السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا قبلہ کی طرف پاؤں کرکے سونا یا قبلے کی طرف پاؤں کرکے بیٹھنا منع ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اس کی ممانعت کسی حدیث سے ثابت نہیں۔ مگر عرفِ عام میں یہ معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ جان بوجھ کر، بغیر کسی عذر ک، قبلہ کی طرف پاؤں نہ کئے جائیں۔ جائز امور میں، عرف عام کا خیال رکھنا مستحسن امر ہے۔ «لولا حدثان قومک لهدمت الکعبة» وغیرہ احادیث اس کی دلیل ہیں۔ غالباً اسی عرف عام کی وجہ سے بعض علماء نے اس فعل کو مکروہ قرار دیا ہے۔ مثلااً دیکھئے نفع المفتی والسائل لعبد الحئی الکھنوی (ص۵۸) فتاویٰ سراجیہ (ص۷۲) اور ردالمختار (۳۳۸، ۳۳۹) وغیرہ۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب