سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(514) عمرہ کرنےوالا کہاں بال کٹوائے؟

  • 1352
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-30
  • مشاہدات : 1106

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص عمرہ کرتا ہے اور بال اپنے شہر میں کٹواتا ہے تو اس کے عمرے کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اہل علم کا قول ہے کہ سر منڈوانا کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اگر مکہ میں بال منڈوا لیے جائیںیا غیر مکہ میں تو اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ یاد رہے کہ عمرے سے حلال ہونا بال منڈوانے پر موقوف ہے اور پھر سر منڈوانے کے بعد طواف وداع بھی ہوتا ہے، یعنی عمرے کی ترتیب اس طرح ہے: احرام، طواف، سعی، حلق یا تقصیر اور طواف وداع بشرطیکہ عمرہ ادا کرنے کے بعد انسان مکہ میں مقیم رہے۔ اگر عمرہ کے تمام افعال سر انجام دینے کے بعد وہ سفر کا ارادہ کر لے تو پھر اس پر طواف وداع نہیں ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر وہ مکہ میں مقیم ہونا چاہتا ہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ سر کے بال منڈوائے یا کٹوائے کیونکہ اس کے بعد اسے طواف وداع کرنا ہوگا اور اگر وہ طواف وسعی کے فوراً بعد اپنے شہر کی طرف روانہ ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنے شہر میں جا کر بال منڈوایا کٹوا لے لیکن بال منڈوانے یا کٹوانے تک وہ حالت احرام ہی میں ہوگا

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل: صفحہ443

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ