سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(32) اعتکاف کے بعض مسائل

  • 13553
  • تاریخ اشاعت : 2014-11-22
  • مشاہدات : 508

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حسب ذیل روایات (احادیث) کی تخریج و تحقیق درکار ہے:

(الف)     عن عائشة رضی اللہ عنها قالت: ’’السنة علی المعتکف ان لا یعود مریضا و لا یشهد جنازة ……… ولا اعتکاف الا فی مسجد جامع‘‘ (ابوداود: ۲۴۷۳)

نیز یہ بھی بتا دیں کہ کیا ’’غیر جامع مسجد‘‘ میں اعتکاف جائز نہیں ہے؟

(ب)        عن ابن عباس رضی الله عنه قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم

’’ومن اعتکف یوما ابتغاء وجه الله تعالیٰ جعل الله بینه و بین النار ثلاثة خنادق ابعنه مما بین الخالفقین‘‘ (طبرانی اوسط، بیہقی، الترغیب ۱۵۰/۲)

(ج)         عن ابی هریرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم:
’’اذا اتخذ الفی دولا والا مانة مغنما والزکاة مغرما……… وآیات تتابع کنظام بال قطع سلکه فتتابع‘‘ (الترمذی ابواب الفتن، باب ماجاء فی علامة حلول المسخ والخسف ح۲۲۱۱)

نیز فرمائیں کہ اس طویل حدیث ’’وظهرت الا صوات فی المساجد‘‘ سے کیا مراد ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(الف)     یہ روایت سنن ابی داود (۲۴۷۳) و سنن الدارقطنی (۲۰۱/۲ ح۲۳۳۸، ۲۳۳۹) و السنن الکبریٰ للبیہقی (۳۲۰/۴، ۳۲۱) میں الزہری عن عروہ بن الزبیر (وسعید بن المسیب) عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے مروی ہے۔

شیخ البانی لکھتے ہیں، ’’واسنادہ صحیح‘‘ اور اس کی سند صحیح ہے۔ (ارداء الغلیل ۱۳۹/۴ ح۹۶۶)

عرض ہے کہ اس روایت کے مرکزی راوی امام محمد بن مسلم الزہری رحمہ اللہ ثقہ بالاجماع ہونے کے ساتھ ساتھ مدلس بھی تھے۔

دیکھئے طبقات المدلسین بتحقیقی (۳/۱۰۲، المرتبۃ الثالثہ)

طحاوی نے کہا: ’’انما دلس به‘‘ ای الزھری۔ (شیرح معانی الآثار ۵۵/۱ باب مس الفرج)

انہیں العلائی (جامع التحصیل ص۱۰۹) ابوزرعۃ ابن العراقی (۶۰) ذہبی، ابو محمود مقدسی، حلبی (ص۵۰) سیوطی (۴۶) اور معاصرین میں سے الدمینی (۳/۱۴۹) نے مدلسین میں شمار کیا ہے۔ شیخ حماد بن محمد الانصاری المدنی نے انہیں طبقہ ثلاثہ میں ذکر کیا ہے۔ (اتحاف ذوی الرسوح بمن رمی بالتدلیس من الشیوخ ص۴۷ رقم: ۱۲۷)

حافظ العلائی اور برہان الحلبی کہتے ہیں کہ ’’وقد قبل الائمة قوله: عن‘‘ (جامع التحصیل ص۱۰۹ و التبیین لاسماء المدلسین ص۵۰ رقم: ۶۴)

اس کا رد کرتے ہئے حافظ ابو زرعۃ ابن العراقی فرماتے ہیں:

’’قلت: وحکی الطبری فی تهذیب الآثار عن قوم انه من المدلسین وذلک یقتضی خلافا فی ذلک‘‘ میں نے کہا: (ابن جریر) طبری نے (اپنی کتاب) تہذیب الآثار میں ایک قوم سے نقل کیا ہے کہ وہ (زہری) مدلسین میں سے تھے اور یہ اس (قول: وقد قبل الا ئمۃ قول: عن) کے خلاف ہونے کا متقاضی ہے۔ (کتاب المدلسین ص۹۰، رقم: ۶۰)

جب امام زہری کا مدلس ہونا ثابت ہے تو راجح یہی ہے کہ غیر صحیحین میں ان کی معنعن روایت، عدم سماع اور عدم متابعت قویہ کے بغیر ضعیف ہی ہوتی ہے۔

خلاصۃ التحقیق:

یہ روایت بلحاظ اصول حدیث و بلحاظ سند ضعیف ہے لہٰذا مردود ہے۔

تنبیہ:

زہری کی یہ روایت مختصراً موقوفا موطا امام مالک (۳۱۲/۱ ح۷۰۱ بتحقیقی، ۳۷۴/۲ ح۷۵۶ و بتحقیق الشیخ الصالح الصدوق ابی اسامۃ سلیم بن عید الہلالی السلفی) مں موجود ہے۔ اس میں بھی زہری مدلس ہیں لیکن موطا والی روایت میں زہری کے سماع کی تصریح المتھید لابن عبدالبر (۳۱۹/۸) مں موجود ہے۔

اس روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’ان عائشة کانت اذا اعتکفت لاتسال عن المریض الا وهی تمشی ولا تقف‘‘ یعنی: بے شک جب (سیدہ) عائشہ (رضی اللہ عنہا) اعتکاف فرماتیں تو کسی مریض کی عیادت نہیں کرتی تھیں الا یہ کہ بغیر رکے چلتے چلتے ہی بیمار پرسی کرلیتیں۔

اس کی تائید صحیح مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آیا ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ان کنت لادخل البیت للحاجة و المریض فیه فما اسال عنه الا وانا مارة‘‘ اور میں (انسانی) ضرورت کے لئے گھر میں داخل ہوتی اور اس میں کوئی مریض ہوتا تو میں صرف چلتے چلتے ہی اس کی بیمار پرسی کرتی تھی۔ (صحیح مسلم، کتاب الحیض ب۳، ح۲۹۷/۷ وترقیم دارالسلام: ۶۸۵)

اعتکاف کے یہ (کئی) مسائل میرے علم کے مطابق کسی صحیح مرفوع حدیث سے ثابت نہیں ہیں لہٰذا اس سلسلے میں بعض آثار صحیحہ پیش خدمت ہیں:

(۱)          عروہ بن الزبیر نے فرمایا: ’’لا اعتکاف الابصوم‘‘ روزے کے بغیر اعتکاف نہیں ہوتا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۸۷/۳ ح۹۶۲۶ و سندہ صحیح)

(۲)         سعید بن جبیر نے کہا: (اعتکاف کرنے والا) جمعہ میں حاضر ہو، مریض کی عیادت کرے اور حاکم وقت کی اطاعت کرے۔ (ابن ابی شیبہ ۸۸/۳ ح۹۶۳۲ و سندہ صحیح)

اور فرمایا: جمعہ میں حاضر ہو، مریض کی عیادت کرے، جنازے میں حاضر ہو اور حاکم وقت کی اطاعت کرے۔ (ایضا ۸۸/۳ ح۹۶۳۴ و سندہ صحیح)

(۳)         عامر الشعبی نے فرمایا: قضائے حاجت کے لئے باہر جائے، مریض کی عیادت کرے، جمعہ پڑھنے کے لئے جائے اور دروازے پر کھڑا ہو۔ (ابن ابی شیبہ ۸۸/۳ ح۹۶۳۶  سندہ صحیح)

(۴)         حسن بصری نے فرمایا: قضائے حاجت کے لئے جائے، جنازہ پڑھے اور مریض کی بیمار پرسی کرے۔ (ابن ابی شیبہ ۸۸/۳ ح۹۶۳۹ و سندہ صحیح)

(۵)         ابن شہاب الزہری نے کہا: نہ تو جنازہ پڑھے، نہ مریض کی عیادت کرے اور نہ کسی کی دعوت قبول کرے۔ (ابن ابی شیبہ ۸۹/۳ ح۹۶۴۴ و سندہ صحیح)

(۶)         عروہ بن الزبیر نے کہا: نہ تو دعوت قبول کرے، نہ مریض کی بیمار پرسی کرے اور نہ جنازے میں حاضر ہو۔ (ابن ابی شیبہ ۸۹/۳ ح۹۶۴۶ و سندہ صحیح)

ان آثار کو دیکھ کر راجح اور قوی پر عمل کریں۔

زہری فرماتے ہیں کہ: اعتکاف اسی مسجد میں کرنا چاہئے جہاں نماز باجماعت ہوتی ہے۔ (ابن ابی شیبہ ۹۱/۳ ح۹۶۷۳ و سندہ صحیح)

یہی تحقیق حکم بن عتیبہ، حماد بن ابی سلیمان، ابو جعفر اور عروہ بن الزبیر کی ہے۔ (ابن ابی شیبہ ۹۲/۳ ح۹۶۷۔۹۶۷۶ و اسانیدھا صحیحۃ)

جبکہ عموم قرآن: (وانتم عکفون فی المساجد) سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسجد میں اعتکاف جائز ہے چاہے وہ مسجد جامع ہو یا غیر جامع۔ واللہ اعلم 

ابو قلابہ نے اپنی قوم کی مسجد میں اعتکاف کیا تھا۔ (ابن ابی شیبہ ۹۰/۳ ح۹۶۶۰ و سندہ صحیح)

یہی تحقیق سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی کی ہے۔ (ابن ابی شیبہ ۹۰/۳ ح۹۶۶۳ و سندہ قوی، ۹۱/۳ ح۹۶۶۵ و سندہ قوی)

سابقہ آثار جن میں نماز جمعہ کے لئے جانے کے لئے معتکف کو اجازت دی گئی ہے، سے بھی یہی معلوم ہوتا ہہے کہ غیر جامع مسجد میں اعتکاف جائز ہے۔

روزہ اور اعتکاف کے اجماعی مسائل:

اجماع ہے کہ جس نے رمضان کی ہر رات روزہ کی نیت کی اور روزہ رکھا اس کا روزہ مکمل ہے۔

اجماع ہے کہ سحری کھانا مستحب ہے۔

اجماع ہے کہ روزہ دار کو بے اختیار قے آ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

اجماع ہے کہ جو روزہ دار قصدا قے کرے اس کا روزہ باطل ہے۔

اجماع ہے کہ روزہ دار (اپنی) رال اور (اپنا) تھوک نگل جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

اجماع ے کہ عورت کو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنے ہوں اور درمیان میں ایام شروع ہو جائیں تو پاکی کے بعد پچھلے روزہ پر بنا کرے گی۔

اجماع ے کہ اڈھیڑ عمر، بوڑھے جو روزہ کی استطاعت نہیں رکھتے روزہ نہیں رکھیں گے (بلکہ فدیہ ادا کریں گے)

اجماع ہے کہ اعتکاف لوگوںپر فرض نہیں، ہاں اگر کوئی اپنے اوپر لازم کرلے تو اس پر واجب ہے۔

اجماع ہے کہ اعتکاف مسجد حرام، مسجد رسول، ادر بیت المقدس میں جائز ہے۔

اجماع ہے کہ معتکف اعتکاف گاہ سے پیشاب، پاخانہ کے لئے باہر جا سکتا ہے۔

اجماع ہے کہ معتکف کے لئے مباشرت (بیوی سے بوس و کنار) ممنوع ہے۔

اجماع ہے کہ معتکف نے اپنی بیوی سے عمداً حقیقی مجامعت کرلی تو اس نے اعتکاف فاسد کر دیا۔ (الاجماع لابن المنذر ص۴۷، ۴۸)

(ب)        سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ روایت المعجم الاوسط للطبرانی (۱۶۰/۸ ح۷۳۲۲) شعب الایمان للبیہقی (۴۲۴/۳ ح۳۹۶۵) اخبار اصبہان لابی نعیم الاصبہانی (۸۹/۱، ۹۰) و تاریخ بغداد للخطیب البغدادی (۱۲۶/۴، ۱۲۷ ترجمہ ۱۸۰۲)

 میں شر بن سلم البجلی عن عبدالعزیز بن ابی رواد عن عطاء عن ابن عباس کی سند سے مروی ہے۔ بشر البجلی کے بارے میں حافظ ابو حاتم الرازی نے کہا: ’’هو منکر الحدیث‘‘ (الجرح و التعدیل ۳۵۸/۲)

اس شدید جرح کے مقابلے میں حافظ ابن حبان کا اس راوی کو کتاب الثقات (۱۴۳/۸، ۱۴۴) میں ذکر کرنا مردود ہے۔

خلاصۃ التحقیق:

یہ روایت بلحاظ سند ضعیف ہے۔ شیخ البانی نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

دیکھئے السلسلۃ الضعیفۃ (۵۶۶/۱۱ ح۵۳۴۵) و ضعیف الترغیب و الترھیب (۱۷۷/۲)

اس روایت کی باطل تائید مستدرک الحاکم (۲۷۰/۴ ح۷۷۰۶) مں ہے۔ اس کا راوی محمد بن معاویہ کذاب اور ہشام بنزیاد متروک ہے۔

(ج)         یہ روایت سنن الترمذی (۲۲۱۱) و تلبیس ابلیس لابن الجوزی (ص۲۳۴) میں رمیح الجذامی عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے مروی ہے۔

رمیح راوی: مجہول ہے۔ (دیکھئے تقریب  التہذیب: ۱۹۵۷، والکاشف للذہبی ۲۴۳/۱)

لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔

سنن الترمذی کی دوسری روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت پندرہ (۱۵) کام کرے گی تو اس پر مصیبتیں آ جائیں گی۔ پوچھا گیا کہ یارسول اللہ! یہ پندرہ کام کیا ہیں؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:

(۱) ج مالِ غنیمت ذاتی دولت بن جائے گا (۲) امانت کو غنیمت بنا لیا جائے گا (۳) زکوٰۃ کو جرمانہ سمجھا جائے گا (۴) خاوند اپنی بیوی کی (اندھی) اطاعت کرے گا یعنی زن مرید ہوگا (۵) اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا (۶) اپنے دوست کے ساتھ نیکی کرے گا (۷) اور اپنے والد کے ساتھ برا سلوک کرے گا (۸) مسجد میں (دنیاوی) آوازیں بلند ہوں گی (۹) ذلیل اور گھٹیا لوگ حکمران بن جائیں گے (۱۰) انسان کے شر کی وجہ سے اس کی عزت کی جائے گی (۱۱) شرابیں پی جائیں گی (۱۲) ریشم پہنا جائے گا (۱۳ض ناچ گانے والی لڑکیوں کو رکھا جائے گا (۱۴) گانے بجانے کے آلات استعمال کئے جائیں گے (۱۵) اور اس امت کے آخری لوگ اگلے لوگوں پر لعنت بھیجیں گے۔ تو اس وقت سرخ آندھی، زمین کے دھنسنے یا چروں کے مسخ ہونے کا انتظار کرو۔ (ح۲۲۱۰، وقال: ھذا حدیث غریب۔۔۔۔ الخ)

یہ روایت المجروحین لابن حبان (۲۰۷/۲) تاریخ بغداد (۱۵۸/۳) اور العلل المتناھیۃ لابن الجوزی (۳۶۷/۲) میں بھی ہے۔

امام دارقطنی نے فرج کی حدیث کو باطل کہا۔ (تاریخ بغداد ۳۹۶/۱۲)

فرج بن فضالہ ضعیف ہے۔ (تقریب التہذیب: ۵۳۸۳ و نیل المقصود: ۲۴۸۸)

آخر میں عرض ہے کہ ترمذی والی ضعیف روایت میں ’’وظھرت الاصوات فی المساجد‘‘ کا مطلب یہی ہے کہ لوگ مسجدوں میں اونچی آوازوں میں دنیاوی باتیں کریں گے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ روایت ضعیف و مردود ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص154

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ