سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(41) کیا حضرت خضرعلیہ السلام زندہ ہیں؟

  • 13514
  • تاریخ اشاعت : 2014-11-03
  • مشاہدات : 1508

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بخدمت جناب بھائی محمد عبیداللہ عفیف صاحب یہ جو زبان زد عام اور مشہور عقیدہ چلا آرہا ہے کہ حضرت الیاس اور حضرت خضر آج بھی زندہ یں یہ عقیدہ کہاں تک درست ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل اور مفصل جواب تحریر فرمائیں۔


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بخدمت جناب بھائی محمد عبیداللہ عفیف صاحب یہ جو زبان زد عام اور مشہور عقیدہ چلا آرہا ہے کہ حضرت الیاس اور حضرت خضر آج بھی زندہ یں یہ عقیدہ کہاں تک درست ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل اور مفصل جواب تحریر فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ان دونوں والا تبار ہستیوں کی حیات کا عقیدہ قرآن وحدیث کی واضح نصوص اور عقلی براہین کےسراسر خلاف ہے۔ محدثین کرام، ائمہ اسلام اور محققین علماء امت نے اس عقیدہ کے خلاف اتنا کچھ لکھ دیا ہے ۔ کہ اب اس برخود غلط عقیدہ کی تغلیط وتردید کے لیے مزید کچھ لکھنے کی حاجت نہیں۔ تاہم احقاق حق اور ابطال باطل کے مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے جواب حاضر ہے۔ مگر جواب سے پہلے  یہ وضاحت ضروری ہے کہ حضرت الیاس کی زندگی کے ثبوت میں اتنا زور نہیں دیا جتا جتنا کہ حضرت خضر﷤ کی زندگی پرزور دیا جاتا ہے ، اس لیے اس مقالہ کا محور جناب خضر ہی ہیں، مگر ساتھ حضرت الیاس کی حیات کا  بھی جواب ہوجاتا ہے ، یعنی جن دلائل و براہین سے حضرت خضر کی وفات ثابت کی ہے ان دلائل وبراہین کے عموم میں حضرت الیاس کےنام کی عدم  صراحت سے یہ مطلب اخذ کرنا ہرگز درست نہ ہوگا کہ حضرت الیاس اب بھی زندہ ہیں۔

جس طرح حضرت خضر کی نبوت میں اختلاف ہے، اسی طرح آپ کی زندگی میں بھی اختلاف ہے۔ ایک بڑی جماعت کا عقیدہ ہےکہ وہ اب زندہ نہیں ہیں۔

حضرت امام بخاری﷫ سے حضرت خضر اور حضرت الیاس ﷤ کے متعلق پوچھا گیا کہ کیا وہ زندہ ہیں؟ انہوں نے فرمایا:یہ کیسے درست ہوسکتا ہے جبکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا: فان رأس مائة سنة منها لا يبقى ممن هو على ظهر الارض احد. یعنی روئے زمین  پر جولوگ آج موجود ہیں وہ سوسال تک زندہ نہیں رہیں گے۔

 صحیح مسلم میں حضرت جابر﷜ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے اپنی وفات سے پہلے فرمایا:

«مامن نفس منفوسة ياتي عليها مائة سنة وهى يومئذ حية»

’’ یعنی آج دنیا میں جو لوگ زندہ ہیں سوسال تک ان میں سے کوئی زندہ نہیں رہے گا۔‘‘ اس ارشادِ نبویؐ کی کوئی تاویل ممکن نہیں ہے۔‘‘

یہ مسئلہ ایک دوسرے امام صاحب سے پوچھا گیا تو انہوں نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ دی۔ وَمَاجَعَلْنَا لِبَشَرٍمِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدِ (الانبياء:34) ہم نے آپ سے قبل کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے حضرت خضر علیہ السلام کے زندہ رہنے کا مسئلہ دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اگر خضر﷤ زندہ ہوتے تو ان پرواجب تھا کہ وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ آپ سے علم حاصل کرتےاور  آپ کی معیت میں جہاد کرتے۔ نبی کریمﷺ نے غزوۂ بدر میں عرض کی تھی۔

«اَللّٰهُمَّ اِنْ تَهْلُكَ هٰذِهِ الْعِصَابَةَ لَاتُعْبَدُفِى الْاَرْضِ»

’’اے اللہ! اگر یہ جماعت ہلاک ہوگئی، تو روئے زمین پر تیری عبادت نہیں ہوگی۔ یہ جماعت تین سو تیرہ صحابہ کرام﷢ پر مشتمل تھی۔ ان کے ناموں کی مع باپ وقبیلہ فہرست موجود ومعروف ہے۔ مگر اس میں حضرت خضر﷤ کا نام تک نہیں، لہذا بتایا جائے۔ اس وقت حضرت خضر﷤ کہاں تھے۔

ابراہیم حربی﷫ سے حضرت خضر کی زندگی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: جس نے کسی میت کا حوالہ دیا اس نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ یہ وسوسہ اندازی شیطان کی طرف سے ہے۔

’’بحر‘‘ (ایک کتاب) میں شرف الدین ابوعبداللہ محمدبن ابوالفضل المرسی سے حضرت خضر کی موت منقول ہے۔ابن جوزی نے علی بن موسیٰ الرضا سے اور ابراہیم بن اسحاق حربی سے یہی قول کیا ہے۔ حضرت خضر کی زندگی کو کیسے صحیح مانا جاسکتا ہے ۔ وہ جبکہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ جمعہ و جماعت میں شامل نہیں ہوئے۔اور آپ کےاس ارشاد ک باوجود آپ کےساتھ جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔

«والذى نفسى بيده لوكان موسى حياما وسعة الا ان يتبعنى»

’’ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو میری اتباع کے بغیر چارہ کار نہ ہوتا۔‘‘

اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿وَإِذ أَخَذَ اللَّـهُ ميثـٰقَ النَّبِيّـۧنَ لَما ءاتَيتُكُم مِن كِتـٰبٍ وَحِكمَةٍ ثُمَّ جاءَكُم رَ‌سولٌ مُصَدِّقٌ لِما مَعَكُم لَتُؤمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُ‌نَّهُ ۚ قالَ ءَأَقرَ‌ر‌تُم وَأَخَذتُم عَلىٰ ذٰلِكُم إِصر‌ى ۖ قالوا أَقرَ‌ر‌نا ۚ قالَ فَاشهَدوا وَأَنا۠ مَعَكُم مِنَ الشّـٰهِدينَ  ٨١﴾...سورة آل عمران

’’ جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب وحکمت دوں پھر تمہارے پاس وه رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لئے اس پر ایمان ﻻنا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔ فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے، فرمایا تو اب گواه رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں ‘‘

اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ﷤ زمین پر نازل ہوں گے تو اس امت کےامام کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے اور اس سے آگےنہیں بڑھیں گے۔ حضرت خضر﷤ کی زندگی کو ثابت کرنے والے کتنے بے وقوف ہیں وہ نہیں سمجھتے اس سے حضرت خضر کوزندہ مان لینے کے بعد شریعت محمدی سے اعراض کا کتنا بڑا الزام آتا ہے۔

حضرت خضر کی موت کے عقلی ثبوت

ثبوت اول....... جو شخص آپ کی زندگی کا قائل ہے وہ آپ کو حضرت آدم ﷤ کا حقیقی اور صلبی بیٹا سمجھتا ہے۔ اس کے فاسد ہونے کی دووجوہ ہیں۔

1۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آپ کی عمر چھ ہزار سال سے زائد ہو۔ کسی بشر کے لیے اتنی طویل عمر عام حالات میں عقل سے بعید ہے۔

2۔ اگر حضرت خضر حضرت آدم علیہم السلام کےحقیقی اور صلبی بیٹے یا چوتھے بیٹے ہوتے ( جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ ذوالقرنین کا وزیر تھا) تو ان کی ڈیل ڈول بڑی ہیبت ناک ہوتی۔ اور ان کا طول وعرض بھی عام انسانوں سے کہیں زیادہ ہوتا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ﷜ سے مروی ہے وہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:

«خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا،فَلَمْ يَزَلِ الخَلْقُ يَنْقُصُ  بَعْدُ »(صحیح بخاری)

’’ کہ جب آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے ان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا قریباً ڈیڑھ فٹ ہوتا ہے۔ان کے بعد انسانوں کے قدوں میں کمی ہوتی چلی جارہی ہے۔ جن لوگوں نے حضرت خضر  کی زیارت کا دعویٰ کیا انہوں نے آپ کی بڑی جسامت بیان نہیں کی۔ حالانکہ سب سے پہلے لوگوں میں ہونے کے باعث ان کا قد حضرت آدم﷤ کے لگ بھگ ہونا چاہیے تھا۔

ثبوت ثانی....... اگر وہ حضرت نوح ﷤ سے پہلے زندہ ہوتے تووہ ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوتے مگر یہ کسی نے نقل نہیں کیا۔

ثبوت ثالث......علماء اس پر متفق ہیں کہ جب نوح ﷤ کشتی سے نکلے تو آپ کے ساتھ جتنے لوگ تھے وہ سب فوت ہوگئے اور آپ کے سوا کسی کی نسلی نہیں چلی ، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿وَجَعَلنا ذُرِّ‌يَّتَهُ هُمُ الباقينَ  ٧٧﴾...سورة الصافات

’’ اور اس کی اود کو ہم نے باقی رہنے والی بنا دی ‘‘

ہم  نے صرف نوحؑ ہی کی اولاد کی باقی رکھا۔

ثبوت رابع...... اگر حضرت آدم ﷤ سے لے کر قیامت قائم ہونےتک کسی انسان کا زندہ رہنا درست ہوتا تو یہ ایک عظیم اور عظیم ترنشانی ہوتی۔ اوراس کا حوالہ قرآن عزیز متعدد مقام پر مذکورہوتا۔ کیونکہ وہ ربوبیت کا بہت بڑا نشان ہوتا۔ اللہ تعالی نے اس اولوالعزم ہستی کا ذکر فرمایا جس کو ساڑھے نوسو بر زندہ رکھا۔ اس اور کو نشانی بنایا تو پھر اس کا ذکر کیوں نہ ہوتا جسے اللہ تعالیٰ نے اس سے کئی سوگنالمبی زندگی عطا فرمائی۔

ثبوت خامس...... حضرت خضر کے زندہ رہنے کی خبر اللہ تعالی پر قول بلا علم ہے اور وہ قرآن مجید کی نص سے حرام ہے کیونکہ یہ اللہ تعالی پر افتراء ہے ، لہذا دوسرا مقدمہ تو ظاہر ہے اور پہلا مقدمہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ اگر حضرت خضر کی زندگی ثابت ہوتی تو اس کی خبر قرآن مجید میں یا سنت یا اجماع امت سے ملتی۔ یہ کتاب اللہ موجود ہے اوراس میں حیات خضر کا ذکر کہاں ہے اور یہ سنت رسول اللہﷺ ہے۔اس میں اس کا ارشارہ تک نہیں۔ اور علماء امت نے کب ان کی حیات پر اجماع کیا ہے۔

ثبوت سادس...... زیادہ سے زیادہ حضرت خضر کی زندگی کی جو دلیل پیش کی جاتی ہے وہ کچھ حکایات اور کہانیاں ہیں کہ فلاں شخص نے خبر دی ہے کہ اس نے حضرت خضر کو دیکھا تھا۔ یہ بڑی حیران کن بات ہے کیا حضرت خضر کی کوئی علامت ہے، جس سے اس نے آپ کو پہچانا ہو؟ بیان کرنے والوں نے اس بات سے دھوکا کھایا کہ جس کو انہوں نے دیکھا تھا وہ کہتا تھا کہ میں خضر ہوں‘‘ یہ واضح بات ہے کہ قائل کی تصدیق الہی دلیل کے بغیر نہیں کی جاسکتی۔ دیکھنےوالوں کو کہاں پتہ چلا کہ یہ کہنے والا کہ میں خضرہوں۔ سچا ہے یا جھوٹا ہے۔

ثبوت سابع....... حضرت خضر﷤ حضرت موسیٰ کلیم اللہ سے جدا ہوئے اور ان کےساتھ نہ رہے اور کہا کہ’’هٰذَا فِراَقُ بَينِى وَبَيَنك‘‘ (الکہف)

یہ کیسے ہوسکتاہےکہ وہ موسیٰ کلیم اللہ سے تو مفارقت کریں۔ اور ان کی شریعت کےنافرمان جاہل صوفیوں کے ساتھ رہیں۔ جو جمعہ جماعت کے تارک ہیں اور مجلس علم سے بے بہرہ ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کہتا ہےمجھے حضرت خضر نے فرمایا: ’’ میرے پاس حضرت خضر تشریف لائے تھے، مجھے حضرت خضر نے وصیت کی ہے۔‘‘ تعجب ہے کہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو چھوڑا اور ان جاہلوں کی صحبت اختیار کی۔ یہ حضرت خضر نہیں ہوسکتے۔ یہ حضرت خضر پر بہتان عظیم ہے۔ یہ شیطان کی کارستانی ہے۔

ثبوت ثامن............ امت کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص کہتا ہےکہ میں ’’ خضر ہوں‘‘ وہ اگر کہے میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے، آپ یہ فرماتےتھے اس کی بات میں کوئی وزن نہیں اور دین میں اس کا یہ کہنا حجت نہیں، حضرت خضر کی زندگی کے قائل کوبھی اس سے انکار نہیں الایہ کہ وہ کہے کہ حضرت خضر نہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نہ آپ سے بیعت کی، یا وہ کہے کہ آپ ان کی طرف نہیں بھیجے گئے‘‘ یہ صریح کفر ہے۔

ثبوت تاسع......اگر حضرت خضر زندہ ہوتےتوان کا جنگلوں،بیانوں اور جنگلی جانوروں میں رہنے کے بجائے کفارسے جہاد کرنا اور فی سبیل اللہ چوکیداری کرنا اور جہاد میں ایک گھڑی گھڑے ہونا، جمعہ و جماعت میں شریک ہونا اور جاہلوں کو راہ ہدایت دکھانا کہیں افضل تھا۔

دلائل قائلین حیات خضر

بعض کہتے ہیں کہ حضرت ﷤ ہمارے درمیان زندہ ہیں۔ نووی کےقول کے مطابق صوفیہ  کے نزدیک یہ متفق علیہ عقیدہ ہے۔ مفسر ثعلبی سےمنقول ہے کہ وہ طویل عمر کے  نبی ہیں اور اکثر لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ امام ابن الصلاح نے کہا: بعض اہلحدیث نےحضرت خضر﷤ کی حیات کا انکار کیا ہے۔ اس کی دلیل متعدد احادیث سےملتی ہے وہ حسب ذیل ہیں:

  • حضرت ابن عباس ﷜ سےروایت ہے کہ حضرت خضر آدم﷤ کےصلبی بیٹے ہیں ۔ ان کی عمر کو دراز کردیاگیا ہے۔یہاں تک  و ہ دجال کی تکذیب کریں گے۔ یہ بات اپنی رائے سے نہیں کہی جاسکتی۔ (لامحالہ یہ مرفوع حدیث کے حکم میں)
  • ابن عساکر نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے اصحاب نے حدیث بیان کی ہے کہ حضرت آدم ﷤ نےاپنی وفات سے کچھ وقت پہلے اپنے تمام بیٹوں کو جمع کیا اور فرمایا اللہ تعالی اہل زمین پر عذاب نازل کرنے والا ہے۔ میرا جسم غار میں تمہار ے پاس ہونا چاہیے۔ جب تم غار سے باہر نکل آؤ تو میری نعش کو شام لے جانا اور وہیں مجھے سپرد خاک کردینا۔لہذا وصیت کےمطابق حضرت آدم کی نعش ان کے پاس ہی رہی۔ جب اللہ اللہ تعالی نے حضرت نوح﷤ کو مبعوث فرمایا تو انہوں نے یہ نعش اپنے پاس رکھی ۔ قوم کی نافرمانی پر اللہ تعالی نے اہل زمین پر پانی کا طوفان بھیجا تو وہ ایک عرصہ تک ڈوبی رہی۔ حضرت نوح﷤ بابل شہر اترے اور اپنے تینوں بیٹوں( حام۔ سام اور یافث) کو وصیت فرمائی کہ آپ کی نعش کو وہاں لے جاؤ جہاں دفن کرنے کاحضرت آدم﷤ نے حکم فرمایا تھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ طوفان کی وجہ سے زمین ویران ہوچکی ہے۔ نہ اس میں کوئی انیس ہے اور نہ ہمیں راستےکا کچھ علم ہے۔زمین کے آباد ہونے تک آپ دفن کا پروگرام ملتوی فرمادیں۔ نوح ﷤ نے فرمایا کہ حضرت آدم﷤ نے رب تعالی سے دعا مانگی تھی کہ جو مجھے دفن کرنے اس کی عمر قیامت تک دراز ہوجائے آدم﷤ کا جسد طہر پڑا رہا حتی کہ جناب خضر تولید ہوئے۔ انہوں نےحضرت آدم﷤ کو دفن کیا۔ حضرت آدم ﷤ کی دعا کو اللہ تعالی نے قبول فرما کر حضرت خضر کی عمر دراز فرمادی۔ اب حضر ت خضر﷤ اللہ تعالی جب  تک چاہے گا بقید حیات رہیں گے۔ اس حدیث میں حضرت خضر کی درازی عمر کا سبب بیان کردیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ سبب بعید ہے ۔ ورنہ مشہور بات یہ ہے کہ انہوں نے حضرت ذوالقرنین کے ساتھ آب حیات اس وقت نوش فرمایا تھا۔ جب ظالموں نے ہجوم کرلیاتھا۔ آپ ذوالقرنین کے ہر اول دستے کے کمانڈر تھے۔
  •  خطیب بغداری اور ابن عساکر نے حضرت علی﷜ سے روایت بیا ن کیا ہے کہ رسول اللہﷺ جب فوت ہوئے تھے ہم آپ کی تجہیزوتکفین کے لیے تیار ہوئے۔ لوگ باہر نکل گئے اور جگہ خالی ہوگئی۔جب میں آپ کو غسل دینے لگا تو گھر کے ایک گوشہ سے ایک غیبی آواز بلند ہوئی کہ رسول اللہﷺ کو غسل دینے کی ضرورت نہیں، آپ طاہر اور مطہر ہیں۔ میں سوچ میں کھوگیا۔ میں نےدریافت کیا آپ کون ہیں؟ رسول اللہﷺ کو غسل دو۔ پہلی غیبی آواز ابلیس ملعون کی تھی، اس نے ازراہ جسد کہاکہ کہیں رسول اللہﷺ کو غسل دے کر دفن نہ کردیا جائے۔ میں نے کہا جزاک اللہ خیرا آپ نے واضح کردیا کہ یہ ابلیس ملعون تھا۔ مگر آپ کون ہیں؟ اس نے کہا میں خضر ہوں۔ اور محمد رسول اللہﷺ کے جنازے میں شرکت کے لیے حاضر ہوا ہوں۔
  • حضرت علی سے یہ بھی مروی ہے کہ میں بیت اللہ کا طواف کررہا تھا۔ میں نے ایک شخص کو دیکھ کہ کعبۃ اللہ کے غلاف کو پکڑ کر کہہ رہا تھا۔ اے وہ ذات جس کو متعدد انسانوں کی باتیں ایک ساتھ سننے میں کوئی مشکل نہیں آتی! اے وہ  ذات جس کو مسائل کے حل میں کسی دشواری کاسامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اے وہ ذات جو الحاح وزاری کرنے والوں سے زچ نہیں ہوتا۔ مجھے اپنی معافی کی ٹھنڈک عطا فرما اور اپنی رحمت کی حلاوت سے شاد کام فرما۔ میں نے کہا: اے اللہ کے بندےاپنی اس دعا کو دہراؤ۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپ نے یہ دعا سن لیے ہے؟ میں نے کہا ہاں، انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں خضر کی جان ہے! جو شخص اس دعا کو فرض نماز کے بعدپڑھے گا۔ اس کے گناہ خواہ ریت کے ذروں ، درختوں کے پتوں اور بارش کے قطروں کے برابر ہوں تو بخش دیے جائیں گے۔
  • امام حاکم نے مستدرک میں حضرت جابر﷜ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے وفات پائی اور صحابہ﷢ جمع ہوئے توایک آدمی وارد ہوا جس کی سیاہ سفید ڈاڑھی، خوب صورت بھاری بھر کم جسم تھا ۔ وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے بڑھا اور روپڑا۔ پھر اس نے صحابہ کرام﷢ کو دیکھا اور کہا: ہر مصیبت میں اللہ تعالی کی طرف سے صبر۔ ہر ہاتھ سے نکل جانے والی چیز کا بدلہ اور ہر ہلاک ہونےوالے کا جانشین ہوتا ہے۔ تم سب اللہ تعالی ہی کی طرف رجوع کرواور اسی کی طرف رغبت رکھو۔ اللہ تعالی کی نگاہ مصیبت اور آزمائش میں تمہاری طرف ہے۔ تم بھی غور کرو مصیبت زدہ وہ ہے جس کی تلافی نہ ہوسکے ۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت علی﷜ نے کہا یہ بات کرنے والے حضرت خضرت﷤ ہیں، ایسے ہی اور دلائل ہیں۔ جن سے ان کی زندگی کا ثبوت ملتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے وہ نبی اکرمﷺ کی زندگی مبارک میں بھی زندہ تھے۔

ان حادیث کا جواب

جولوگ حضرت خضر﷤ کے زندہ ہونے کے قائل نہیں، وہ ان احادیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ جن احادیث میں حضرت خضر﷤ کی زندگی کا ذکر ہے وہ سب جھوٹی ہیں۔ آپ کی زندگی سے متعلق ایک بھی صحیح حدیث نہیں۔ جو شخص اس کا دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ کرے تو اس ثبوت مہیا کرنا اس کے ذمہ فرض ہے۔ ومن يدعى ذالك فعليه البرهان

پھر مشائح حضرت خضر﷤ کےزندہ ہونے پر متفق نہیں۔ شیخ صدر الدین اسحاق القوفوی نے اپنی کتاب’’تبصرۃ المبتدی وتذکرۃ المنتہی‘‘ میں نقل کیا ہے کہ حضرت خضر کاوجود عالم مثال میں ہے۔ شیخ عبدالرزاق کاشی کاخیال ہے۔ خضرت سے مراد’’بسطہ‘‘ اور الیاس سے مراد’’ قبض‘‘ ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ خضریت ایک منصب ہے۔ جس پر بعض صالحین فائز ہوتے ہیں۔ روح المعانی میں بہت سے اقوال مذکورہ ہیں۔ اس میں حضرت حضرؑ کی زندگی پر جو تبصرہ ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کی احادیث صحیحہ اور مقابلہ صحیح عقلی مقدمان میں حضرت خضرؑ کی وفات کے قائلین کی پوری پوری توئید وتصدیق کرتے ہیں۔ (انوار رحمانی ج ص۶۵۰،۶۵۶)

اس طویل گفتگو اور بحث سے ثابت ہوا کہ جناب خضر اور حضرت الیاسؑ وفات پا چکے ہیں۔ ان کی حیات کا عقیدہ قرآن وحدیث کی نصوص صریحہ صحیح مرفوعہ متصلہ اور عقلی دلائل کے لحاظ سے سراسر بدعی اور غیر شرعی اور باطل عقیدہ ہے۔

حیات خضر کے دلائل کا تجربہ:

ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث لاہور کے شمارہ نمبر ۱۔۲ جلد ۴۲ مئی ۱۹۹۸؁ء میں مفتی پاکستان حضرت العلام شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ خان عفیف کا حیات خضر والیاس پر بڑا تفصیلی اور معلوماتی فتویٰ طبع ہوا۔ یہ فتویٰ کیا ایک پورا مضمون ہے۔ جس میں انہوں نے حیاتِ خضر کے نظریہ کا نقلی اور عقلی دلائل سے رد کیا ہے اور آخر میں ان دلائل کو بھی پیش کر کے جن سے حیاتِ خضر کی دلیل لی جاتی ہے اور کا رد فرمایا ہے۔ مگر یہ رواجمالی ہے جس میں ان دلائل کے غلط اور باطل ہونے کی کوئی وجہ بیان نہیں فرمائی۔ صرف انتا فرمایا ہے کہ جن احادیث میں حضرت خضر کی زندگی کا ذکر ہے وہ سب جھوٹی ہیں آپ کی زندگی سے متعلق ایک بھی صحیح حدیث نہیں۔ (شمارہ نمبر۲ص۶)

گوجرانوالہ سے ایک سلفی بھائی نے راقم الحروف سے ایک ملاقات میں اس فتوے کا ذکر کیا اور اسے بہت سراہا مگر جب تک ہم ان دلائل کے غلط ہونے کی وجوہ کو نہ جانتے ہوں تو دوسروں کو مطمئن کرنا تو دوسری بات ہم خود بھی مطمئن نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا آپ حضرت مفتی صاحب کے پیش کردہ دلائل پر تفصیلی جرح کر کے ہمیں بھیج دیں تا کہ اس غلط نظریہ کے بارہ میں لوگوں کو بتا سکیں کہ حیات خضر کا خیال محض تصوراتی ہے جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ راقم نے اس متدین نوجان کے جذبہ کی قدر کے پیش نظر ان دلائل پر خالص علمی اصولوں پر تجزیہ پیش کرنے کوشش کی ہے اور اس ضمن میں چند اور دلائل بھی جو قائلین حیات پیش کرتے ہیں کو ذکر کیا ہے تا کہ سارے دلائل کی حقیقت واضح ہو جائے۔ وباللہ التوفیق (ابو انس محمد یحییٰ گوندلوی)

کیا خضر ؑ آدمؑ کے صلبی بیٹے تھے؟

ابن عباس سے مروی ہے کہ حضرت خضر حضرت آدمؑ کے صلبی بیٹے تھے۔ ان کی عمر کو دراز کر دیا گیا یہاں تک کہ وہ دجال کی تکذیب کریں گے۔

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: دار قطنی نے اس کو داؤد بن جراح عن مقاتل بن سلیمان عن الضحاک کےطریق سے روایت کیا ہے۔ رواد ضعیف ہے مقاتل متروک ہے ضحاک نے ابن سے کچھ نہیں سنا۔ (الاصابہ ص۴۲۹)

یعنی روایت ضعیف ہونے کے ساتھ منقطع بھی ہے اگر اس کے راوی ثقہ بھی ہوتے تو اس کے ضعیف کے لیے صرف ضحاک کا انتقاع ہی کافی تھا، مگر اس روایت کا ضعف کچھ معموللی نہیں بلکہ سنگین قسم کا ہے۔ رواد کو ابن معین نے ثقہ کہا ہے ابو حاتم کہتے ہیں: صدوق تھا مگر حافظہ متغیر ہو گیا تھا۔ ابن عدی فرماتے ہیں: اس کی عام روایات پر لوگ متابعت نہیں کرتے۔ دار قطنی فرماتے ہیں: متروک ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں: مختلط ہو گیا تھا۔ (میزان الاعتدال ص۵۵ وص۵۶ ج۲)

مقاتل بن سلیمان کے بارہ میں امام بخاری فرماتے ہیں: محدثین نے اس سے سکوت اختیار کیاہے۔ (قابل اعتبار نہیں سمجھا) ابن معین فرماتے ہیں: اس کی حدیث کوئی شے نہیں۔ امام وکیع اسے کذاب کہتے تھے۔ امام نسائی بھی یہ فرماتے تھے:

جھوٹ بولتا تھا۔ ابن حبان نے تو وضاحت فرما دی کہ حدیث میں جھوٹ بولتا تھا۔ (میزان الاعتدال ج۴ص۱۷۳)

معلوم ہوا کہ یہ حدیث ضعیف ہی نہیں بلکہ مقاتل کی وجہ سے بے اصل اور باطل بھی ہے۔

مدفن آدم علیہ السلام:

دوسری روایت جو حضرت مفتی صاحب نے ابن عساکر کرکے حوالہ سے محمد بن اسحاق سے ذکر فرمائی ہے جو بڑی دلچسپ اور طویل ہے جس کا خلاسہ یہ ہے کہ حضرت آدم نے فوت ہوتے وقت اپنے بیٹوں کو وصیت فرمائی تھی کہ میرا جسم تمہارے پاس ایک غار میں محفوظ رہنا چاہیے۔ جب تم غار سے نکلو تم میری نعش کو شام لے جانا۔ اور وہیں مجھے سپرد خاک کر دینا۔ اس روایت کے آخر میں ہے۔ آدم علیہ السلام نے دعا کی تھی جو مجھے دفن کرے اس کی عمر قیامت تک دراز ہو۔ آدم کا جسد اطہر پڑا رہا، حتی کہ حضر متولد ہوئے انہوں نے آدم کو دفن کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کی دعا کو شرفِ قبولیت بخشے ہوئے خضر کی عمر دراز فرما دی۔

مذکورہ روایت امام محمد بن اسحاق نے نہ رسول اللہ سے مرفوع بیان کی ہے اور نہ کسی صحابی سے موقوف۔ بلکہ ان کے کسی ساتھی کا قول ہے جسے انہوں نے حکایہ بیان کر دیاہے ظاہر ہے، ایسی روایت قابل قبول نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ نہ صریحاً منقول ہے اور نہ اس کی کوئی سند معلوم ہے اور عقلاً بھی محال اور ناممکن ہے جس سے اس واقعہ کا بے اصل ہونا ظاہر ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہﷺ کو غسل دینا:

تیسری روایت حضرت علی سے نقل فرمائی ہے کہ میں جب رسول اللہﷺ کو غسل دینے لگا ایک غیبی آواز آئی کہ رسول اللہﷺ کو غسل دینے کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ آپ طاہر اور مطاہر ہیں۔ الحدیث

راقم کو اس روایت کی سند معلوم نہیں ہو سکی کوشش جاری ہے کہ اس کی اصل اور سند معلوم ہوجائے۔ اگر کسی صاحب علم کو اس روایت کی سند معلوم ہو تو وہ راقم الحروف کو ضرور اطلاع کر دے تاکہ اس پر تفصیلی بحث ہو سکے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات:

چوتھی روایت بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے کہ میں نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا جو کعبہ کا غلاف پکڑے ہوئے کہ رہا تھا: یَا مَنَ لَّا یشغُلُہُ سَمِعَ عَن سَمِعَ۔ اس روایت کے آخر میں ہے کہ وہ کہ رہا تھا جس کے ہاتھ میں خضر کی جان ہے۔

امام ابن جوزیؒ فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں ہے اس کا ایک راوی محمد بن ہروی مجہول ہے دوسرا راوی عبداللہ بن محرز یا محرر متروک ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں: لوگوں نے اس کی حدیث چھوڑ دی تھی۔ انب منادیؒ کہتے ہیں میری اس سے ملاقات ہوئی ہے میرے نزدیک اس سے تو بکری کی مینگنی زیادہ محبوب ہے۔ (کتاب الموضوعات ص۱۴۰ ج۱)

دار قطنی اور محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک متروک ہے۔ جو زجانی فرماتے ہیں۔ ہالک ہے۔ ابن حبان فرماتے ہیں نیک تھا جھوٹ بولتا تھا مگر جانتا نہیں تھا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔ حدیثوں کو الٹ پلٹ کر دیتا تھا، مگر اسے معلوم نہیں ہوتا تھا۔ (غیر شعوری طور پر ایسے کرتا تھا) (میزان الاعتدال ص۵۰۰ ج۳)

رسول اللہﷺ کی وفات پر خضر کی تعزیت:

حضرت مفتی صاحب نے اپنے فتویٰ میں پانچویں روایت مستدرک حاکم کے حوالہ سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے پیش کی ہے رسول اللہﷺ کی جب وفات ہوئی تو صحابہ جمع تھے۔ ایک خوبروسفید داڑھی والا آدمی داخل ہوا۔ اس روایت کے آخر میں ہے۔ حضرت ابو بکر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ شخص خضر ہے۔

یہ روایت مستدرک ص۵۵ج۳ میں حضرت جابرؓ کے بجائے حجرت انسؓ کی مسند سے ہے۔ حضرت جابر والی روایت اس روایت سے متصل ہی پہلے ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:

« لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَزَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَسْمَعُونَ الْحِسَّ وَلَا يَرَوْنَ الشَّخْصَ، فَقَالَتِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، إِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ فَائِتٍ، فَبِاللَّهِ فَثِقُوا، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا، فَإِنَّمَا الْمَحْرُومُ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابُ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» (مستدرک ص۵۸ ج۳)

جب رسول اللہﷺ فوت ہوئے تو فرشتوں نے صحابہ سے تعزیت کی صحابہ حس محسوس کرتے تھے، لیکن کسی شخص کو نہیں دیکھتے تھے۔ انہوں نے کہا اہل بیت تم پر سلامتی ۔ رحمت اور برکتیں ہوں یہ مصیبت میں اللہ کے لیے تسلی ہے اور ہر فوت ہونے والا کا نائب ہے، پس تم اللہ پر اعتماد اور بھروسہ رکھو محروم وہ ہے جو ثواب سے محروم ہو گیا۔

اس روایت میں خضر کا کہیں ذکر نہیں بلکہ فرشتوں کا ذکر ہے جس روایت میں خضر کا ذکر ہے وہ حضرت انس کی روایت ہے جس اشارتاً اوپر ذکر ہوا ہے اور اس کے الفاظ وہی ہیں جو حضرت مفتی صاحب فرمائے ہیں۔

معلوم ایسے ہوتا ہے کہ موصوف نے مذکورہ روایت اصل ماخذ کے بغیر کسی اور جگہ سے نقل کر دی ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں روایتوں میں متن اور سند کے لحاظ سے بہت فرض ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے خضر کی کوئی نسبت نہیں، حضرت انس کی روایت میں خضر کا تذکرہ موجود ہے مگر وہ بے اصل اور باطل ہے۔ حضرت انس سے روایت کرنے والا راوی عباد بن عبد الصمد ہے۔

ذہبیؒ فرماتے ہیں یہ ’’واہ‘‘ یعنی سخت ضعیف ہے۔ امام بخاریؒ فرماتے ہیں: منکر الحدیث ہے۔ ابو حاتم فرماتے ہیں: سخت ضعیف ہے۔ ابن عدی فرماتے ہیں: ضعیف اور ٖالی شیعہ تھا۔ ابن حبان فرماتے ہیں: سخت کمزور ہے، اس نے حضرت انسؓ سے ایک نسخہ روایت کیا ہے جس میں اکثر روایتیں من گھڑت ہیں۔ (میزان الاعتدال ص۳۶۹ ج۲)

مذکورہ روایت بھی اس نے حضرت انس سے روایت کی ہے۔

یہ جملہ روایات تھیں جو فتویٰ میں تھیں ان میں سوائے ایک کے باقی تمام کی حقیقت مصرحاً آپ کے سامنے ہے کہ یہ تمام بے اصل ہیں اور جس کی تفصیل آپ کے سامنے نہیں آئی اس کی راقم کو سند معلوم نہیں ہو سکی۔ ان کے علاوہ چند اور روایات بھی ہیں جن کو حضرت خضر کی حیات کے قائلین اپنے مؤقف میں پیش کرتے ہیں ان کی تفصیلی بھی ملاحظہ فرماتے جائیں تا کہ مضمون میں تشنگی باقی نہ رہے۔

رسول اللہﷺ کی فضیلت:

عبداللہ بن نافع نے کثیر بن عبداللہ عن ابیہ عن جدہ کے طریق سے روایت کی ہے رسول اللہﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے، انہوں نے اپنے سے ایک کہنے والے کو سنا جو اللھم اعنی علی ماینجینی مما فوفتنی کہہ رہا تھا۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس کے ساتھ دوسرے کلمے بھی ملا لے تو اس نے اللھم ارزقنی شوق الصالحین الی مام شوقتھم کلمہ بھی کہہ دیا۔ رسول اللہﷺ نے انسؓ سے فرمایا: جاؤ اور اس شخص کو استغفار کرو۔ انس اس کے پاس پہنچے تو اس نے کہا بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انبیاء پر ایسے فضیلت دی ہے، جیسا کہ رمضان کو دوسرے مہینوں پر فضیلت دی ہے۔ اور آپ کی امت کو دوسری امتوں پر ایسے فضیلت دی ہے جیسا کہ جمعہ کے دن کی باقی دنوں پر فضیلت ہے۔ وہ اس کے پاس گئے دیکھا تو وہ خضر ہیں۔

ابن جوزیؒ فرماتے ہیں یہ روایت باطل ہے عبداللہ بن نافع کوئی شے نہیں۔ (ابن معین) منکر حدیثیں روایت کرتا تھا۔ (علی بن المدینی) متروک الحدیث ہے۔ (نسائی) دوسرا راوی اس سند میں اس کا استاذ کثیر بن عبداللہ کے بارہ میں امام احمد فرماتے ہیں۔ کسی شے کے برابر نہیں۔ ابن معین کہتے ہیں۔ کوئی شے نہیں اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔ نسائی اور دار قطنی فرماتے ہیں۔ متروک الحدیث ہے۔ شافعیؒ فرماتے ہیں۔ جھوٹ کا رکن تھا۔ ابن حبان فرماتے ہیں: اس نے اپنے باپ دادا سے من گھڑت نسخہ روایت کیا ہے۔ (کتاب الموضوعات ص۱۳۹ ج۱)

حضرت انس سے یہی واقعہ ایک اور سند سے قدرے مفصل بھی مروی ہے، جسے امام ابن جوزیؒ  نے وضاع بن عباد کوفی سے عاصم بن سلیمان قال حدثنی انس کے طریق سے ذکر کیا ہے۔ حضرت انس فرماتے ہیں۔ میں ایک رات رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلا میں رسول اللہﷺ کے لیے وضو کا پانی اٹھائے ہوئے تھا۔ آپﷺ نے کسی آواز دینے والے کو سنا آپﷺ نے فرمایا: انس خاموشی اختیار کرو۔ میں خاموش ہو گیا تو وہ اللھم اعنی علی ماینجینی مما فوفتنی منہ کہ رہا تھا۔ آجپ نے فرمایا اگر یہ اس کے ساتھ دوسرا جملہ بھی ملا لے گویا کہ آپ نے اس کو لقمہ دیا ہے۔ اور اس نے وارزقنی شوق الصادقین الی ما شوقتھم کلمہ بھی کہ دیا۔ آپﷺ نے فرمایا: پانی کا برتن یہی رکھو اور اس کے پاس پہنچو اور اس سے کہو رسول اللہﷺ کے لیے دعا کرے کہ اللہ ان کی مدد فرمائے جس پر وہ مبعوث ہوئے ہیں۔ اور امت کے لیے دعا کرے کہ ان کے بنی نے جو ان کو حق پہنچایا ہے وہ اس پر عمل کریں۔ اس کے آخر میں ہے۔ وہ انس کو کہنے لگا: اللہ کے رسول  کو کہنا خضر آپ کو سلام کہتا ہے۔ اور آپ کے فضیلت انبیاء پر ایسے ہے جیسا کہ رمضان کی فضیلت دوسرے مہینوں پر ہے اور آپ کی امت کی فضیلت دوسری امتوں پر ایسے ہے، جیسا کہ جمعہ کے دن کی دوسرے دنوں پر فضیلت ہے۔ انس فرماتے ہیں۔ جب میں واپس مڑا تو وہ کہ رہا تھا۔ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمَرْحُومَةِ الْمُرْشِدَةِ الْمُتَوبِ عَلَيْهَا اے اللہ مجھے اس ہدایت یافتہ رحمت والی جس کی توبہ قبول کی گئی ہے امت میں سے کر دے۔

ابن جوزی فرامتے ہیں یہ روایت بھی باطل ہے وضاح راوی سخت ضعیف ہے یہ روایت منکر الاسناد بیمار متن والی ہے۔ (کتاب الموضوعات ص۱۴۰ ج۱)

ابن شاہین نے اس واقعہ کو محمد بن عبداللہ انصاری کی سند سے قدرے مختلف الفاط سے روایت کیا ہے۔ اس واقعہ میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ وہ انس کو کہنے لگا آپ رسول اللہﷺ کو کہ دیں خضر آپ کو سلام کہتا ہے اور میں آپ کے پاس آنے کا زیادہ حق رکھتا تھا۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں راوی محمد بن عبداللہ انصاری امام بخاری کا استاذ نہیں وہ تو ثقہ ہیں اس سند میں وج ہے یہ واہی الحدیث ہے۔ (الاصابۃ ص۴۳۷ ج۱)

یہ محمد بن عبداللہ انصاری ابو سلمہ بصری ہے۔ عقیلی فرماتے ہیں: منکر الحدیث ہے۔ ابن حبان فرماتے ہیں: سخت منکر الحدیث ہے۔ ابن طاہر کہتے ہیں: کذاب ہے۔ (میزان الاعتدال ص۵۹۸ ج۳)

ابن عساکر نے اس واقعہ کو ابو داؤد عن انس سے روایت کیا ہے۔

ابو داؤد سے مراد نفیع بن حارث نخعی کوفی ہے۔ عقیلی فرماتے ہیں: رفض میں غلو کرتا تھا۔ بخاری فرماتے ہیں: محدثین نے اس کے بارہ میں کلام کیا ہے۔ ابن معین کہتے ہیں: کوئی شے نہیں۔ نسائی کہتے ہیں: متروک ہے۔ دارقطنی فرماتے ہیں: متروک الحدیث ہے۔ قتادہ نے اس کی تکذیب کی ہے۔ ابن حبان فرماتے ہیں۔ اس سے روایت لینی جائز نہیں۔ (میزان الاعتدال ص۲۷۲ ج۴)

رہائش گاہ خضر:

حضرت انس سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

خضر سمند رمیں اور یسع خشمی میں رہتے ہیں یہ رات کو ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوار جو اس نے عام لوگوں اور یاجوج اور ماجوج کے درمیان بنائی تھی کے پاس اکٹھے ہوتے ہیں۔ ہر سال حج اور عمرہ کرتے ہیں اورآب زمزم پیتے ہیں جو ان کے لیے ایک سال کے واسطے کافی ہوتا ہے۔

یہ روایت باطل ہے اس کی سند میں دو راوی عبدالرحیم اور ابان دونوں متروک ہیں۔ (الاصابہ ص۴۳۶ ج)

کعب فرماتے ہیں خضر اوپر والے سمندر اور نچلے سمندر کے درمیان نور کے منبر پر رہائش پذیر ہیں، سمندر کے تمام حیوانوں کو ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے اور اس پر صبح وشام روحیں پیش کی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔ بے اصل ہے اس کا راوی عبداللہ بن مغیرہ بے اصل حدیثیں روایتیں کرتا تھا۔ ابن یونس کہتے ہیں: منکر الحدیث ہے۔ (ضعقاء الکبیر عقیلی ص۳۰۱ ج۲ والاصابۃ ص۴۳۲ ج۱)

جبرئیل امین سے ملاقات:

حجرت علی کی طرف منسوب روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور خضر ہر سال عرفہ کے دن جمع ہوتے ہیں۔ جبرئیل کہتا ہے مَا شَا ءَ اللہ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِا للہ تو میکائیل ان کے جواب میں مَا شَا ءَ اللہ مِن کُلِّ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللہ کہتے ہیں اور اسرافیل ما شاء اللہ الْخَیْرَ کُلَّه بِیَدِاللہ سے جواب لوٹاتے ہیں۔ خضر مَا شا ءاللہ لا یُصَرِّفُ السُّوْءَ اِلَّا اللہ سے جواب دیتے ہیں اس کے بعد وہ جدا جدا ہو جاتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا:

جوان چار کلموں کو نیند سے بیدار ہوتے وقت پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کے لیے چار فرشتے مقرر کر دیتا ہے۔ (الحدیث)

یہ طویل روایت کا ایک ٹکڑا ہے۔ امام ابن جوزی فرماتے ہیں: باطل ہے اس کی سند میں بہت سے مجہول راوی ہیں۔ (کتاب الموضوعات ص۱۴۰ ج۱)

حافظ سیوطی فرماتے ہیں: اس روایت کو ابن جوزی نے واہیات میں عبیدبن اسحٰق کے طریق سے ذکر کیا ہے، اور عبید متروک ہے۔ (اللائی المصنوعہ ص۱۶۷ ج۱)

حضرت الیاس وخضر کی ملاقات:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ حضرت خضر اور حضرت الیاس ہر سال ملاقات کرتے ہیں اور اس کلمہ بِسْمِ اللہ مَا شاءاللہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ پر جدا ہو جاتے ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں: جو ہر روز صبح وشام اس کلمے کو تین بار پڑھتا ہے وہ ڈوبنے، جل جانے اور چوری چکاری سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ راوی کا خیال ہے کہ وہ شیطان، سابپ اور بچھو سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے۔

اس روایت کو حافظ ابن عدی نے حسن بن رزین عن ابن جریج کے طریق سے روایت کیا ہے۔ اور فرماتے ہیں: میرے علم میں نہیں کہ اس روایت کو ابن جریج سے اس سند کے ساتھ سوائے حسن بن رزین کے کسی اور نے روایت کیا ہو۔ حسن معروف نہیں اور یہ حدیث اس سند کے ساتھ منکر ہے۔ نیز یہ ابن جریج سے ایسی روایتیں لاتا ہے جو غیر محفوظ ہوتی ہیں۔ (الکامل ص۷۴۰ ج۲)

حافظ عقیلی نے بھی اس روایت کو حسن بن رزین کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے اور فرماتے ہیں: حسن روایت میں مجہول ہے۔ اس نے یہ روایت ابن عباس سے موقوف بھی روایت کی ہے اس کی متابعت نہ مرفوع روایت پر ہے اور نہ موقوف روایت پر۔ (الضعفاء الکبیر ص۲۲۵ ج۱)

امام دار قطنی فرماتے ہیں: اس کو ابن جریج سے صرف حسن بن رزین نے روایت کیا ہے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: یہ روایت حسن کی سند کے علاوہ بھی آتی ہے مگر وہ سند سخت کمزور ہے، جس کو ابن جوزی نے احمد بن عمار قَالَ حَدَّثَنَا محمد بن مَھْدِیِّ حَدَّثَنَا مَھْدِیُّ بن ھلال عن ابن جریج کی سند سے روایت کیا ہے جس کے یہ الفاظ ہیں:

خشکی والا اور سمندر والا الیاس اور خضر ہر سال مکہ میں اکٹھے ہوتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کا سر مونڈتے ہیں۔

ابن جوزی فرماتے ہیں: احمد بن عمار دار قطنی کے نزدیک متروک ہے اور مہدی بن بلال بھی  اس کی مثل ہے۔ ابن حبان فرماتے ہیں: مہدی بن بلال من گھڑت حدیثیں روایت کرتا تھا۔ (الاصابہ ص۴۳۸ ج۱)

حافظ ابن حبان کی مفصل جرح اس طرح ہے فرماتے ہیں: ثقہ راویوں کے نام سے من گھڑت اور مفصل حدیثیں روایت کرتا تھا اس سے کسی بھی حالت میں حجت پکڑنی جائز نہیں۔ امام یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں: کذاب ہے۔ (کتاب المحروحین ص۳۰ ج۳)

اسی طرح عبدالعزیز بن ابی رواد کی روایت کہ خضر اور الیاس ہر سال رمضان میں بیت المقدس جمع ہوتے ہیں، وہاں کرفس سے روزے افطار کرتے ہیں اور ہر سال حج کے موقعہ پر بھی ملاقات کرتے ہیں۔ حافظ ابن حجر اور حافظ سخاوی فرماتے ہیں: یہ روایت ضعیف ہے۔ (الاصابۃ ص۴۳۹ ج۱ والمقاصد الحسنۃ ص۱۲۲)

اسی طرح عبد الرحیم بن حبیب کی سند سے جعفر بن محمد عن آباہ عن علی کے طریق سے بہت لمبی حدیث ہے جس کے آخر میں ہے الیسا اور یسع دونوں ہر سال حج کے موقع پر جمع ہوتے ہیں اور آب زمزم پیتے ہیں جو ان کے لیے ایک سال کے لیے کافی ہوتا ہے ان کا کھانا کماۃ (کھنب) اور کرفس ہوتا ہے۔ مقاتل کہتے ہیں: یسع سے مراد خضر ہیں۔ (الاصابۃ ص۴۳۹ ج۱)

بلا شبہ یہ روایت من گھڑت ہے۔ عبدالرحیم بن حبیب فریالی کے بارہ میں حافظ ابن حبان فرماتے ہیں:

کَانَ یَضَعُ الْحدِیثَ عَلَی الثِّقَاتِ وَضْعاً لَا تَحِلُّ الروایۃ عَنْہُ وَلَعَلَّ ھَذَا الشیخ قَد وَضَعَ اَکْثَرَ مِنْ خَمْس مِائَۃ حدیث عَلَی رسول اللہﷺ رَوَاھَا عَنِ الثِّقَاتِ۔ (کتاب المجروحین ص۱۶۳ ج۲)

یہ ثقہ راویوں کے نام سے حدیثیں گھڑتا تھا اس سے روایت لینی حلال نہیں ہے۔ اس نے پانچ سو سے زائد رسول اللہ کے نام پر حدیثیں خود گھڑی ہیں، جن کو اس نے ثقہ راویوں کے نام سے روایت کیا ہے۔

حافظ ابن جوزی فرماتے ہیں:

لا شک ان ھذا الحدیث موضوع والمتھم بہ عبدالرحیم بن حبیب۔ (الاصابۃ ص۴۳۹ ج۱)

اس حدیث کے من گھڑت ہونے میں کسی قسم کا شک نہیں ہے اور اس کے گھڑنے کا الزام عبدالرحیم بن حبیب پر ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ملاقات:

ابن شاہین نے کتاب الجنائز میں ابن وھب عمن حدثہ عن محمد بن عجلان عن محمد بن المنکدر کے طریق سے روایت ذکر کی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر نماز جنازہ پڑھانے لگے تو پیچھے سے آواز آئی ٹھہریے۔ نماز جنازہ میں ہم سے سبقت نہ لے جائیں۔ حضرت عمر اس کے انتظار میں ٹھہر گئے جب وہ صف میں شامل ہو گیا تو حضرت عمر نے تکبیر کہی۔ وہ آدمی تکبیر تحریمہ کے بعد کہنے لگا: ان تعذبہ فقد عصاک وان تغفرلہ فانہ فقیر الی رحمتک حضرت عمر اور دیگر لوگوں نے اس کی طرف دیکھا میت کو جب قبر میں اتارا گیا اور مٹی برابر کر دی گئی تو کہنے لگا: اے مرنے والے تجھے مبارک ہو تو چوہدری نہ تھا خائن اور خازن بھی نہ تھا۔ سیکرٹری اور پولیس کا آدمی بھی نہ تھا۔ حجرت عمر نے فرمایا: اسے میرے پاس پیش کرو۔ مگر وہ آدمی چلے گیا اس کے پاؤں کے نشانات کو دیکھا گیاتو وہ بازو کے برابر تھے۔ حضرت عمر فرمانے لگے یہ خضر تھے، جن کے بارہ میں رسول اللہﷺ نے ہمیں خبر دی تھی۔

یہ روایت ناقابل حجت ہے اس میں کئی ایک علتیں ہیں ایک تو ابن وہب کا استاذ مجہول اور نامعلوم ہے، دوسری علت ابن المنکدر اور حضرت عمر کے درمیان انقطاع ہے۔ (الاصابۃ ص۴۴۴ ج۱)

تیسری علت محمد بن عجلان سیئ الحفظ ہے۔ (الکاشف) اور چوتھی علت ابن عجلان طبقہ ثالثہ کا مدلس ہے، جس کی روایت سماع کی تصریح کے بغیر قابل قبول نہیں ہے۔ (طبقات المدلسین ص ۱۰؟)

حضرت حذیفہ اور انس سے ملاقات:

ابن شاہین نے بقیۃ عن الاوزاعی عن مکحول سمعت واثلۃ کے طریق سے ایک لمبی حدیث جو تقریباً چار صفحوں کے برابر ہے روایت کی ہے واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم جذام کے علاقہ میں پہنچے تو ہمیں سخت پیاس محسوس ہوئی۔ ہم کو وہاں کچھ بارش کے آثار نظر آئے ابھی ہم نے ایک میل سفر ہی طے کیا تھا کہ ایک بہت بڑا تالاب نظر آیا اس وقت ایک تہائی رات گزر چکی تھی۔ اس جگہ ایک آدمی کو پایا جو بڑی غمگین آواز سے کہ رہا تھا:

اے اللہ! مجھے امت محمدیہ مرحوم اور مغفورہ سے کر دے جن کی دعا قبول ہوتی ہے اور ان پر رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔

رسول اللہﷺ نے حضرت حذیفہ اور انس رضی اللہ عنہما کو حکم فرمایا کہ تم اس کھائی میں داخل ہو کر اس آواز کی تحقیق کرو۔ جب ہم وہاں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں برف سے بھی زیادہ سفید لباس لیے ہوئے ایک آدمی ہے جس کا چہرہ اور داڑھی بھی نہایت درجہ سفید تھے اور اس کا جسم ہم سے دو تین ہاتھ دراز تھا ہم نے اس پر سلام کہا اس نے سلام کا جواب لوٹاتے ہوئے مرحبا کہا اور فرمایا تم دونوں رسول اللہﷺ کے سفیر ہو۔ہم نے کہا ہاں ٹھیک ہے مگر بتاؤ تم کون ہو؟ کہنے لگا: میں الیاس ہوں۔ اس روایت کے آخر میں ہے۔ ہم نے اس سے پوچھا آپ کی جناب خضر سے کب کی ملاقات ہوئی ہے فرمانے لگے پچھلے حج کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی اور آئندہ حج کے موقع پر پھر ملاقات ہو گی۔

ناقابل ثبوت ہے۔ امام ابن جوزی فرماتے ہیں ہو سکتا ہے کہ بقیہ نے اس روایت کو کسی کذاب راوی سے سن کر اوزاعی سے تدلیس کر لی ہو۔ (الاصابۃ ص۴۴۰ ج۱)

بقیہ ضعیف اور مشہور مدلس ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کو طبقہ ثالثہ کے مدلسین میں ذکر فرمایا ہے اور س کے بارہ میں تصریح فرمائی ہے۔ کہ ضعفاء اور مجہول راویوں سے بکثرت تدلیس کرتا تھا۔ (طبقات العدلسبین ص۱۲۱)

اس روایت کی سند میں قابل تشویش بات یہ ہے کہ مکحول فرماتے ہیں: میں نے واثلہ سے سنا۔ حالانکہ مکحول کا حضرت واثلہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ جیسا کہ محدثین نے اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ امام ابو مسہر فرماتے ہیں: مکحول کا صرف حضرت انس سے سماع ہے کسی اور صحابی سے ان کا سماع نہیں ہے۔ امام ابو حاتم فرماتے ہیں: مکحول نے واثلہ سے کچھ بھی نہیں سنا، صرف ان کے پاس گئے تھے۔ (کتاب المراسیل ص۲۱۱)

معلوم ہوتا ہے کہ بقیہ نے جس راوی سے اس روایت کو سنا تھا اس نے حضرت مکحول کی طرف یہ منسوب کر دیا کہ انہوں نے حضرت واثلہ سے سنا ہے، حالانکہ سننے کا یہ دعویٰ غلط ہے۔

اس روایت کی سند بقیہ کے علاوہ بھی اوزاعی سے ایک اور طریق سے ہے وہ یزید بن یزید موصلی حیمی۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ اسحاق الجوشی عن الاوزاعی عن مکحول عن انس ہے۔

مگر یہ بھی باطل ہے۔ امام ابن جوزی فرماتے ہیں یہ حدیث من گھڑت ہے اس کا کچھ اصل نہیں۔ یزید موصلی اور ابو اسحاق دونوں نامعلوم ہیں۔ (کتاب الموضوعات ۱۴۲ ج۱)

بیہقی فرماتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے۔ (دلائل النبوۃ ص۴۲۲ ج۵) ذہبیؒ فرماتے ہیں باطل ہے۔ (میزان ص۴۱۱، ج۴) اور من گھڑت ہے۔ (تلخیص المستدرک ص۶۱۷ ج۲)

نوٹ: اس دوسری سند والی روایت میں صرف الیاس کا ذکر ہے خضر کا نہیں، اس لیے یہ پہلی روایت کی شاہد نہیں بن سکتی۔

ابن عمرؓ سے ملاقات:

ابو عمرو بن سماک نے اپنے فوائد میں یحییٰ بن ابی طالب عن علی بن عاصم عن عبداللہ بن عبیداللہ کی سند سے روایت ذکر کی ہے کہ ابن عمر لیٹے ہوئے تھے۔ ایک آدمی نے اپنا سامان فروخت کی غرض سے رکھاہوا تھا اور اس سامان کے بارہ میں باربار قسمیں اٹھا رہا تھا، اس کے پاس سے ایک آدمی گزرا اور کہنے لگا: اللہ سے ڈرو اور جھوٹی قسم نہ اٹھاؤ۔ تجھ پر سچائی لازم ہے، خواہ تجھے نقصان اٹھانا پڑے۔ اور جھوٹ سے بچو، خواہ تجھے فائدہ پہنچے۔ ابن عمر ایک شخص سے کہنے لگا اس شخص کے پاس جاؤ اور اس سے کہو یہ کلمات مجھے لکھ دے مگر وہ آدمی نہ مل سکا۔ ابن عمر فرمانے لگے ی خضر تھا۔ مختصراً امام ابن فرماتے ہیں: علی بن عاصم ضعیف سی الحفظ تھا۔ اس کا ارادہ عمر بن محمد بن منکذر کہنے کا تھا، مگر اس نے ابن عمر کہہ دیا۔ اس روایت کو احمد بن محمد بن مصعب نے مجہول راویوں کی اکی جماعت سے عن عطاء عن ابن عمر کے طریق سے بھی روایت کیا ہے اور یہ احمد بن محمد کذاب ہے۔ (الاصابۃ ص۴۴۴ ج۱) حافظ ابن حبان احمد بن محمد کے بارہ میں فرماتے ہیں:

متن اپنی طرف سے گھڑ لیتا اور سند الٹ پلٹ کر دیتا تھا۔ دار قطنی فرماتے ہیں: حدیث وضع کرتا تھا۔ (میزان ص۱۴۹ جلد۱)

یہ حدیث حجاج بن فرافضۃ نے بھی ابن عمر سے روایت کی یہ اس روایت کے آخر میں ہے اس شخص نے ایک پاؤں مسجد میں رکھا مجھے معلوم نہیں کہ اس کے پاؤں کے نیچے زمین تھی یا آسمان تھا۔ وہ اس شخص کو خضر یا الیاس خیال کرتے تھے۔

اولاً: ۔۔۔۔۔۔ حجاج کو بعض ائمہ نے ضعیف کہا ہے ابو زرعہ فرماتے ہیں: قوی نہیں۔ (المغنی فی الصغفاء ص۱۵۰ ج۱ للذھبی۔)

ابن عدی فرماتے ہیں: عَامَّة مَا یَرْوِیْہِ لَا یُتَابَعَ عَلَیْہِ۔ (سلسلہ احادیث ضعیفہ ص۶۲ ج۴)

اس کی عام روایات پر متابعت نہیں ہے۔

ثانیا: ۔۔۔۔۔۔ حجاج کا ابن عمرؓ سے انقطاع ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے ان کو طبقہ ساوسہ میں شمار کیا ہے اور اس طبقہ کے بارہ میں فرماتے ہیں:

لَمْ یَثْبُتَ لَّھُمْ لِقَاءُ اَحَدٍ مِّنَ الصَّحَابَة۔ (تقریب:ص۱۰)

اس طبقہ کے راوی وہ ہیں جن کی کسی صحابی سے ملاقات ثابت نہ ہو۔

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: اس کی سند غیر جید ہے۔ (الاصابہ ص۴۴۵ ج۱)

تعزیت کی دوسری روایت:

تعزیت کی ایک روایت اس سے پہلے گزر چکی ہے، اس بارہ میں حضرت علیؓ سے ہی منسوب ایک اور روایت بھی ملاحظہ فرماتے جائیں۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں جب نبیﷺ فوت ہوئے اور تعزیت کرنے والے آئے صحابہ کے پاس ایک شخص آیا جس کے آنے کی وہ حس محسوس کرتے تھے مگر اس کے وجود کو نہیں دیکھ رہے تھے۔ اس نے السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا اور یہ آیت کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ تلاوت کی، پھر کہنے لگا: اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر مصیبت میں تسلی ہے اور ہر فوت ہونے والے کا نائب ہے۔ اس روایت کے آخر میں ہے۔

جعفر فرماتے ہیں مجھے میرے باپ نے خبر دی کہ حضرت علیؓ فرمانے لگے۔ تمہیں معلوم ہے یہ کون ہے؟ یہ خضر ہے۔ اس روایت کو ابن ابی حاتم نے محمد بن علی بن حسین سے روایت کیا ہے۔ محمد بن علی کی روایت اپنے پردادا علی بن ابی طالب سے معضل ہے۔

امام ابو ذرعہ فرماتے ہیں: محمد اور اس کے والد علی بن حسین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ (کتاب المراسیل ص۱۸۶)

محمدبن علی ابوجعفر باقرص ۵۶ کو یعنی حضرت علی کی شہادت کے سولہ سال بعد پیدا ہوئے اور ۱۱۸ میں فوت ہوئے۔ (الکاشف ص۷۱ ج۳)

علاوہ ازیں اس سند میں ایک راوی علی بن علی ہاشمی ہے جس کا تذکرہ حافظ ذہبی نے علی بن ابی علی لہبی کے نام سے کیا ہے۔ امام احمدفرماتے ہیں: اس کی روایات منکر ہیں۔ ابو حاتم اور نسائی فرماتے ہیں: متروک ہے۔ ابن معین فرماتے ہیں: کوئی شے نہیں۔ (میزان الاعتدال ص۱۴۷ ج۲)

عقیلی فرماتے ہیں: متروک ہے۔ بخاری فرماتے ہیں: ضعیف منکر الحدیث ہے۔ نسائی فرماتے ہیں: کوئی شے نہیں۔

عقیلی فرماتے ہیں: متروک ہے۔ بخاری فرماتے ہیں: ضعیف منکر الحدیث ہے۔ نسائی فرماتے ہیں: ثقہ نہیں۔ بغوی فرماتے ہیں: ضعیف الحدیث ہے۔ ابن عدی فرماتے ہیں: اس کی تمام روایات غیر محفوظ ہیں: حاکم فرماتے ہیں: ابن المنکدر سے من گھڑت حدیثیں روایت کرتا تھا۔ نقاش، ابن جارود، ساجی، خطیب، ابن سمعانی نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ امام احمد بھی اس سے راضی نہ تھے۔ (لسان المیزان ص۲۴۶ ج۴)

یہی روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بجائے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جس کو طبرانی (ص۱۲۹ج۳) نے عبداللہ بن میمون القداح کے طریق سے عن جعفر بن محمد روایت کیا ہے۔ ہیثمی فرماتے ہیں: عبداللہ بن میمون القداح ذاہب الحدیث ہے۔ (محمع ص۳۵ ج۹) ابو حاتم فرماتے ہیں: متروک ہے۔ بخاری فرماتے ہیں: ذاہب الحدیث ہے۔ (میزان الاعتدال ص۵۱۲ ج۲) ابن حبان فرماتے ہیں: جعفر بن محمد اور اہل عراق اور اہل حجاز سے مقلوب حدیثیں روایت کرتا تھا جب منفرد ہو تو قابل حجت نہیں ہے۔ (کتاب المحروحین ص۲۱ ج۲)

عبداللہ بن میمون کی متابعت محمد بن جعفر نے کی ہے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: محمدبن جعفرموسیٰ کاظم کا بھائی تھا جس کو معتصم نے گرفتار کیا تھا اراس نے برسر منبر اقرار کیا تھا کہ اے لوگو! میں تم سے جو حدیثیں روایت کرتا تھا وہ میری ہی گھڑی ہوئی تھیں جس پر لوگوں نے اس سے جتنی روایات لکھی تھیں سب کو پھاڑ دیا۔ (الاصابۃ ص۴۴۳ ج۱)

حافظ خطیب بغدادی نے اس کے گرفتاری کے واقعہ کے بعد لکھا ہے کہ پھر سے سیاہ چادر اوڑھ کر منبر پربٹھا دیا گیا ہے اور کہا گیا کہ جو تو لوگوں میں ان کا دین خراب کرنے کے لیے روایتیں بیان کرتا تھا ان کی تکذیب کر۔ چنانچہ اس نے خطبہ کے بعد اقرار کیا کہ لوگو! میں تم میں جو حدیثیں روایت کرتا تھا وہ میری گھڑی ہوئی ہیں۔ (تاریخ بغداد ص۱۱۰ ج۲)

یہ روایت مشکوٰۃ المصابیح ص۵۴۹ میں جعفر بن محمد عن ابیہ کے طریق سے بحوالہ دلائل النبوۃ بیہقی ص۲۶۷ ج۷ مفصل ذکر ہوئی ہے۔

اولاً: ۔۔۔۔۔ تو یہ روایت مرسل ہے جو قابل حجت نہیں ہے۔

ثانیاً: ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی سند میں قاسم بن عبداللہ بن عمربن حفص راوی متروک ہے۔ امام احمد نے اس کی تکذیب کی ہے۔ (تقریب ص۲۷۹) اور فرماتے ہیں: کوئی شیء نہیں جھوٹ بولتا اور حدیثیں وضع کرتا تھا۔ ابن معین فرماتے ہیں: کذاب ہے۔  (میزان الاعتدال ص۳۲۲ ج۳)

حیات خضر کے بارہ میں یہ جملہ روایات ہیں جو راقم الحروف کو دستیاب ہو سکی ہیں، آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے ان میں ایک روایت بھی قبولیت کے معیار پر پوری اترتی بلکہ تمام کی تمام بے اصل اور ناقابل اعتبار ہے۔ ہم نے اس بارہ میں مکمل تفصیل اپنی کتاب ’’ضعیف اور موضوع روایات‘‘ میں دی ہے والحمدللہ علی ذالک۔

سیداحمد سرہندی کا مراقبہ:

قاضی ثناءاللہ پانی پتی نے شیخ احمد سرہندی سے نقل فرمایا ہے کہ حضرت مجدد صاحب سے جب حضرت خضر کے زندہ یا مردہ ہونے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے اللہ کی طرف توجہ کی اور بارگاہ اقدس سے اس کا جواب ملنے کی دعا کی۔چنانچہ عالم مراقبہ میں آپ نے دیکھا کہ خضر سامنے آ گئے ہیں، حضرت مجدد صاحب نے حضرت خضر سے خود ان کی حالت دریافت کی۔ حضرت خضر نے فرمایا میں اور الیاس دونوں زندہ نہیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو ایسی طاقت عطا فرما دی ہے کہ ہم جسم کا لباس پہن کر بھٹکے ہوؤں کو راستہ بتاتے اور مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہیں۔ اگر اللہ چاہتا ہے (بعض لوگوں کو) علم لدنی بھی تعلیم کرتے ہیں اور نسبت بھی عطا کرتے ہیں ہم کو اللہ تعالیٰ نے قطب مدار کا مددگار بنایا ہے قطب مدار کو اللہ تعالیٰ نے مدار عالم بنایا ہے، انہیں کی برکت سے یہ عالم قائم ہے ہم ان کی مدد کرتے ہیں اس زمانہ میں ان کا مسکن ملک یمن ہے وہ فقہ شافعی کے پیروکار ہیں ہم بھی قطب مدار کے ساتھ شافعی فقہ کے موافق نماز پڑھتے ہیں۔ (تفسیر مظھری مترجم بلفظہ ص۲۶۱ ج۷)

اس بارہ میں اولاً کہتے ہیں صوفیہ حضرات کے مراقبہ کا کوئی شرعی وجود نہیں، یہ خالص انہی حضرات کی اختراع ہے ان کا مراقبہ اور مکاشفہ معاذاللہ انبیاء علیہم السلام کی وحی سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وہ اس لیے وحی تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ جب چاہتا تھا اپنے رسولوں کی طرف وحی کرتا تھا اس میں انبیاء اور رسولوں کی مرضی کو کچھ دخل نہ ہوتا تھا بلکہ بسا اوقات وہ وحی کے محتاج بھی ہوتے تھے اور خواہش بھی کرتے تھے کہ فلاں مسئلہ کے بارہ میں جلدی وحی نازل ہو، مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ابھی کچھ تاخیر ہوتی تھی ایسے ہی بسا اوقات حالات خود حضرت خاتم الانبیاء کو بھی پیش آتے۔ آپ نے جبرئیل امین سے دریافت بھی فرمایا کہ تم کو ہمارے پاس بکثرت آنے سے کون سی چیز مانع ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت وَمَا نَتَنَزَّل اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ۔ (مریم:۶۴) ہم تو تیرے رب کے حکم پر ہی آتے ہیں۔ (بخاری کتاب التفسیر سورۃ المریم حدیث نمبر ۴۷۲۱)

مگر صوفیہ کا مراقبہ اور مکاشفہ ان کے اپنے اختیار میں ہے جب چاہا ذرا گردن جھکائی اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے اور جب آنکھیں بند کیں تو اللہ اور ان کے درمیان حائل تمام پردے رفع ہو گئے اور مغیات پر اطلاع پا لی۔ یہ مراقبہ بھی کچھ اسی قسم کا ہے۔ یہ کتاب وسنت سے مسئلہ کا حل دریافت کرنے کے بجائے براہ راست مراقبہ اور مکاشفہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے حل کروا لیتے ہیں کتاب وسنت کی چنداں ضرورت نہیں۔ جس کی روشن مثال مذکورہ مراقبہ ہے کہ جو کتاب وسنت سے فیصلہ نہ ہو سکا۔ مراقبہ نے ایک لمحہ میں کر دیا کہ خضر مرنے کے بعد بھی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔

پھر سرسری نگاہ سے دیکھا جائے تو اس مراقبہ میں بہت سی چیزیں زیر نظر ہیں:

اولاً: مراقبہ میں حضرت خضرکا مجدد صاحب سے براہ راست ہم کلام ہونا جب کہ وہ فوت بھی ہو چکے تھے۔

ثانیاً: مرنے کے ان کی روح کو ایسی طاقت کا عطا ہو جانا کہ وہ مصیبت زدوں کی حاجت روائی کریں۔

ثالثاً: علم لدنی کی تعلیم دینا۔

رابعاً: قطب مدار ک اوجود اور اس کے ذریعے عالم اور جہاں کا قائم رہنا۔

یہ تمام چیزیں کتاب وسنت سے بعید بلکہ صریحاً خلاف ہیں قرآن کریم کی رو سے ایسے اختیارات تو کسی کو دنیاوی زندگی میں حاصل نہیں ہوتے چہ جائے کہ مرنے کے بعد حاصل ہوں۔

پھر حضرت خضر کا مرنے کے بعد فقہ شافعی کے مذہب کے مطابق نماز پڑھنا، حالانکہ صحیح حدیث میں ہے کہ ’’جب آدمی فوت ہو جاتا ہے اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں۔‘‘ (مسلم)

پھر حیات خضر کے قائلین کے لیے ضروری ہے کہ وہ حنفی مذہب کو ترک کر کے شافعہ مذہب کو اپنائیں کیونکہ اس مراقبہ کی رو سے قطب مدار اور خظر کا مذہب حنفی نہیں بلکہ شافعی ہے۔ ہاں، ایک بات یہ بھی کھٹکتی ہے کہ جب شافعی مذہب موجود نہیں تھا تو کیا خضر اور قطب مدار اس وقت موجود تھے یا کہ نہیں؟ اگر وہ موجود نہ تھے تو پھر شافعی مذہب کی تدوین کے بعد وہ کیسے وجود میں آگئے، اگر موجود تھے تو وہ کس مذہب پر تھے۔ کیا وہ اس وقت میں حق پر تھے یا کہ نہیں؟ الغرض! یہ سب مراقبہ کی باتیں ہیں جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

حضرت حذیفہ اور انس سے ملاقات:

ابن شاہین نے بقیۃ عن الاوزاعی عن مکحول سمعت واثلۃ کے طریق سے ایک لمبی حدیث جو تقریباً چار صفحوں کے برابر ہے روایت کی ہے واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم جذام کے علاقہ میں پہنچے تو ہمیں سخت پیاس محسوس ہوئی۔ ہم کو وہاں کچھ بارش کے آثار نظر آئے ابھی ہم نے ایک میل سفر ہی طے کیا تھا کہ ایک بہت بڑا تالاب نظر آیا اس وقت ایک تہائی رات گزر چکی تھی۔ اس جگہ ایک آدمی کو پایا جو بڑی غمگین آواز سے کہ رہا تھا:

اے اللہ! مجھے امت محمدیہ مرحوم اور مغفورہ سے کر دے جن کی دعا قبول ہوتی ہے اور ان پر رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔

رسول اللہﷺ نے حضرت حذیفہ اور انس رضی اللہ عنہما کو حکم فرمایا کہ تم اس کھائی میں داخل ہو کر اس آواز کی تحقیق کرو۔ جب ہم وہاں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں برف سے بھی زیادہ سفید لباس لیے ہوئے ایک آدمی ہے جس کا چہرہ اور داڑھی بھی نہایت درجہ سفید تھے اور اس کا جسم ہم سے دو تین ہاتھ دراز تھا ہم نے اس پر سلام کہا اس نے سلام کا جواب لوٹاتے ہوئے مرحبا کہا اور فرمایا تم دونوں رسول اللہﷺ کے سفیر ہو۔ہم نے کہا ہاں ٹھیک ہے مگر بتاؤ تم کون ہو؟ کہنے لگا: میں الیاس ہوں۔ اس روایت کے آخر میں ہے۔ ہم نے اس سے پوچھا آپ کی جناب خضر سے کب کی ملاقات ہوئی ہے فرمانے لگے پچھلے حج کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی اور آئندہ حج کے موقع پر پھر ملاقات ہو گی۔

ناقابل ثبوت ہے۔ امام ابن جوزی فرماتے ہیں ہو سکتا ہے کہ بقیہ نے اس روایت کو کسی کذاب راوی سے سن کر اوزاعی سے تدلیس کر لی ہو۔ (الاصابۃ ص۴۴۰ ج۱)

بقیہ ضعیف اور مشہور مدلس ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کو طبقہ ثالثہ کے مدلسین میں ذکر فرمایا ہے اور س کے بارہ میں تصریح فرمائی ہے۔ کہ ضعفاء اور مجہول راویوں سے بکثرت تدلیس کرتا تھا۔ (طبقات العدلسبین ص۱۲۱)

اس روایت کی سند میں قابل تشویش بات یہ ہے کہ مکحول فرماتے ہیں: میں نے واثلہ سے سنا۔ حالانکہ مکحول کا حضرت واثلہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ جیسا کہ محدثین نے اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ امام ابو مسہر فرماتے ہیں: مکحول کا صرف حضرت انس سے سماع ہے کسی اور صحابی سے ان کا سماع نہیں ہے۔ امام ابو حاتم فرماتے ہیں: مکحول نے واثلہ سے کچھ بھی نہیں سنا، صرف ان کے پاس گئے تھے۔ (کتاب المراسیل ص۲۱۱)

معلوم ہوتا ہے کہ بقیہ نے جس راوی سے اس روایت کو سنا تھا اس نے حضرت مکحول کی طرف یہ منسوب کر دیا کہ انہوں نے حضرت واثلہ سے سنا ہے، حالانکہ سننے کا یہ دعویٰ غلط ہے۔

اس روایت کی سند بقیہ کے علاوہ بھی اوزاعی سے ایک اور طریق سے ہے وہ یزید بن یزید موصلی حیمی۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ اسحاق الجوشی عن الاوزاعی عن مکحول عن انس ہے۔

مگر یہ بھی باطل ہے۔ امام ابن جوزی فرماتے ہیں یہ حدیث من گھڑت ہے اس کا کچھ اصل نہیں۔ یزید موصلی اور ابو اسحاق دونوں نامعلوم ہیں۔ (کتاب الموضوعات ۱۴۲ ج۱)

بیہقی فرماتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے۔ (دلائل النبوۃ ص۴۲۲ ج۵) ذہبیؒ فرماتے ہیں باطل ہے۔ (میزان ص۴۱۱، ج۴) اور من گھڑت ہے۔ (تلخیص المستدرک ص۶۱۷ ج۲)

نوٹ: اس دوسری سند والی روایت میں صرف الیاس کا ذکر ہے خضر کا نہیں، اس لیے یہ پہلی روایت کی شاہد نہیں بن سکتی۔

ابن عمرؓ سے ملاقات:

ابو عمرو بن سماک نے اپنے فوائد میں یحییٰ بن ابی طالب عن علی بن عاصم عن عبداللہ بن عبیداللہ کی سند سے روایت ذکر کی ہے کہ ابن عمر لیٹے ہوئے تھے۔ ایک آدمی نے اپنا سامان فروخت کی غرض سے رکھاہوا تھا اور اس سامان کے بارہ میں باربار قسمیں اٹھا رہا تھا، اس کے پاس سے ایک آدمی گزرا اور کہنے لگا: اللہ سے ڈرو اور جھوٹی قسم نہ اٹھاؤ۔ تجھ پر سچائی لازم ہے، خواہ تجھے نقصان اٹھانا پڑے۔ اور جھوٹ سے بچو، خواہ تجھے فائدہ پہنچے۔ ابن عمر ایک شخص سے کہنے لگا اس شخص کے پاس جاؤ اور اس سے کہو یہ کلمات مجھے لکھ دے مگر وہ آدمی نہ مل سکا۔ ابن عمر فرمانے لگے ی خضر تھا۔ مختصراً امام ابن فرماتے ہیں: علی بن عاصم ضعیف سی الحفظ تھا۔ اس کا ارادہ عمر بن محمد بن منکذر کہنے کا تھا، مگر اس نے ابن عمر کہہ دیا۔ اس روایت کو احمد بن محمد بن مصعب نے مجہول راویوں کی اکی جماعت سے عن عطاء عن ابن عمر کے طریق سے بھی روایت کیا ہے اور یہ احمد بن محمد کذاب ہے۔ (الاصابۃ ص۴۴۴ ج۱) حافظ ابن حبان احمد بن محمد کے بارہ میں فرماتے ہیں:

متن اپنی طرف سے گھڑ لیتا اور سند الٹ پلٹ کر دیتا تھا۔ دار قطنی فرماتے ہیں: حدیث وضع کرتا تھا۔ (میزان ص۱۴۹ جلد۱)

یہ حدیث حجاج بن فرافضۃ نے بھی ابن عمر سے روایت کی یہ اس روایت کے آخر میں ہے اس شخص نے ایک پاؤں مسجد میں رکھا مجھے معلوم نہیں کہ اس کے پاؤں کے نیچے زمین تھی یا آسمان تھا۔ وہ اس شخص کو خضر یا الیاس خیال کرتے تھے۔

اولاً: ۔۔۔۔۔۔ حجاج کو بعض ائمہ نے ضعیف کہا ہے ابو زرعہ فرماتے ہیں: قوی نہیں۔ (المغنی فی الصغفاء ص۱۵۰ ج۱ للذھبی۔)

ابن عدی فرماتے ہیں: عَامَّۃٌ مَا یَرْوِیْہِ لَا یُتَابَعَ عَلَیْہِ۔ (سلسلہ احادیث ضعیفہ ص۶۲ ج۴)

اس کی عام روایات پر متابعت نہیں ہے۔

ثانیا: ۔۔۔۔۔۔ حجاج کا ابن عمرؓ سے انقطاع ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے ان کو طبقہ ساوسہ میں شمار کیا ہے اور اس طبقہ کے بارہ میں فرماتے ہیں:

لَمْ یَثْبُتَ لَّھُمْ لِقَاءُ اَحَدٍ مِّنَ الصَّحَابَۃِ۔ (تقریب:ص۱۰)

اس طبقہ کے راوی وہ ہیں جن کی کسی صحابی سے ملاقات ثابت نہ ہو۔

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: اس کی سند غیر جید ہے۔ (الاصابہ ص۴۴۵ ج۱)

تعزیت کی دوسری روایت:

تعزیت کی ایک روایت اس سے پہلے گزر چکی ہے، اس بارہ میں حضرت علیؓ سے ہی منسوب ایک اور روایت بھی ملاحظہ فرماتے جائیں۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں جب نبیﷺ فوت ہوئے اور تعزیت کرنے والے آئے صحابہ کے پاس ایک شخص آیا جس کے آنے کی وہ حس محسوس کرتے تھے مگر اس کے وجود کو نہیں دیکھ رہے تھے۔ اس نے السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا اور یہ آیت کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ تلاوت کی، پھر کہنے لگا: اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر مصیبت میں تسلی ہے اور ہر فوت ہونے والے کا نائب ہے۔ اس روایت کے آخر میں ہے۔

جعفر فرماتے ہیں مجھے میرے باپ نے خبر دی کہ حضرت علیؓ فرمانے لگے۔ تمہیں معلوم ہے یہ کون ہے؟ یہ خضر ہے۔ اس روایت کو ابن ابی حاتم نے محمد بن علی بن حسین سے روایت کیا ہے۔ محمد بن علی کی روایت اپنے پردادا علی بن ابی طالب سے معضل ہے۔

امام ابو ذرعہ فرماتے ہیں: محمد اور اس کے والد علی بن حسین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ (کتاب المراسیل ص۱۸۶)

محمدبن علی ابوجعفر باقرص ۵۶ کو یعنی حضرت علی کی شہادت کے سولہ سال بعد پیدا ہوئے اور ۱۱۸ میں فوت ہوئے۔ (الکاشف ص۷۱ ج۳)

علاوہ ازیں اس سند میں ایک راوی علی بن علی ہاشمی ہے جس کا تذکرہ حافظ ذہبی نے علی بن ابی علی لہبی کے نام سے کیا ہے۔ امام احمدفرماتے ہیں: اس کی روایات منکر ہیں۔ ابو حاتم اور نسائی فرماتے ہیں: متروک ہے۔ ابن معین فرماتے ہیں: کوئی شے نہیں۔ (میزان الاعتدال ص۱۴۷ ج۲)

عقیلی فرماتے ہیں: متروک ہے۔ بخاری فرماتے ہیں: ضعیف منکر الحدیث ہے۔ نسائی فرماتے ہیں: کوئی شے نہیں۔

عقیلی فرماتے ہیں: متروک ہے۔ بخاری فرماتے ہیں: ضعیف منکر الحدیث ہے۔ نسائی فرماتے ہیں: ثقہ نہیں۔ بغوی فرماتے ہیں: ضعیف الحدیث ہے۔ ابن عدی فرماتے ہیں: اس کی تمام روایات غیر محفوظ ہیں: حاکم فرماتے ہیں: ابن المنکدر سے من گھڑت حدیثیں روایت کرتا تھا۔ نقاش، ابن جارود، ساجی، خطیب، ابن سمعانی نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ امام احمد بھی اس سے راضی نہ تھے۔ (لسان المیزان ص۲۴۶ ج۴)

یہی روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بجائے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جس کو طبرانی (ص۱۲۹ج۳) نے عبداللہ بن میمون القداح کے طریق سے عن جعفر بن محمد روایت کیا ہے۔ ہیثمی فرماتے ہیں: عبداللہ بن میمون القداح ذاہب الحدیث ہے۔ (محمع ص۳۵ ج۹) ابو حاتم فرماتے ہیں: متروک ہے۔ بخاری فرماتے ہیں: ذاہب الحدیث ہے۔ (میزان الاعتدال ص۵۱۲ ج۲) ابن حبان فرماتے ہیں: جعفر بن محمد اور اہل عراق اور اہل حجاز سے مقلوب حدیثیں روایت کرتا تھا جب منفرد ہو تو قابل حجت نہیں ہے۔ (کتاب المحروحین ص۲۱ ج۲)

عبداللہ بن میمون کی متابعت محمد بن جعفر نے کی ہے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: محمدبن جعفرموسیٰ کاظم کا بھائی تھا جس کو معتصم نے گرفتار کیا تھا اراس نے برسر منبر اقرار کیا تھا کہ اے لوگو! میں تم سے جو حدیثیں روایت کرتا تھا وہ میری ہی گھڑی ہوئی تھیں جس پر لوگوں نے اس سے جتنی روایات لکھی تھیں سب کو پھاڑ دیا۔ (الاصابۃ ص۴۴۳ ج۱)

حافظ خطیب بغدادی نے اس کے گرفتاری کے واقعہ کے بعد لکھا ہے کہ پھر سے سیاہ چادر اوڑھ کر منبر پربٹھا دیا گیا ہے اور کہا گیا کہ جو تو لوگوں میں ان کا دین خراب کرنے کے لیے روایتیں بیان کرتا تھا ان کی تکذیب کر۔ چنانچہ اس نے خطبہ کے بعد اقرار کیا کہ لوگو! میں تم میں جو حدیثیں روایت کرتا تھا وہ میری گھڑی ہوئی ہیں۔ (تاریخ بغداد ص۱۱۰ ج۲)

یہ روایت مشکوٰۃ المصابیح ص۵۴۹ میں جعفر بن محمد عن ابیہ کے طریق سے بحوالہ دلائل النبوۃ بیہقی ص۲۶۷ ج۷ مفصل ذکر ہوئی ہے۔

اولاً: ۔۔۔۔۔ تو یہ روایت مرسل ہے جو قابل حجت نہیں ہے۔

ثانیاً: ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی سند میں قاسم بن عبداللہ بن عمربن حفص راوی متروک ہے۔ امام احمد نے اس کی تکذیب کی ہے۔ (تقریب ص۲۷۹) اور فرماتے ہیں: کوئی شیء نہیں جھوٹ بولتا اور حدیثیں وضع کرتا تھا۔ ابن معین فرماتے ہیں: کذاب ہے۔  (میزان الاعتدال ص۳۲۲ ج۳)

حیات خضر کے بارہ میں یہ جملہ روایات ہیں جو راقم الحروف کو دستیاب ہو سکی ہیں، آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے ان میں ایک روایت بھی قبولیت کے معیار پر پوری اترتی بلکہ تمام کی تمام بے اصل اور ناقابل اعتبار ہے۔ ہم نے اس بارہ میں مکمل تفصیل اپنی کتاب ’’ضعیف اور موضوع روایات‘‘ میں دی ہے والحمدللہ علی ذالک۔

سیداحمد سرہندی کا مراقبہ:

قاضی ثناءاللہ پانی پتی نے شیخ احمد سرہندی سے نقل فرمایا ہے کہ حضرت مجدد صاحب سے جب حضرت خضر کے زندہ یا مردہ ہونے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے اللہ کی طرف توجہ کی اور بارگاہ اقدس سے اس کا جواب ملنے کی دعا کی۔چنانچہ عالم مراقبہ میں آپ نے دیکھا کہ خضر سامنے آ گئے ہیں، حضرت مجدد صاحب نے حضرت خضر سے خود ان کی حالت دریافت کی۔ حضرت خضر نے فرمایا میں اور الیاس دونوں زندہ نہیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو ایسی طاقت عطا فرما دی ہے کہ ہم جسم کا لباس پہن کر بھٹکے ہوؤں کو راستہ بتاتے اور مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہیں۔ اگر اللہ چاہتا ہے (بعض لوگوں کو) علم لدنی بھی تعلیم کرتے ہیں اور نسبت بھی عطا کرتے ہیں ہم کو اللہ تعالیٰ نے قطب مدار کا مددگار بنایا ہے قطب مدار کو اللہ تعالیٰ نے مدار عالم بنایا ہے، انہیں کی برکت سے یہ عالم قائم ہے ہم ان کی مدد کرتے ہیں اس زمانہ میں ان کا مسکن ملک یمن ہے وہ فقہ شافعی کے پیروکار ہیں ہم بھی قطب مدار کے ساتھ شافعی فقہ کے موافق نماز پڑھتے ہیں۔ (تفسیر مظھری مترجم بلفظہ ص۲۶۱ ج۷)

اس بارہ میں اولاً کہتے ہیں صوفیہ حضرات کے مراقبہ کا کوئی شرعی وجود نہیں، یہ خالص انہی حضرات کی اختراع ہے ان کا مراقبہ اور مکاشفہ معاذاللہ انبیاء علیہم السلام کی وحی سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وہ اس لیے وحی تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ جب چاہتا تھا اپنے رسولوں کی طرف وحی کرتا تھا اس میں انبیاء اور رسولوں کی مرضی کو کچھ دخل نہ ہوتا تھا بلکہ بسا اوقات وہ وحی کے محتاج بھی ہوتے تھے اور خواہش بھی کرتے تھے کہ فلاں مسئلہ کے بارہ میں جلدی وحی نازل ہو، مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ابھی کچھ تاخیر ہوتی تھی ایسے ہی بسا اوقات حالات خود حضرت خاتم الانبیاء کو بھی پیش آتے۔ آپ نے جبرئیل امین سے دریافت بھی فرمایا کہ تم کو ہمارے پاس بکثرت آنے سے کون سی چیز مانع ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت وَمَا نَتَنَزَّل اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ۔ (مریم:۶۴) ہم تو تیرے رب کے حکم پر ہی آتے ہیں۔ (بخاری کتاب التفسیر سورۃ المریم حدیث نمبر ۴۷۲۱)

مگر صوفیہ کا مراقبہ اور مکاشفہ ان کے اپنے اختیار میں ہے جب چاہا ذرا گردن جھکائی اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے اور جب آنکھیں بند کیں تو اللہ اور ان کے درمیان حائل تمام پردے رفع ہو گئے اور مغیات پر اطلاع پا لی۔ یہ مراقبہ بھی کچھ اسی قسم کا ہے۔ یہ کتاب وسنت سے مسئلہ کا حل دریافت کرنے کے بجائے براہ راست مراقبہ اور مکاشفہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے حل کروا لیتے ہیں کتاب وسنت کی چنداں ضرورت نہیں۔ جس کی روشن مثال مذکورہ مراقبہ ہے کہ جو کتاب وسنت سے فیصلہ نہ ہو سکا۔ مراقبہ نے ایک لمحہ میں کر دیا کہ خضر مرنے کے بعد بھی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔

پھر سرسری نگاہ سے دیکھا جائے تو اس مراقبہ میں بہت سی چیزیں زیر نظر ہیں:

اولاً: مراقبہ میں حضرت خضرکا مجدد صاحب سے براہ راست ہم کلام ہونا جب کہ وہ فوت بھی ہو چکے تھے۔

ثانیاً: مرنے کے ان کی روح کو ایسی طاقت کا عطا ہو جانا کہ وہ مصیبت زدوں کی حاجت روائی کریں۔

ثالثاً: علم لدنی کی تعلیم دینا۔

رابعاً: قطب مدار ک اوجود اور اس کے ذریعے عالم اور جہاں کا قائم رہنا۔

یہ تمام چیزیں کتاب وسنت سے بعید بلکہ صریحاً خلاف ہیں قرآن کریم کی رو سے ایسے اختیارات تو کسی کو دنیاوی زندگی میں حاصل نہیں ہوتے چہ جائے کہ مرنے کے بعد حاصل ہوں۔

پھر حضرت خضر کا مرنے کے بعد فقہ شافعی کے مذہب کے مطابق نماز پڑھنا، حالانکہ صحیح حدیث میں ہے کہ ’’جب آدمی فوت ہو جاتا ہے اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں۔‘‘ (مسلم)

پھر حیات خضر کے قائلین کے لیے ضروری ہے کہ وہ حنفی مذہب کو ترک کر کے شافعہ مذہب کو اپنائیں کیونکہ اس مراقبہ کی رو سے قطب مدار اور خظر کا مذہب حنفی نہیں بلکہ شافعی ہے۔ ہاں، ایک بات یہ بھی کھٹکتی ہے کہ جب شافعی مذہب موجود نہیں تھا تو کیا خضر اور قطب مدار اس وقت موجود تھے یا کہ نہیں؟ اگر وہ موجود نہ تھے تو پھر شافعی مذہب کی تدوین کے بعد وہ کیسے وجود میں آگئے، اگر موجود تھے تو وہ کس مذہب پر تھے۔ کیا وہ اس وقت میں حق پر تھے یا کہ نہیں؟ الغرض! یہ سب مراقبہ کی باتیں ہیں جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔))

صوفیا کا خضر:

جس خضر کا قرآن اور احادیث صحیحہ میں ذکر موجود ہے، وہ تو اپنی طبعی عمر پا کر فوت ہو گئے تھے مگر جس کو صوفیاء حضرات خضر کہتے ہیں وہ حقیقت میں خضر نہیں بلکہ کوئی اور ہی ہے جو صوفیاء کے پاس اچھی شکل وشبابت کے ساتھ آتا ہے اور صوفی اس کی شکل سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ اس مصنوعی خضر کی حقیقت سے پردہ چاک کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’جن لوگوں کا خیال ہے کہ خضر اولیاء کے نقیب اور تمام سے واقف ہیں یہ بالکل بےبنیاد ہے۔‘‘ محققین کے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ وہ اسلام سے پہلے وفات پا چکے تھے اگر وہ عہد رسالت تک زندہ ہوتے تو ان پر ضروری تھا کہ وہ آنحضرتﷺ پر ایمان لاتے اور کفار کے خلاف جہاد کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جہاد فرض کر دیا تھا۔

ایک صفحہ آگے چل کر فرماتے ہیں: اگر خضر کو حیات جاوید حاصل ہے تو کیا وجہ ے کہ رسول اللہﷺ نے اس کا ذکر تک نہیں کیا نہ ہی امت اور خلفاء راشدین کو اس اہم امر کی خبر دی جو یہ کہتے ہیں خضر اولیاء کے نقیب ہیں ان سے پوچھنا چاہیے اس کو نقیب کس نے بنایا، حالانکہ اصحاب رسول بہترین اولیاء ہیں اور خضر کا شمار ان میں نہیں ہے خضر کے متعلق جتنی روایات (جیسا کہ آپ دیکھ چکے ہیں) اور حکایات ہیں وہ کذب اور جھوٹ ہیں اور بعض صرف گمان کی حد تک ہیں کسی نے دور سے کسی شخص کو دیکھا اور اسے یقین کر لیا کہ یہ خضر ہے پھر اس بات کو لوگوں سے بیان کر دیا کہ میری ملاقات خضر سے ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:

من احالك علی غائب فما انصفك وما القی ھذا علی الالسنة الناس الا الشیطان۔

جس نے تجھے غیب کا حوالہ دیا اس نے تجھ سے انصاف نہیں کیا اور خضر کا جو لوگوں کی زبانوں پر ذکر ہے وہ شیطان کے وسوسے ہیں۔ (دین نصوف ص۷۱)

بس صوفیہ حضرات کے خضر کی اتنی ہی حقیقت ہے کہ شیطان تمثل میں پارسائی شکل اختیار کر لیتا ہے اور دیکھنے والے اس کوخضر سمجھ لیتے ہیں جو لوگوں کے ایمانوں کو برباد کرتا ہے اور عقیدہ توحید سے منحرف کرتا ہے۔

خضر کا کردار:

جس کی ایک ادنیٰ سی مثال آپ کے پیش خدمت ہے ۱۸۵۷؁ء کا معرکہ جب انگریز برصغیر پر پوری طرح مسلط ہو گیا، مسلمانوں نے انگریز کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور بیش بہا قربانیوں کے نذرانے پیش کئے جن میں خصوصاً علماء اہل حدیث کی ایک جماعت بھی دین ووطن پر قربان ہو گئی مگر حیات خضر کے قائلین کا اس معرکہ میں کردار ملاحظہ ہو۔

معروف دیوبندی عالم مولانا مناظر احسن گیلانی فرماتے ہیں انگریزوں کے مقابلہ میں جو لوگ لڑ رہے ہیں ان میں حضرت شاہ فضل الرحمان گنج مراد آبادی بھی تھے اچانک ایک دن مولانا کو دیکھا کہ وہ خود بھاگے جا رہے ہیں اور کسی چودھری کا نام لے کر جو باغیوں کی فوج (مسلم فوج) کی افسری کر رہے تھے کہتے جاتے تھے لڑنے کا کیا فائدہ خضر کو تو میں انگریزوں کی صف میں پا رہا ہوں۔ (سوانح قاسمی ص۱۰۳ ج۱)

یہ صوفیاء حضرات کا خضر جو اسلامی حکومت کو مستحکم اور مضبوط کرنے کے بجائے اس کے خاتمے کا سبب بنا اسلام کے بجائے کفر کی حمایت کی۔ مسلمانوں کے قتل وغارت گری میں کفر کا ساتھ دیا۔ اللہ کے نبی حضرت خضر ایسا کردار ادا کرسکتے تھے۔ معاذ اللہ شیخ الحدیث شارح جامع الترمذی (ابو انس محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللہ)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص240

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ