سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(14) امام بخاری کی قبر کے وسیلے سے دعا

  • 13535
  • تاریخ اشاعت : 2014-11-19
  • مشاہدات : 696

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

درج ذیل عبارت کی وضاحت درکار ہے:

قسطلانی نے ’’ارشاد الساری‘‘ میں نقل کیا ابو علی حافظ سے، انھوں نے کہا مجھ کو خبر دی ابو الفتح نصر ابن الحسن سمرقندی نے جب وہ آئے ہمارے پاس ۴۶۴ھ میں سمرقند میں ایک مرتبہ بارش کا قحط ہوا لوگوں نے پانی کے لئے کئی بار دعا کی پرپانی نہ پڑا۔ آخر ایک نیک شخص آئے قاضی سمرقند کے پاس اور ان سے کہا: میں تم کو ایک اچھی صلاح دینا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا: بیان کرو۔ وہ شخص بولے، تم سب لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر امام بخاری کی قبر پر جاؤ اور وہاں جاکر اللہ سے دعا کرو، شاید اللہ جل جلالہ ہم کو پانی عطا فرمائے۔ یہ سن کر قاضی نے کہا: تمھاری رائے بہت خوب ہے اور قاضی سب لوگوں کو ساتھ لے کر امام بخاری کی قبر پر گیا۔ اور لوگ وہاں روئے اور صاحب قبر کے وسیلہ سے پانی مانگا تو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت شدت کا پانی برسانا شروع کیا یہاں تک کہ شدت بارش سے سات روز تک لوگ خرتنگ سے نکل نہ سکے۔

حوالہ:

تیسیر الباری ترجمہ و تشریح صحیح بخاری شریف (علامہ وحید الزمان) جلد اول (دیباچہ) صفحہ ۶۴۔ نعمانی کتب خانہ، لاہور، ضیاء احسان پبلشرز (۱۹۹۰)

اس واقعہ کی تحقیق و تخریج اپنے ماہنامہ ’’الحدیث‘‘ میں شائع کر دیں یا بذریعہ ڈاک مجھے ارسال فرما دیں۔ جزاک اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

روایت مذکورہ احمد بن محمد القسطلانی (متوفی ۹۲۳ھ) کی کتاب ارشاد الساری (ج۱ ص۳۹) میں موجود ہے لیکن قسطلانی سے لے کر ابو علی الحافظ تک سندنا معلوم ہے۔

ابو علی الحافظ کون ہے؟ اس کا بھی کوئی اتاپتا نہیں ہے۔ یاد رہے کہ یہاں ابو علی الحافظ النیسابوری مراد نہیں ہیں جو کہ حاکم وغیرہ کے استاد تھے۔ وہ ت ابو الفتح نصر بن الحسن السمرقندی کے دور سے بہت پہلے فوت ہوگئے تھے۔

خلاصہ یہ کہ امام بخاری کی قبر کے پاس بارش کی دعا والا یہ قصہ ثابت نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص63

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ