہ آیا تو بات گول کر دی گئی۔ پھر ہر دو روایات سے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ خود حضرت علی جوانوں کی صف میں داخل ہوں گے یا بوڑھوں کی وہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قیادت قبول کریں گے یا اپنے صاحب زادگان کی؟ ’’ان دونوں کو مطلع نہ کرنا‘‘ والی بات بھی بڑی دلچسپ ہے۔ یہ راز پھر دنیا میں کیسے ظاہر ہوگیا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

روایت مذکورہ ’’حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں‘‘ بالکل صحیح ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث: ۲۶ ص۶۳

اس کے بعد اشکالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱:             نوجوان نہیں تھے۔ وفاتِ نبوی کے وقت حسین رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباًً ۵ سال اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباً ۸ سال تھی۔

۲:            سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو نوجوانی میں فوت نہیں ہوئے بلکہ ۶۳ سال کی عمر میں ۴۰ھ کو شہید ہوئے تھے۔ جنتی نوجوانو کے سردار کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر بن ابی طالب الطیار رضی اللہ عنہ کے بھی سردار ہیں۔ اپنی طرف سے بے ثبوت بات گھڑ کر بیان کرنا انتہائی مذموم حرکت ہے جس کا حبیب الرحمن کاندہلوی اور عزیز احمد صدیقی وغیرہما جیسے کذابین و منکرین حدیث ہی ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ ہمیں ان لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

۳:            یہ کہنا کہ انبیاء کرام کے بھی سردار ہوں گے، غلط باطل اور مردود ہے۔

۴:            جنت میں دنیا والی سرداری نہیں، یہ تو ایک اعزاز ہے۔ جنت میں تو سب بااختیار اور اپنی مری کے مالک ہوں گے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ابوبکر و عمر (رضی اللہ عنہما) تمام بڑی عمر والے جنتیوں کے سردار ہوں گے سوائے نبیوں اور رسولوں کے۔ (سنن ابن ماجہ: ۱۰۰ و سندہ حسن و صححہ ابن حبان، الموارد: ۲۱۹۲)

۵:            یہ سوال سرے سے باطل ہے کیونکہ اسلام قرآن و حدیث کی اطاعت کا نام ہے۔ منکرینِ حدیث کی عقلی موشگافیاں گوزخر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنھیں جنتی نوجوانوں کا سردار قرار دیا ہے، اس کا انکار کرنا صحیح حدیث کا انکار ہے۔ یہ ہونا چاہئے تھا اور وہ ہونا چاہئے تھا، اس میں اللہ تعالیٰ کسی کا پابند نہیں ہے لہٰذا منکرینِ حدیث کا فلسفہ یہاں مردود ہے۔

۶:            سنن ترمذی والی روایت بلحاظِ سلند (حارث الاعوار کی وجہ سے) ضعیف ہے لیکن سنن ابن ماجہ والی روایت صحیح ہے ایک روایت میں کسی کی فضیلت سے دوسرے کی تنقیص کشید کرنا انتہائی غلط حرکت ہے۔ اسی علمم کلام سے کام لے کر اگر کوئی شخص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل لے کر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی توہین و تنقیص شروع کردے تو یہ حرکت ہر لحاظ سے باطل ہوگی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو سیدنا ابوبکر و یدنا عمر رضی اللہ عنہما کی صف میں ہوں گے۔ لیکن ہمارا کیاہوگا، ہم کہاں ہوں گے؟ اپنی خیر منانی چاہئے صحیح احادیث کے انکار کی وجہ سے اگر جہنم کا فیصلہ ہو گیا تو اس دن اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا؟ یاد رہے کہ (زمانۂ تدوین حدیث کے بعد) ایک صحیح و ثابت حدیث کا انکار کرنے والا بھی زندیق ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص254

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ