سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(18) بت پرستی اور قبر پرستی کی ابتداء

  • 13492
  • تاریخ اشاعت : 2014-10-29
  • مشاہدات : 1973

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! بعد وہ سوال ہے کہ دنیا میں بت پرستی بھی بعد ازاں قبرپرستی کب اور  کیسے شروع ہو ئی ۔ جواب محقق اور مدلل تحریر فرمائیں ۔ بینوا توجروا ۔


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! بعد وہ سوال ہے کہ دنیا میں بت پرستی بھی بعد ازاں قبرپرستی کب اور  کیسے شروع ہو ئی ۔ جواب محقق اور مدلل تحریر فرمائیں ۔ بینوا توجروا ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سب سے پہلے اس فتنہ کا آغاز قوم نوح سے ہوا ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں عقیدہ توحید کی اشاعت و ترویج کےلیے حضرت نوح﷤ کی تبلیغی کاوشوں اور مجاہدانہ سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے :
﴿قالَ نوحٌ رَ‌بِّ إِنَّهُم عَصَوني وَاتَّبَعوا مَن لَم يَزِدهُ مالُهُ وَوَلَدُهُ إِلّا خَسارً‌ا* وَمَكَر‌وا مَكرً‌ا كُبّارً‌ا * وَقالوا لا تَذَرُ‌نَّ آلِهَتَكُم وَلا تَذَرُ‌نَّ وَدًّا وَلا سُواعًا وَلا يَغوثَ وَيَعوقَ وَنَسرً‌ا ﴾ (نوح:21تا23)

نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال واوﻻد نے ان کو (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے، نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال واوﻻد نے ان کو (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے، اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا)-‘‘

صحیح البخاری ، تفسیر ابن کثیر اور فتح القدیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ﷜ اور دوسرے بہت سے صحابہ ﷢اور تابعین سے روایت ہے کہ یہ حضرت نوح ﷤ کی قوم کے پنج تن پاک کے نام ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے ۔ ان بزرگوں کو اتنی شہرت ملی کہ عرب میں بھی ان کی پوجا ہوتی رہی ۔ چنانچہ بابا ود دمتہ الجندل میں قبیلہ کلب کا معبود تھا ۔بابا سواع سمندر کے ساحل پر آباد قبیلہ ہذیل کا بت تھا۔ بابا یغوث بلقیس کے شہر سبا کے پاس جوف  کے مقام پر بنو مراد اور بنو غطیف کا معبود تھا ۔ بابا یعوق ہمدان قبیلہ کا  اوربابا نسرحمیر قوم کے قبیلہ دوالکلاع کابت تھا۔ (صحیح البخاری تفسیر نوح ج2ص 732)

غرضیکہ جب یہ نیک بخت بابے فوت ہو گئے تو ابلیس نے ان کے عقیدت  مندوں سے کہا کہ ان بزرگوں کی مورتیاں اور تصویریں بنا کر اپنے گھروں میں نصب کر لوتاکہ ان کی یاد تازہ رہے اور ان کے تصور کی طفیل تم بھی ان کی طرح نیک عمل کر سکو۔ جب یہ مورتیاں اور تصویر بناکر رکھنے والی قوم مر چکی تو ابلیس نے  ان کی نسلوں کویہ کہہ کر ان تصویروں او رمورتیوں کی عبادت پر لگا دیا کہ تمہارے آباؤ اجداء تو ان کی پوجا کرتے تھے جن کی تصوریں اور مورتیاں تمہارے گھروں اور دکانوں میں نصب ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے ان کی عبادت شروع  کر دی ۔ (صحیح البخاری کتاب التفسیر سورہ نوح ج2ص 732)

صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے :

قَالَتْ : " لَمَّا اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ بَعْضُ نِسَائِهِ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ , يُقَالُ لَهَا : مَارِيَةُ ، وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَتَتَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَذَكَرَتَا مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ : أُولَئِكِ إِذَا مَاتَ مِنْهُمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا , ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّورَةَ ، أُولَئِكِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِوفى رواية مسلم يوم القيامة. (صحیح البخاری باب  بناء المسجد ج1 ص179و صحیح مسلم ج1 ص 201)

ام المومنين عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺ مرض الموت میں بیمار ہوئے تو آپﷺ کی بعض بیویوں ( ام سلمہ اور ام حبیبہؓ) نے آپ کے پاس ایک گرجا کا ذکر کیا جس کا نام ماریہ تھا جوانہوں نے حبشہ کےملک میں دیکھا تھا ۔ یہ دونوں بیبیاں ہجرت کی غرض سے حبشہ کے ملک گئی تھیں ۔ انہوں نے اس گرجا کی خوبصورتی اور اس میں رکھی ہوئی تصویروں کا حال بیان کیا ۔ آپﷺ نے اپنا سرمبارک اٹھایا اور فرمایا: ان لوگوں کا قاعدہ تھا کہ جب ان میں کوئی صالح شخص فوت ہو جاتا تو اس کی قبر میں مسجد تعمیر کرتے اور اس کی تصویر اس مسجد میں رکھتے ۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کےنزدیک بدترین شخص مخلوق ہوں گے۔‘‘

صحیح مسلم میں حضرت جندب ﷜ فرماتے ہیں میں نے خود رسول اللہﷺ سے سنا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا

الا وإن كان قبلكم كانوا يتخذون قبور انبيائهم وصالحيهم مساجدا لا فلا تتخذوا القبور مساجد فانى انهاكم عن ذالك. ( صحيح مسلم باب النهى عن بناء المسجد على القبور واتحاذ الصور فيها ج1ص 201)

خبردار! تم سے پہلی قوموں نے اپنے انبیاء اور صلحاء کی قبروں کو مسجدیں بنالیا تھا ۔ تم قبروں کو مسجدیں نہ بنانا، میں تم کو سختی کے ساتھ اس شرکیہ کام سے منع کرتا ہوں ۔

ان احادیث صحیحہ اور تفسیری تصریحات سے یہ حقیقت کھلی کہ پہلے پہل قبر پرستی (بت پرستی) کی ابتداءنوح ﷤ کے پنچ تن پاک ( ود ، سواع ، یعوق اور نسر ) کی وفات کے بعد بتدریج شروع ہوئی ۔ شیطان کی فہمائش پر پہلے ان بزرگوں کی مورتیاں اور تصویریں گھڑی گئیں اور یادگار کےطور پر گھروں میں نصب اور دکانوں میں آویزاں کی گئیں جب یہ مورتیاں اور تصویریں بنانے والے مر گئے تو ان کی نسل نے ان کی پوجا شروع کر دی ۔ اور آج یہ فتنہ خانکاہی نظام کی منزلین طے کرتے کرتے ملنگوں تلنگوں اور ہڈ حرام مجاوروں کا معاشی نظام اور عیاشی اور فحاشی کے اڈے بن چکا ہے ۔ والی اللہ المشتکی۔

یارب عطا کردے بصارت بھی بصیرت بھی

مسلماں جا کے لٹتا ہے سواد خانکاہی میں

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص156

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ