سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(60) لے پالک کے باپ کی جگہ اپنا نام لکھنے کا حکم

  • 13581
  • تاریخ اشاعت : 2014-11-24
  • مشاہدات : 362

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک دوست کے لےپالک بیٹے کا مسئلہ ہے کہ حقیقی والد کا پتہ نہیں تو ولدیت میں اپنانام لکھواسکتاہے۔؟

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک دوست کے لےپالک بیٹے کا مسئلہ ہے کہ حقیقی والد کا پتہ نہیں تو ولدیت میں اپنانام لکھواسکتاہے۔؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لےپالک یا منہ بولا بیٹاحقیقی اولادکی طرح نہیں ہوسکتا ہے۔اس سے پردہ بھی کیا جائے گا اور وہ وراثت کا بھی حقدار نہیں ہوگا۔جب وہ اس کا حقیقی بیٹا ہے ہی نہیں ہے تو پھر اس کے باپ کی جگہ پر اپنا نام کیسے لکھوا سکتا ہے۔تاریخ اسلام میں اسی قسم کا ایک واقعہ گزر چکا ہے کہ زیاد بن ابیہ جو ابو سفیان کا ولد الزنا تھا ،اسے تاریخ اسلامی میں زیاد بن ابیہ یعنی زیاد اپنے باپ کا بیٹا کہہ کر پکارا جاتا ہے۔اس لئے بہتر یہ ہے کہ وہ اس کے ولدیت کی جگہ اپنا نام لکھنے کی بجائے بن ابیہ لکھوا دے۔ورنہ اپنا نام لکھوانے سے ایک تو نسبت غلط ہوجائے گی اور دوسرا رواثت کے متعدد مسائل پیدا ہوں گے۔تفصیل کے لئے فتوی نمبر (11136)کلک کریں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ