سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(52) غصے میں دی گئی طلاق کا حکم

  • 13573
  • تاریخ اشاعت : 2014-11-24
  • مشاہدات : 592

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی آدمی غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور بعد میں پچھتائے تو اس کا کیا حل ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غصے والی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے، دلیل وہ حدیث ہے: «ثلاث جدهن جدوهزلهن جلد: النکاح والطلاق و الرجعة» تین چیزیں جان بوجھ کر کریں یا مذاق میں کریں، واقع ہو جاتی ہیں: نکاح، طلاق اور رجعت۔ (سنن ابی داود: ۲۱۹۴)

اس کی سند حسن ہے، اسے امام ترمذی نے ’’حسن غریب‘‘ اور حاکم (۱۹۸/۲) نے صحیح کہا ہے۔ اس کے راوی عبدالرحمن بن اردک حسن الحدیث ہیں۔ (نیل المقصود ج۲ ص۵۶۰)

اوراں کے کئی شواہد بھی ہیں۔ دیکھئے التلخیص الجبیر ج۳ ص۲۱۰)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص191

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ