سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(521) عورت کے لیے احرام کا کوئی مخصوص لباس نہیں

  • 1325
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-28
  • مشاہدات : 554

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا محرم عورت کے لیے اپنے ان کپڑوں کو تبدیل کرنا جائز ہے، جن میں اس نے احرام باندھا ہو؟ کیا احرام کے لیے کوئی خاص کپڑے ہیں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا محرم عورت کے لیے اپنے ان کپڑوں کو تبدیل کرنا جائز ہے، جن میں اس نے احرام باندھا ہو؟ کیا احرام کے لیے کوئی خاص کپڑے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

محرم عورت کے لیے کپڑے تبدیل کرنا جائز ہے، خواہ وہ ضرورت کی وجہ سے تبدیل کرے یا بلا ضرورت بشرطیکہ وہ کپڑے ایسے نہ ہوں، جن سے مردوں کے سامنے زیب و زینت کا اظہار ہوتا ہو، بہرحال جن کپڑوں میں احرام باندھا ہو، انہیں تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ عورت کے حوالے سے احرام کا کوئی مخصوص لباس نہیں ہے، وہ جو لباس چاہے پہن سکتی ہے، البتہ حالت احرام میں نقاب اور دستانے نہیں پہن سکتی۔ نقاب سے مراد وہ کپڑا ہے، جو چہرے پر رکھا جاتا ہے اور اس میں آنکھ سے دیکھنے کے لیے سوراخ ہوتا ہے اور دستانے ہاتھوں میں پہنے جاتے ہیں۔ مرد کے احرام کے لیے خاص لباس ہے اور وہ ہے تہبند اور چادر۔ مرد قمیض، شلوار، عمامے، ٹوپیاں اور موزے وغیرہ نہیں پہن سکتا۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ ارکان اسلام

حج کے مسائل  

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ