سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

رفع الیدین کے متعلق حضرت عمرؓ والی حدیث کی تحقیق

  • 13363
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-02
  • مشاہدات : 1731

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سیدنا  عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ   سے ترک  رفع یدین  کی جو روایت  منسوب ہے(ظحاوی 1ص110 وغیرہ ) اس کے بارے میں  سرفراز خان صفدر نے لکھا ہے :

"امام بیہقی  : وغیرہ  نے اس کو جو بلاوجہ  باطل  اور موضوع قراردیا ہے  تو یہ ان کا وہم  اور تعصب  ہے۔(خزائن  السنن ج1ص101) کیا محدثین میں کسی قابل اعتماد محدث نے اسے صحیح کہا ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میرے علم  کے مطابق ایک محدث  بھی ایسا نہیں  ہے جس  نے اسے صحیح  یا حسن کہا ہو۔ بلکہ امام بیہقی  کے علاوہ دوسرے محدثین نے بھی اسے  وہم  'لااصل  لہ اور باطل  کہا ہے ۔مثلا امام ابن معین ؒ( جو کہ  عندالفریقین  مستند اورقابل اعتماد  محدث  اور امام ہیں) نے فرمایا : یہ روایت  ابوبکر بن عیاش  کاوہم  ہے،اس کی کوئی اصل نہیں  ہے ۔( جزء  رفع یدین  ص56)

امام احمد  بن حنبل ؒ نے ( جو کہ ائمہ اربعہ میں سے ہیں ) اس روایت  کے بارے میں  فرمایا: ھو باطل" یعنی یہ روایت باطل ہے ۔( مسائل احمد  روایۃ  اسحاق بن ابراہیم  بن  ہافی  النسیا بوری ج اص 50)

 فن حدیث  اور علل  کے ان  ماہر محدثین کرام  کے مقابلے  میں ایسے  لوگوں  کی تصحیح  وتحسین  کا کیا اعتبار ہے  جو بذات  خود ایک فریق  مخالف  کی حیثیت  رکھتے ہیں  اور جن  کی زندگیاں کذب  بیانیوں ،افتراء  پر  دازیوں ۔ تناقضات  اور مغالطوں  سے بھری پڑی ہیں۔(ہفت  روزہ  الاعتصام  لاہور  27 جون 1997)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج1ص349

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ