سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(572) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح

  • 13314
  • تاریخ اشاعت : 2014-09-21
  • مشاہدات : 1098

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صدیقہ کا نکا ح صحاح  ستہ وغیرہ کتب میں در ج ہے کہ سات سال  کی عمر میں نکا ح ہوا اور 9سال کی عمر میں رخصتی  ہو ئی اس پر غیر مسلموں کو بھی اعتراضات  ہیں کیا یہ صحیح  ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح بخاری میں حضرت عا ئشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے مروی ہے ۔

«ان النبي صلي الله عليه وسلم تزوجها وهي بنت ست وادخلت عليه وهي بنت  تسع ومكثت عنده تسعاً» صحیح البخاری کتاب النکاح باب انکاح الرجل ولدہ الصغار(5133) (باب انكاح الرجل ولده الصغار)

یعنی "حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا نکا ح بعمر چھ سال ہوا اور نو سال کی عمر میں رخصتی ہوئی اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے  پا س نو سال  رہیں ۔"

اب اس نص صریح  کے بعد کسی بھی حیل و حجت کی گنجا ئش  با قی  نہیں  رہنی  چا ہیے ۔ جہا ں  تک معترضین  کا اعترا ض  ہے کہ اتنی کم عمر  میں نکا ح  کیسے  ممکن  ہے ؟ جواباً گزارش  ہے کہ دین اسلا م نے عمر کے اعتبار سے نکا ح  پر کو ئی  پا بندی  عا ئد نہیں کی نص قرآنی سے یہ با ت ثابت ہے کہ صغر سنی  میں بھی  نکا ح  ہو سکتا ہے ارشاد بار ی تعا لیٰ ہے ۔

﴿وَالّـٰـٔى لَم يَحِضنَ...٤﴾... سورة الطلاق

"اور جن عورتوں کو ابھی حیض  نہیں  آنے لگا ۔ (ان کی عدت بھی تین ماہ ہے ۔

امام بخا ری  رحمۃ اللہ علیہ  مشارا ليه  با ب  کے تحت فر ما تے ہیں ۔

«فجعل عدتها ثلاثة اشهر قبل البلوغ»

یعنی" اللہ عزوجل  نے قبل  از بلو غت  عورت  کی عدت تین ماہ مقرر  فر مائی ہے ۔"

اس سے استمتا ع کا جواز متر شح  ہے ۔ پھر واقعاتی  طور پر یہ با ت ہے کہ نو دس سال  کا بچہ  با لغ ہو سکتا ہے چنانچہ  حدیث  میں ہے ۔

«وفرقوا بينهم في المضاجع»(سنن ابي دائود باب مني يامر الغلام بالصلواة)

یعنی " بچے دس سال کی عمر کو پہنچ جا ئیں تو ان کے بستر جدا  کر دو ۔"

ان الفا ظ  کی تشر یح  میں علا مہ  منا وی فتح  القدیر  شر ح الجا مع  الصغیر  میں رقمطراز  ہیں ۔

«اي فرقوا بين اولادكم في مضاجهعم التي ينامون فيها اذا بلغوا عشر سنين حذرا من غوائل الشهوة وان كن اخوات»(بحواله عون المعبعود ١ /١٨٥)

یعنی" دس سال کی عمر میں بچو ں  کی خواب گا ہوں  کو علیحدہ  کر دو ۔اس خدشہ سے کہ کہیں  مبا دیا ت  شہوت کا اظہا ر نہ ہو  اگر چہ  بہنیں  ہی کیوں نہ ہو ۔"

اور صحیح بخاری  کے با ب ’’بلوغ الصبيان وشهادتهم’’کے تحت  ترجمہ البا ب  میں ہے ۔

«وقال مغيره:احتلمت وانا اب ثنتي عشرة سنة.....وقال الحسن بن صالح :ادركت جارة لنا جدة بنت احدي وعشرين سنة»

"یعنی  مغیرہ بن مقسم ضی کو فی  نے کہا ۔ میں با رہ سا ل کی عمر  میں با لغ  ہو گیا تھا  اور حسن  بن صا لح  بن حی  ہمدا نی  فقیہ  کو فی  نے کہا ۔ میں  نے اپنے پڑوس  میں ایک جدہ (نانی ) کو پا یا جس کی عمر اکیس سال تھی ۔

المجا لستہ دینوری میں ہے ۔واقل اوقات الحمل تسع سنين"کم از کم حمل کی عمر نو سال ہے ۔"

اسی  طرح امام شافعی  رحمۃ اللہ علیہ   نے بھی ذکر فر ما یا  ہے کہ انہوں نے 21سال  کی جدہ (نانی ) دیکھی  ہے  ۔نو سال مکمل  ہو نے پر اسے حیض  آیا  اور دس  سا ل   مکمل ہو نے پر بچی  پیدا ہو ئی ۔اور اس کی بیٹی کا معا ملہ بھی اسی طرح ہوا نیز یہ با ت بھی مشہور ہے کہ عبد اللہ بن عمر و با پ  بیٹے  کی عمر کا تفا دت  بارہ سال کا تھا ۔(فتح الباری5/277)

اور صنعا نی نے تیرہ سال  ذکر کئے  ہیں ۔(سبل السلام 1/45)فقیہ ابن رشد فر ما تے ہیں ۔

«فانهم اتفقوا علي انه يحرم من كل امراة بالغ وغير بالغ»(هداية المجتهد ٢ /٣٩)

"سب  کا اتفا ق  ہے کہ با لغ  اور نا با لغ  عورت کے دودھ سے حر مت  ثابت ہو جا تی ہے ۔"جملہ نصوص  ذکر کر نے سے مقصود یہ  کہ قرائن و شواہد  اس با ت  پر دال ہیں  کہ نو دس سال کی عمر  میں بچہ بالغ ہو سکتا ہے ممکن  ہے نو سال رخصتی  کی عمر  میں حضرت  عا ئشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  بھی با لغہ ہو ں  بصورت  دیگر  پھر  بھی شریعت  میں انعقاد  نکا ح  کا جواز مو جو د ہے ۔كماتقدم لهذا!تعجب واستغراب کی چنداں  ضرورت  نہیں (وَاللَّـهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ وهو الهادي الي الصواب)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص849

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ