سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(203) سامنے دیوار ہونے کے باوجود سترہ رکھنے کا حکم

  • 132
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-05
  • مشاہدات : 488

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

امام کے آگے صرف تھوڑے سے فاصلے پر ہی سامنے دیوار ہو، اور امام کے آگے سے کسی بھی فرد کا گزرنا بھی ممکن نہ ہو، تو کیا پھر بھی امام کے آگے سترا رکھنا ضروری ہے۔


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی صورت میں امام کا سترہ سامنے کی دیوار ہو سکتی ہے اور اس کے لیے کوئی علیحدہ سے سترہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔الموسوعة الفقھیة میں ہے:

" اتَّفَقَ الْفُقَهَاءُ عَلَى أَنَّهُ يَصِحُّ أَنْ يَسْتَتِرَ الْمُصَلِّي بِكُل مَا انْتَصَبَ مِنَ الأشْيَاءِ كَالْجِدَارِ وَالشَّجَرِ وَالأسْطُوَانَةِ وَالْعَمُودِ ، أَوْ بِمَا غُرِزَ كَالْعَصَا وَالرُّمْحِ وَالسَّهْمِ وَمَا شَاكَلَهَا "انتهى ۔ (24 / 178)

فقہاء کا اس بارے اتفاق ہے کہ نماز پڑھنے والا کسی بھی شیئ کو سترہ بنا سکتا ہے مثلا دیوار، ستون،کھمبا یا ایسی کوئی شیئ جو گاڑھی گئی ہو جیسا کہ عصا، نیزہ یا تیر وغیرہ یا ان سے ملتی جلتی اشیاء۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ