سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(385) لونڈی کی ازدواجی حیثیت اسلام کے آغاز میں

  • 13125
  • تاریخ اشاعت : 2014-09-14
  • مشاہدات : 870

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اسلام کے آغاز میں امۃ(لونڈی )کے مسائل تھے اسوقت ان کی ازوداجی حیثیت کس نوعیت کی تھی ؟موجودہ دورمیں عرب وغیرہ عرب متمول جنسی تسکین کی خاطر لونڈی کے متعلق دور نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کا سہارا کیسے لیتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لونڈیوں کے مسائل کا تعلق مسئلہ جہاد سے ہے جب تک عملی نمونہ جہاد مسلما نوں میں موجو د رہا لونڈیوں کے مسائل بھی موجود تھے روح جہاد ختم ہونے پرآج یہ مسائل بھی  ناپید ہیں جب کہ کتا ب وسنت میں ان امور کی پوری  پوری پابندی وضاحتیں موجود ہیں آج کے دور میں چونکہ باقاعدہ اسلامی جہاد موجود نہیں ہے اس لیے یہ مسائل بھی کتابوں میں مدفون ہیں ۔

﴿لَعَلَّ اللَّهَ يُحدِثُ بَعدَ ذ‌ٰلِكَ أَمرً‌ا ﴿١﴾... سورة الطلاق

دراصل غلاموں اور لونڈیوں کا وجود کفر کے آثار میں سے ہے اس لیے اسلام نےان کی آزادی کی ترغیب دی بلکہ اس پر اخروی جزاء مرتب فرمائی ہے مزید آنکہ جواس کوآزاد کر کے نکاح کر لے اس کے لیے عظیم اجر کی نوید سنائی ہے۔

موجودہ دور میں اگر کوئی متمول آدمی لونڈیوں پرقیاس کرتے ہوئے چارسے زیادہ بیک وقت آزاد بیویاں رکھنے کی راہ نکالتا ہے تو سراسر یہ غلط اور ناجائز استدلال ہےجس کااسلام سے دور کابھی تعلق نہیں پھر محض خادماؤں کانام لونڈیوں رکھ کرشہوت رانی کرنی حرام ارتکاب کرنا ہے کیوں کہ اسلام میں مذکورتعداد سے زیادہ بیک وقت بیویاں رکھنے کی قطعاًاجازت نہیں ہے اور لونڈی سے دوشرطوں (عدم طول اور خوف العنت)سےنکاح کیاجازت دی ہے (ملاحظہ ہو :سورۃ النساء )

نیز پرویزیوں کی باتوں پرکان دھرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر دور کے ملحدین کا ہمیشہ وطیرہ رہا ہے کہ حیلے بہانے سےاسلامی تعلیمات میں کیڑے نکالنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں جوان کے لیے خسارے کی تجارت ہے ۔

﴿فَما رَ‌بِحَت تِجـٰرَ‌تُهُم وَما كانوا مُهتَدينَ ﴿١٦﴾... سورة البقرة

ھذا ما عندي واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص691

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ