سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(505) نجاست لگے کپڑوں میں عمرہ کرنے کا حکم

  • 1343
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-29
  • مشاہدات : 634

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص کو عمرے سے فراغت کے بعد معلوم ہوا کہ اس کے احرام کے کپڑوں کو نجاست لگی ہوئی ہے، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

جب انسان کو عمرے کا طواف اور سعی کرنے کے بعد معلوم ہو کہ اس کے احرام کے کپڑے کو نجاست لگی ہوئی ہے تو اس کا طواف وسعی اور عمرہ صحیح ہے کیونکہ جب انسان کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کے کپڑے کو نجاست لگی ہوئی ہے یا معلوم تو ہو مگر وہ اسے دھونا بھول گیا ہو اور اس نے اسی کپڑے میں نماز پڑھ لی ہو تو اس کی نماز صحیح ہے۔ اسی طرح اس نے اگر اسی کپڑے میں طواف کر لیا ہو تو اس کا طواف بھی صحیح ہے اور اس کی دلیل حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿رَبَّنا لا تُؤاخِذنا إِن نَسينا أَو أَخطَأنا...﴿٢٨٦﴾... سورة البقرة

’’اے ہمارے پروردگار! اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مواخذہ نہ کیجئے۔‘‘

یہ دلیل عام قواعد شریعت میں سے ایک عظیم قاعدہ ہے اور اس مسئلے سے متعلق ایک دلیل خاص بھی ہے اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کو نماز پڑھائی اور آپ کا یہ طریقہ تھا کہ آپ اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے، مگر اس دن آپ نے نماز کے دوران اپنے جوتوں کو اتار دیا۔ آپ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  نے بھی اپنے جوتوں کو اتار دیا۔ نماز مکمل کرنے کے بعد آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  سے پوچھا:

«مَا شَأْنُکُمْ؟»

’’تمہیں کیا ہوا؟‘‘

انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے دیکھا کہ آپ نے جوتے اتار دیے ہیں تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

«اِنَّ جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ اَتَانِی فَأَخْبَرَنِی اَنَّ فِيْهِمَا خبثا» (سنن ابي داؤد، الصلاة، باب الصلاة فی النعال، ح: ۶۵۰)

’’بے شک جبریل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے جوتوں کو نجاست لگی ہوئی ہے۔‘‘

اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے نماز کو از سر نو نہیں پڑھایا تھا، حالانکہ آپ نے نماز کا ابتدائی حصہ انہی جوتوں کو پہنے ہوئے پڑھا تھا جن کو نجاست لگی ہوئی تھی۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص بھول جانے یا عدم واقفیت کی وجہ سے ناپاک کپڑے میں نماز پڑھ لے، اس کی نماز صحیح ہے۔

یہاں ایک ضروری مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اگر انسان اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نماز پڑھنی شروع کر دے اور وضو نہ کرے اور وہ یہ سمجھے کہ اس نے بکری کا گوشت کھایا ہے اور جب اسے یہ معلوم ہو کہ یہ گوشت بکری کا نہیں بلکہ اونٹ کا تھا تو کیا وہ اپنی نماز دوہرائے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وضو کر کے نماز دوبارہ پڑھے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ جو شخص عدم واقفیت کی وجہ سے ناپاک کپڑے میں نماز پڑھ لے تو وہ نماز نہ دہرائے اور جو عدم واقفیت کی وجہ سے اونٹ کا گوشت کھا لے تو وہ نماز کو دوبارہ پڑھے؟ (ان دونوں میں کیا فرق ہے؟) ہم عرض کریں گے کہ یہ اس لیے ہے کہ ہمارے پاس ایک مفید اور اہم قاعدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ مامورات جہالت ونسیان کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتے جب کہ منہیات جہالت ونسیان کی وجہ سے ساقط ہو جاتے ہیں۔ اس قاعدے کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان ہے:

«مَنْْ نَامَ  عن صلاة أو نسيهافلييُصَلِّيَهَا إِذَا ذَکَرَهَا» (صحيح البخاري، المواقيت باب من نسی صلاة فليصل اذا ذکر، ح: ۵۹۷ وصحيح مسلم، المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة، ح: ۶۸۴ (۳۱۵) واللفظ له)

’’جو شخص کوئی کسی نماز کے وقت سوجائے یا اس کے ذہن سے نمازکاخیال جات رہے تو وہ اسے اسی وقت پڑھ لے جب اسے یاد آئے۔‘‘

اسی طرح اگر کوئی ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دے اور باقی نماز بھول جائے، تو یاد آجانے پر اسے نماز مکمل کرنا ہوگی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مامورات نسیان کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے حکم دیا ہے کہ جو شخص نماز بھول جائے تو وہ اسے اس وقت پڑھ لے جب اسے یاد آئے، نسیان کی وجہ سے نماز ساقط نہ ہوگی۔ اسی طرح بھول کر کم پڑھنے کی صورت میں بھی باقی نماز ساقط نہ ہوگی بلکہ اسے پورا کرنا ہوگا۔ رہی اس بات کی دلیل کہ مامورات جہالت کی وجہ سے بھی ساقط نہیں ہوتے تو وہ یہ ہے کہ ایک شخص آیا اور اس نے جلدی جلدی نماز پڑھی اور پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس سے فرمایا:

«اِرْجِعْ فَصَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ» (صحيح البخاري، الاذان، باب وجوب القراءة، ح: ۷۵۷، وصحيح مسلم، الصلاة، باب وجوب قراء ة الفاتحة فی کل رکعة، ح: ۳۹۷)

’’واپس جاؤ اور نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘

اس طرح آپ نے اسے تین بار لوٹایا۔ وہ نماز پڑھنے کے بعد جب بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا، آپﷺ اس سے یہی فرماتے:

«اِرْجِعْ فَصَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ» (صحيح البخاري، الاذان، باب وجوب القراءة، ح: ۷۵۷، وصحيح مسلم، الصلاة، باب وجوب قراءة الفاتحة فی کل رکعة، ح: ۳۹۷)

’’واپس جاؤ اور نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘

حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے نماز سکھائی اور پھر اس نے صحیح نماز ادا کی۔ اس شخص نے جہالت کی وجہ سے نماز کے ایک واجب کو ترک کیا تھا کیونکہ اس شخص نے عرض کیا تھا: ’’اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں اس سے زیادہ اچھے طریقے سے نماز نہیں پڑھ سکتا، لہٰذا آپ مجھے نماز سکھا دیجئے۔‘‘ اگر جہالت کی وجہ سے واجب ساقط ہوتا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  اسے معذور سمجھتے۔ طالب علم کے لیے یہ ایک اہم اور مفید قاعدہ ہے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل: صفحہ439

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ