سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

نبی اکرم ﷺ کے وسیلے سے دعا؟

  • 13451
  • تاریخ اشاعت : 2014-10-26
  • مشاہدات : 856

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نبی اکرم ﷺ کے وسیلے  اور آپ  کے صدقے  سے دعا کرنا کیسا ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبی اکرم ﷺ کی وفات  کے بعدآپ کے وسیلے  اور آپ کے صدقے  سے دعا کرنا  قرآن ،حدیث ،اجماع  اور  آثار  سلف صالحین سے قطعا ثابت نہیں ہے۔ 

تفصیل  کے لئے دیکھئے  شیخ الاسلام  ابن تیمیہ  ؒ کی کتاب  "الوسیلہ " وغٖیرہ

 سیدنا  انس رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے کہ  جب  قحط ہوتا تو عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ  عباس بن  عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ  استسقاء کرتے  ( یعنی نماز استسقاء پڑھتے ) تو فرماتے :

اے اللہ ہم  تیری طرف  نبی ﷺ ( کی دعا) کے ذریعے  سے توسل  کرتے تھے  تو تو  ہمیں  پانی  پلاتا تھا اور ہم نبی (ﷺ) کے چچا کے ذریعے ( یعنی ان کی دعا) سے توسل  کرتے ہیں  لہذا ہم پر  پانی  نازل فرما۔ پھر بارش  ہوتی تھی ۔(صحیح بخاری 1010)

 اس حدیث  سے معلوم ہوا کہ فوت شدہ  کا کوئی وسیلہ نہیں بلکہ  زندہ آدمی  کی  نمازاور دعا کا وسیلہ ثابت ہے ۔اس حدیث  میں توسل  سے مراد زندہ آدمی  کی دعا ہے ،

 فقہ حنفی  کی مشہور کاب الہدایہ میں لکھا ہوا ہےکہ

"وَيُكْرَهُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ فِي دُعَائِهِ بِحَقِّ فُلَانٍ أَوْ بِحَقِّ أَنْبِيَاؤُك وَرُسُلِك) ؛ لِأَنَّهُ لَا حَقَّ لِلْمَخْلُوقِ عَلَى الْخَالِقِ" اور  دعا میں  بحق  فلان  یا بحق انبیاء  ورسل  کہنا  مکروہ ہے  کیونکہ  خالق پر مخلوق کا کوئی حق نہیں ہے ( ہدایۃ اخیرین ص 475 کتاب  الکراہیۃ )

بغیر  کسی وسیلے  کے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی  چاہیے کہ  کیونکہ اللہ تعالیٰ سب  جانتا ہے اور  علیم  وقدیر  ہے۔تمام  انبیاء  وشہداء  اور صالحین  بغیر  کسی وسیلے  کے ڈائریکٹ  صرف ایک  اللہ رب العالمین سے ہی  دعائیں  مانگتے تھے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج1ص470

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ