سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(576) خلیج عرب میں امریکہ اور اس کے حواری

  • 13318
  • تاریخ اشاعت : 2014-09-21
  • مشاہدات : 715

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

خلیج عرب  میں امر یکہ اور اس کے حواری ممالک کی افواج  کئی  سال  قبل عراق  کو یت جنگ  کے حوالے  سے آئی  تھیں  اور ان کی آمد  کا مقصد  صرف  سعودی  عر ب  اور دیگر  خلیجی  مما لک  کا تحفظ  اور دفا ع  بتا یا  گیا تھا عرا ق  کو یت جنگ کو ختم ہو ئے  کئی سالکا عر صہ گزر چکا ہے مگر یہ افواج  نہ صرف ابھی موجو د ہیں بلکہ امر یکہ  کے راہ  نماؤں  کی طرف  سے کہا جا ر ہا  ہے کہ یہ فو جیں  امر یکی  مفا دا ت  کے تحفظ  کے لیے  خلیج  میں موجو د  ہیں اور وہ  واپس نہیں جا ئیں  گی ۔

اسرا ئیل  نے امر یکہ  کی مکمل  پشت  پنا ہی  کے ساتھ  بیت  المقد س  اور فلسطین  پر غاصبا نہ  قبضہ  کر رکھا  ہے اور  اب اس کی طرف سے مستقل  کے عظیم  تر اسرا ئیل "کا جو نقشہ  پیش کیا گیا ہے اس میں دیگر ممالک  کے ساتھ  "مدینہ منور ہ "کو بھی اسرا ئیل  کا حصہ  دکھا یا  گیا  ہے اور اب امر یکی  اتحاد ی افواج  عرا ق  پر بھی قبضہ  کر چکی ہیں ۔اس پس منظر میں جنا ب رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم  کا مشہور ارشاد گرا می  ہے ۔"جزیرہ  عر ب  سے یہود  و نصاریٰ  کو نکا ل  دو ۔کیا خلیج  میں امر یکی افواج  کی مو جو دگی  اس ارشاد مقدس کی صریح  خلا ف ورزی نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

موجودہ   حا لا ت میں مسلما نا ن عا لم کا فرض ہے کہ با ہمی اتفا ق و اتحا د  سے نا ممکن  طریقے  سے یہود و نصاریٰ پر مشتمل امر یکی افواج  کو جزیرہ  عرب  سے نکا لنے  کی سعی کر یں سستی اور کا ہلی کی صورت میں تمام ذمہ داران  ر ب  العالمین  کی عدالت  عالیہ  میں جو ا بدہ  ہو ں گے ۔

اللہ رب العزت  ہمیں  فہم و بصیرت  سے بہر ور  فر ما ئے  تا کہ اپنی آخرت  کا تحفظ  کر سکیں ۔آمين

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص853

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ