سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(92) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں

  • 13613
  • تاریخ اشاعت : 2014-11-30
  • مشاہدات : 2612

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

راقم الحروف کو صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ایک حدیث کی وضاحت درکار ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ اس کی وضاحت ماہنامہ ’’الحدیث‘‘ میں شائع فرما دیں۔ جزا کم اللہ خیرا۔

سیدۃ النساء کون؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت شروع ہوئی تو ایک دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے آئیں۔ آپ نے مرحبا کہہ کر ان کا استقبال کیا اور ان کو برابر بٹھا لیا اور ان سے سرگوشی میں کچھ کہا جس پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں۔ دوبارہ سرگوشی فرمائی تو سیدہ فاطمہ ہنسنے لگیں۔ میں (سیدہ عائشہ) نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ سوال کیا کہ کیا راز و نیاز کی باتیں ہوئیں؟ یدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشا نہیں کرسکتی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو گفتگو کی تھی وہ بیان کرو۔ انھوں نے کہا: اب کوئی حرج نہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار فرمایا تھا کہ ’’میری موت قریب آگئی ہے۔‘‘ اس پر میں رونے لگی۔ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی فرمائی ’’کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم مومنین کی عورتوں کی سردار ہو یا امت کی عورتوں کی سردار ہو؟ 

(صحیح مسلم: ۲۴۵۰) اور صحیح بخاری (۶۲۸۵، ۶۲۸۶) میں آخری الفاظ یہ ہیں: ’’کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم جتنی عورتوں کی سردار ہو یا مومنین کی عورتوں کی؟‘‘ یہاں چند امور غور طلب ہیں جو درج ذیل ہیں:

۱۔    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطابات فرمائے اس میں خود راویوں کا اختلاف ہے۔

۲۔   ایک بیٹی جس کو یہ اطلاع دی گئی ہے کہ عنقریب اس کے والد کا انتقال ہونے والا ہے اور وہ اس بات پر رو رہی ہے کیا محض خطاب دینے سے وہ خوش ہو جائے گی؟

۳۔   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات قریب ہونے کی اطلاع مختلف مواقع پر ظاہر کر دی تھی یہ کوئی ایسی بات نہ تھی جو مخفی ہو۔

۴۔    کیا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا و دیگر ازواج مطہرات کی بھی سردار ہوں گی؟

۵۔   رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ کے مناقب بیان فرمائے اور فضیلت کا اظہار بھی فرمایا تو کسی موقع پر بھی اخفاء سے کام نہیں لیا۔ یہ ایسی خاص بات نہ تھی جو وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک ظاہر نہیں کی جا سکتی تھی۔

۶۔   فراس (راوی) کی روایت میں صراحت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سرگوشی کے بارے میں پوچھا حالانکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حالت نہیں رہی تھی کہ کھڑے ہوسکیں۔

۷۔   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار صاحبزادیاں تھیں، جن میں سے سیدہ زینب اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے اسلام کی خاطر مصائب برداشت کئے۔ ان سب کو چھوڑ کر صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سیدۃ النساء کہنا محل نظر ہے۔!

حقیقی سیدۃ النساء کون؟ اب قرآن کی رو سے حقیقی سیدۃ النساء کون ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

۱۔   اللہ تعالیٰ نے متعدد بار ازواج مطہرات کو ’’یا نساء النبی‘‘ کہہ کر خطاب کیا ہے پورے قرآن میں کس مقام پر بھی ’’یابنات النبی‘‘ کہہ کر صاحبزادیوں کو مخاطب نہیں کیا گیا اور نہ کسی جگہ ان کی فضیلت کا ذکر ہے۔ یہ امر خود اس بات کی دلیل ہے کہ امت کی خواتین میں ذکر کے قابل صرف ازواج مطہرات تھیں۔ اگر کوئی اور خاتون اس مقام پر پہنچتی تو اس کا بھی ذکر کیا جاتا۔ حالانکہ سابقہ امتوں میں سے مریم بنت عمران اور آسیہ امراۃ فرعون کاذکر کیا۔ ازواج مطہرات کی فضیلت کی صرف یہی دلیل کافی ہے اور ازروئے قرآن ازواج مطہرات کا جنتی ہونا یقینی ہے۔ (سورۂ احزاب)

۲۔  جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کے مقابلے میں ہر عمل کا دوہرا اجر ملتا ہے، اسی طرح ازواج مطہرات کے ساتھ اسی اصول کو بیان کرنے سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ازواج مطہرات تمام امت کی رہنما ہیں اور ان کی اقتدا امت پر لازم ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ کوئی امتی خواہ کتنا ہی بلند مقام حاصل کرلے ازواجِ مطہرات کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا اس لئے کہ جو عمل سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہم اجمعین انجام دیں تو انھیں اکہرا (ایک) اجر ملتا ہے اور وہی عمل اگر سیدہ عائشہ یا ام حبیبہ رضی اللہ عنہا انجام دیں تو انھیں دوہرا اجر ملتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ کوئی امتی ازواج مطہرات کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا۔

۳۔    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو بشرطیکہ تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ (الاحزاب: ۳۲)

اب اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ سابقہ امتوں میں سے مریم بنت عمران، آسیہ امرأۃ فرعون یا اس امت میں سیدہ فاطمہ کو امہات المومنین میں سے کسی پر فضیلت حاصل ہے تو یہ یقیناً قرآن کا انکار ہے۔ دنیا کی کسی عورت کو امہات المومنین کے برابر قرار دینا ہی گناہِ عظیم ہے کجا کہ ان پر فوقیت دینا۔

۴۔   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’مردوں میں تو بہت کامل گزرے ہیں لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ امرأۃ فرعون کے علاوہ کوئی کامل نہیں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو تمام عورتوں پر ایسی ہی فضیلت ہے جیسے ثرید کو کھانوں پر‘‘

اس حدیث میں اس بات کی نفی فرمائی گئی ہے کہ خواتین میں ان دو خواتین کے علاوہ کوئی کامل نہیں ہوئیں۔ اس فرمان سے تمام خواتین خارج ہوگئیں لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہ کو مستثنیٰ قرار دینا اور انھیں دنیا کی ساری عورتوں پر فضیلت دینا، اس امر کا ثبوت ہے کہ اصل مقام فضیلت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حاصل ہے اور یہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتا۔

۵۔   قرآنِ مجید میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ازواجِ مطہرات سے شادی کرنے کی ممانعت کر دی گئی۔ ایسی کوئی ممانعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں کے نکاح سے متعلق نہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی صاحبزادیوں کا دوسروں سے نکاح کرنا اور اللہ تعالیٰ کا لوگوں کو منع کرنا کہ آپ کی ازواج سے نکاح نہ کیا جائے، اس امر کا ثبوت ہے کہ ازواج مطہرات صاحبزادیوں کے مقابلے میں ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہیں۔

۶۔      ازواجِ مطہرات کی ایک اور فضیلت بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’نبی تو مومنین کے لئے ان کی اپنی ذات پر مقدم ہیں اور نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘ (الاحزاب: ۶)

لہٰذا تمام امت پر بشمول سیدنا علی و سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا امہات المومنین کی اطاعت فرض ہوئی۔ 

۷۔    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سب سے بڑا مقام یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کی براءت میں سورۃ النور کی ابتدائی آیات نازل فرمائیں۔

۸۔  طویل حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر امہات المومنین کی وکیل سیدہ فاطمہ کو فرمایا: کیا تو اس (سیدہ عائشہ) سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟ سیدہ فاطمہ نے عرض کیا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس (سیدہ عائشہ) سے محبت کر۔ یہاں پر سیدہ عائشہ کی فضیلت اظہر من الشمس ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سب سے پہلے یہ عرض ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ’’سیدة نساء اهل الجنة‘‘ والی حدیث بالکل صحیح ہے۔ اسے امام بخاری و مسلم کے علاوہ امام احمد بن حنبل (۲۸۲/۶) ابن ماجہ (۱۶۲۱) نسائی (فضائل الصحابہ: ۲۶۳، السنن الکبریٰ: ۷۰۷۸، ۶۳۶۸) ابوداودڈ الطیالسی (۱۳۷۳) ابن سعد (الطبقات ۲۴۷/۲۔ ۲۴۸) ابو یعلی الموصلی (۶۷۴۴، ۶۷۴۵) طحاوی (شرح مشکل الآثار: ۵۹۴۵، تحفۃ الاخیار ۹۸/۹۔ ۹۹) طبرانی (الکبیر۴۱۹/۲۲ ح۱۲۰۳۲، ۱۰۳۳) اور بیہقی (دلائل النبوۃ ۳۶۴/۶، ۱۶۴/۷، ۱۶۵) وغیرہم نے ’’فراس عن الشعبی عن مسروق عن عائشۃ‘‘ رضی اللہ عنہا کی سند سے بیان کیا ہے۔ نیز دیکھئے الموسوعۃ الحدیثیۃ (ج۲۴ ص۱۰، ۱۱)

فراس بن یحیی الہمدانی کو جمہور محدثین نے ثقہ قرار دیا ہے۔ اسماء الرجال کے جلیل القدر امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے بھی فراس کو ثقہ قرار دیا ہے۔ (تاریخ عثمان بن سعید الدارمی: ۷۱)

امام اہل سنت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فراس کو ثقہ کہا۔ (مسائل ابن ہانی ۲۱۳/۲، ۲۱۴)

جمہور کو توثیق کے مقابلے میں بعض الناس کی جرح مردود ہے۔

عامر الشعبی ثقہ مشہور فقیہ فاضل تھے۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: ۳۰۹۲)

مسروق بن الاجدع الہمدانی رحمہ اللہ: ثقہ فقیہ عابد تھے۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: ۶۶۰۱)

معلوم ہوا کہ یہ سند بالکل صحیح ہے۔

اس مفہوم کی روایت مسروق کے علاوہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کر رکھی ہے۔ دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (۱۲۶/۱۲ ح۳۲۲۶۰ و سندہ حسن) فاضئل الصحابۃ للنسائی (۲۶۱ والسنن الکبریٰ لہ: ۸۳۶۶) صحیح ابن حبان (الاحسان: ۶۹۱۳ دوسرا نسخہ: ۶۹۵۲)

ابو سلمہ ثقہ مکثر (کثرت سے حدیثیں بیان کرنے والے) ہیں۔ دیکھئے تقریب التہذیب (۸۱۴۲) اور ان تک سند حسن لذاتہ ہے۔ محمد بن عمرو بن علقمہ اللیثی جمہور کے نزدیک موثق ہیں لہٰذا حسن الحدیث ہیں۔ ’’سیدۃ نساء اھل الجنۃ‘‘ کے مفہوم والی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ درج ذیل صحابہ سے بھی مروی ہے:

۱۔     حذیفہ رضی اللہ عنہ (النسائی فی الکبری: ۸۳۶۵ و سندہ حسن، المستدرک للحاکم ۱۵۲/۳ وصححہ ووافقہ الذہبی)

۲۔    ابو سعید الخذری رضی اللہ عنہ (المستدرک للحاکم ۱۵۴/۳ ح۴۷۳۳ و سندہ حسن و صححہ الحاکم ووافقہ الذہبی

۳۔       عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ (احمد ۲۹۳/۱ ح۲۶۶۸، و سندہ صحیح، ۳۱۶/۱، ۳۲۲، مسند عبد بن حمید: ۵۹۷، النسائی فی الکبریٰ: ۸۳۶۴، الطحاوی فی مشکل الآثار، تحفۃ الاخیار ۱۰۱/۹ ح۶۴۰۵، ابو یعلی: ۲۷۲۲، المستدرک ۱۶۰/۳ ح۴۷۵۴ و صححہ الحاکم ووافقہ الذہبی)

۴۔    انس بن مالک رضی اللہ عنہ (الآحادو المثانی لابن ابی عاصم: ۲۹۶۱ و سندہ حسن، والطبرانی فی تفسیرہ ۲۶۳/۳، الکامل لابن عدی ۵۳۳/۴، الکبیر للطبرانی ۴۰۲/۲۲ ح۱۰۰۴)

اس روایت کی سند حسن لذاتہ ہے۔ اس کے شواہد کے لئے دیکھئے مسند احمد (۱۳۵/۳) سنن الترمذی (۳۸۷۸ وقال: ’’صحیح‘‘ وھو صحیح بالشواہد) مصنف عبدالرزاق (۲۰۹۱۹) و صحیح ابن حبان (الاحسان ۶۹۵۱/۶۹۱۲، ۷۰۰۳/۶۹۶۴) المستدرک للحاکم (۱۵۷/۳ ح۴۷۴۵) ’’من حدیث قتادۃ عن انس رضی اللہ عنہ‘‘ فضائل الصحابہ لاحمد (۱۳۳۲، ۱۳۳۸) والمستدرک (۱۵۷/۳، ۱۵۸) ’’من حدیث الزھری عن انس رضی اللہ عنہ‘‘

۵:      ام سلمہ رضی اللہ عنہا (سنن الترمذی: ۳۸۷۳ وقال: ’’حسن غریب‘‘ و سندہ حسن)

معلوم ہوا کہ یہ روایت یقینی و قطعی طور پر صحیح ہے۔ والحمد للہ

اس تمہید کے بعد غور طلب امور کی وضاحتیں درج ذیل ہیں:

(۱)     راویوں کا بعض اختلاف قطعاً مضر نہیں ہے کیونکہ مفہوم ایک ہے۔

(۲)         جی ہاں! اسے سو فیصد یقین ہے کہ اس کا ابا سچا رسول ہے جس کی ہر بات برحق ہے۔ اپنے ابا سے ملاقات پر ہر مومن کو خوشی ہوتی ہے اور ہر مومن کا مطلوب و مقصود اخروی کامیابی ہی ہے۔

(۳)     وفات کے قریب الوقوع ہنے کی خبر تو آپ نے بیان فرما دی تھی۔ اس حدیث میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات اور ’سیدة نساء اهل الجنة‘‘ کی خبر بھی بیان فرما دی جو مخفی نہ رہی بلکہ حدیث کی کتابوں میں صحیح سند کے ساتھ مدون ہوکر ہمیشہ کے لئے حجت قاطعہ بن گئی۔

(۴)      اس حدیث میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے اور یہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ عام میں سے تخصیص ہوسکتی ہے لہٰذا مفہوم یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جنت کی عام عورتوں کی (باستثنائے اپنی والدہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا و امہات المومنین) سردار ہوں گی۔ واللہ اعلم

(۵)      رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی ہے جب آپ نے مناسب سمجھا بیان فرما دیا۔ آپ نے ساری باتیں ایک دفعہ ہی تو بیان نہیں فرمائیں بلکہ مختلف مواقع و مختلف مجالس می علم و حکمت ک ےموتی بہا دیئے۔ فداہ ابی و امی

(۶)         یہ کہنا کہ ’’مرض وفات میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حالت نہیں رہی تھی کہ کھڑے ہوسکیں‘‘ بلادلیل ہے۔ اسی بیماری کی حالت میں آپ کا مسجد نبوی میں نماز کے لئے چل کر جانا اور بیٹھ کر نماز پڑھانا ثابت ہے لہٰذا فراس راوی کی روایت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

(۷)  بعض صحابہ کی فضیلتوں کا دوسرے صحابہ کی فضیلتوں سے مقابلہ کرنا عقل مندی نہیں ہے۔ یہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ انبیاء و رسل میں بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے لہٰذا اگر بیٹیوںمیں سے ایک کو دوسری بیٹیوں پر کچھ فضیلت ثابت ہوگئی تو اعتراض کی کیا بات ہے؟ اب ’’حقیقی سیدۃالنساء کون؟‘‘ کے سلسلے میں غور طلب امور پر تبصرہ درج ذیل ہے:

(۱)          قرآن میں ’’یا نساء النبی‘‘ کے خطاب اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن کے جتنی ہونے کا یہ مطلب کہاں سے آگیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ججنتی عورتوں کی سردار نہیں ہیں؟

(۲)   ازواجِ مطہرات کو دوہرا اجر ملنے کا یہ مفہوم کس طرح بن گیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ جتنی عورتوں کی سردار نہیں ہیں؟ کچھ تو غور کریں!

یاد رہے کہ یہ کہنا ’’جو عمل سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حسن اور یدنا حسین رضی اللہ عنہما انجام دیں تو انھیں ایک اجر ملتا ہے‘‘ بالکل بلادلیل اور بے ثبوت ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

(۳)   نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں (رضی اللہ عنھن) کی فضیلت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جنتی عورتوں کی سردار نہیں ہیں۔ کیا جنت میں دنیا والی سرداری ہوگی؟ کیا کوئی بدنصیب یہ کہہ سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جنتی عورتوں کی سردار کہہ کر قرآن کا انکار کر دیا تھا؟ خاص دلیل کے مقابلے میں عمومات سے استدلال کرکے جو مسئلے گھڑنا ان لوگوں کا کام ہے جو دراصل قرآن و حدیث پر ایمان نہیں رکھتے۔ 

(۴)    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت نہیں ہے۔ خاص کے مقابلے میں عام دلیل پیش کرنا غلط ہوتا ہے۔

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ، اہل بیت اور ازواجِ مطہرات کو بے شمار فضیلتیں حاصل ہیں اور سب جنت میں راضی خوشی رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی وہ اللہ سے راضی۔

یہ کہنا ’’اصل مقام فضیلت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حاصل ہے اور یہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں ہوسکتا‘‘ بے دلیل ہے۔ کیا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا؟ بے دلیل باتیں لکھنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے لہٰذا بات گول نہیں کی گئی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کے ساتھ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کا ذکر بھی صحیح حدیث میں آیا ہے۔ دیکھئے مسند احمد (۲۹۳/۱ ح۲۶۶۸ و سندہ صحیح)

(۵) نکاح کی ممانعت سے یہ مطلب کدھر سے آنکلا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جنتی عورتوں کی سردار نہیں ہیں؟ سبحان اللہ!

(۶)  کسی مومن کے نزدیک ازواجِ مطہرات کی فضیلتوں کا انکار نہیں بلکہ ہر صحیح و ثابت فضیلت واجب التسلیم ہے۔ سیدنا امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ اور تمام مومنین کے نزدیک رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مائیں ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جنتی عورتوں کی سردار نہیں ہیں۔ اہل ایمان کا یہ امتیاز خصوصیت ہے کہ وہ صحیح احادیث پر ایمان لاتے ہیں اور سیدۃ نساء اہل الجنۃ والی حدیث بالکل صحیح، یقینی اور قطعی ہے لہٰذا اس پر ایمان لانا فرض ہے۔ منکرین حدیث کے راستوں پر وہی لوگ گامزن ہیں جو قرآن و حدیث پر ایمان نہیں لاتے۔

(۷)    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ فضیلت بالکل صحیح و ثابت ہے۔

(۸)    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت والی حدیث بھی صحیح و ثابت ہے اور اسی طرح یہ حدیث بھی صحیح و ثابت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص247

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ