سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

صلوۃ التسبیح کی روایت کی تحقیق

  • 13416
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-23
  • مشاہدات : 1260

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صلوۃ التسبیح کی روایات کے بارے میں البانی نے بہت لمبی چوڑی بحث کی ہے اور بہت مشکل سے ’’ حسن‘‘ کے درجہ میں لائے ہیں۔ جب کہ آپ نے ’’ ہدیۃ المسلمین‘‘ کتاب (ص71) میں بغیر کسی تفصیل  کے صحیح قرار دیا ہے ، تفصیل چاہیے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صلوۃ التسبیح  کے سلسلے  میں درج  ذیل احادیث  بلحاظ  سند  مضبوط  ہیں:

1)     حدیث  ابن عباس رضی اللہ عنہ  یہ روایت  سنن ابی داؤد (1297) اور ابن ماجہ  (1387) میں موجود  ہے اور اس  کی سند حسن  ہے۔

اور اسے ابو بکر الاجری  وغیرہ  نے صحیح  کہا ہے ۔(الترغیب  والترہب 1/ 4671)

 حکم  بن ابان  کی حدیث حسن  کے درجے  سے نہیں گرتی ۔ تفصیلی  بحث کے لیے دیکھئے  الترشیخ  لبیان  صلوۃ  التسبیح  (ص 28۔33 مع التخریج ) اور کتب  الرجال

2)     حدیث  الانصاری  رضی اللہ عنہ 

یہ روایت  سنن ابی داود (1299) میں موجود  ہے،اس  کی سند انصاری  تک صحیح  ہے اور انصاری  سے مراد جابر بن  عبداللہ الانصاری  رضی اللہ عنہ  ہیں۔

 دیکھئے  تہذیب  الکمال  (3/ 1666) ذالفتوحات  الربانیہ  (4/314 وحاشیہ الترشیخ  ص49)

3)     حدیث عبداللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ

 یہ روایت  سنن ابی  داود  (1298) میں ہے۔  عمران  بن مسلم  نے عمروبن مالک کی  متابعت  کر رکھی ہے ۔ (النکت  الظراف 6/281)

 حسن  لذاتہ  روایت  کے اگر شواہد  ہوں تو وہ صحیح  لغیرہ  بن جاتی ہے  لہذا نماز  تسبیح  والی روایت  صحیح  ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج1ص431

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ