سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(375) ہومیو پیتھک ادویات استعمال کرنا

  • 13116
  • تاریخ اشاعت : 2014-09-14
  • مشاہدات : 893

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
وضاحت فرمائیے  کہ ہومیو پیتھی طریقہ علا ج  اپنانا اس کی پر یکٹس کرنا کس حد تک جائز ہے ؟اس میں درج ذیل امور وضاحت طلب ہیں:
(1)کہ ہو میوپیتھی ادویات کی تیاری میں الکوحل ایک بنیا دی عنصر ہے ۔
(2)باوجود یکہ ہو میو پیتھی ادویہ الکو حل میں تیار کی جا تی ہیں اور اسی میں محفوظ رکھی  جا تی ہیں مگر یہ ادویہ قطعاً نشہ آور نہیں ہو تیں ۔
(3)جب ادویہ یہ مریض کو دی جا تی ہیں تو اکثر الکو حل کے اڑجا نے کے بعد مریض کو دی جا تی ہیں ۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وضاحت فرمائیے  کہ ہومیو پیتھی طریقہ علا ج  اپنانا اس کی پر یکٹس کرنا کس حد تک جائز ہے ؟اس میں درج ذیل امور وضاحت طلب ہیں:

(1)کہ ہو میوپیتھی ادویات کی تیاری میں الکوحل ایک بنیا دی عنصر ہے ۔

(2)باوجود یکہ ہو میو پیتھی ادویہ الکو حل میں تیار کی جا تی ہیں اور اسی میں محفوظ رکھی  جا تی ہیں مگر یہ ادویہ قطعاً نشہ آور نہیں ہو تیں ۔

(3)جب ادویہ یہ مریض کو دی جا تی ہیں تو اکثر الکو حل کے اڑجا نے کے بعد مریض کو دی جا تی ہیں ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہو میو پیتھی ادویات کے ذریعہ طریقہ علا ج جن مرا حل سے گزرتا ہے وہ قا بل اطمینان و تسلی نہیں یہ بات یقینی ہے کہ اس میں الکوحل کی آمیزش  جزو لاینفک ہے اگر چہ مختلف مرا حل میں بعض  تبدلیاں رونما ہوتی ہیں اس کے با و جو د اس کے جوا ز کا قا ئل  ہو نا مشکل امر ہے ۔

صحیح مسلم میں حضرت  انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی  ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے شراب سے سر کہ بنانے کے بارے  میں پو چھا  گیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی (صحیح مسلم کتاب الاشربة باب تحریم تخلیل الخمر (5140) نیز امام موصوف نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت  بھی ۔

نقل کی ہے کہ ابوطلحہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے یتیموں کے متعلق پوچھا جنہیں شراب ورثہ میں ملی تھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا :شراب بہا دو!ابوطلحہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :ہم اس سے سر کہ نہ بنالیں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرما یا :نہیں۔سنن دارمی (2161)

امام زیلعی رحمۃ اللہ علیہ "نصبالرایۃ"میں لکھتے ہیں :شافعیہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی مذکو رہ بالا حدیث سے استدالال کیا ہے کہ شراب سے سر کہ بنانا منع ہے اگر شراب سے سرکہ کی کشید جا ئز ہو تی تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم اسے بیان فرما دیتے  جس طرح کہ مردہ بھیڑ کے چمڑے  کی دباغت کے متعلق  اجازت مرحمت  فرمائی ۔اگرچہ بعض روایات اس کے برعکس بھی ہیں لیکن اہل علم نے ان کی مختلف تو جیہات کی ہیں جن کی تفصیلات مطو لا ت میں دیکھی  جا سکتی ہیں

امام نو وی  رحمۃ اللہ علیہ  شرح مسلم میں کہتے ہیں :کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب سے سرکہ کشید کر نے کے با رے میں  پو چھا گیا ؟ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے منع  فرما یا شوافع اور جمہور نزدیک اسی دلیل کی بناء  پر شراب  میں پیاز روٹی اور کھیراوغیرہ ڈال کر سر کہ بناناجائز نہیں  کہ اس سے شراب  کی نجا ست  ختم نہیں ہو تی  وہ یہ بھی کہتے ہیں  کہ اس شرا ب  یا اس طرح حاصل کردہ سرکہ میں ڈالی  ہو ئی چیز دھونے یا کسی اور طرح  سے ہر گز  پا ک  نہیں ہو تی ۔ہاں اگر شراب کو دھوپ سے ہٹا کر سایہ سے ہٹا کر دھوپ میں رکھ دیاجائے اور اس سے سرکہ بن جائے تو یہ صحیح قول کے مطا بق پاک  ہے البتہ  اگر اس میں کو ئی چیز ڈا ل  دی جائے  تو پا ک نہیں ہو تی شا فعی  رحمۃ اللہ علیہ احمد  رحمۃ اللہ علیہ جمہو ر کا یہی مذہب ہے ۔امام اوزاعی لیث اور ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  فرما تے ہیں کہ وہ پا ک ہے  امام ما لک  رحمۃ اللہ علیہ  سے تین روایتیں  نقل  ہو ئی ہیں صحیح روایت  یہ ہے کہ اس طرح سر کہ بنا نا جا ئز ہے اس کا مر تکب گنہگا ر ہو گا البتہ سر کہ پا ک ہو گا دوسری روایت یہ ہے ۔کہ اس طرح (یعنی کو ئی چیز ڈال کر)سرکہ بنانا ناجائز ہے اور سرکہ بھی پاک نہیں رہتا  ایک تیسری روایت یہ ہے ۔کہ سر کہ  بنانا بھی جا ئز ہے اور سرکہ  بھی پاک ہے البتہ  علما ء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر شرا ب خود  سے سر کہ  بن جا ئے  تو پا ک  ہے ۔

علا مہ عظیم آبادی فر ما تے ہیں :مذکو رہ با لا تفصیل  سے ظاہر  ہو تا ہے کہ اس مسئلے  میں صحیح  را ئے امام شافعی  احمد اور جمہو ر  علما ء  رحمۃ اللہ علیہ   کی ہے کہ شراب سے خا ص  طو ر پر سر کہ بنانا جا ئز اور ممنوع ہے اور اس طرح کشید کردہ ۔سرکہ پا ک نہیں ہو تا البتہ اگر کسی چیز کی ملا وٹ کے بغیر  مشروب خود سے سرکہ میں تبد یل ہو جا ئے تو پا ک اور حلا ل ہے ظاہر ہے ملا وٹ کے ساتھ سر کہ بنانا ہی نا جا ئز ہو تو پھر  اس کا استعمال کیسے جا ئز ہو سکتا ہے

"بلا شبہ شرا ب کا سر کہ بھی سرکہ ہے مگر شارع نے اسے ناجائز قرار دیا ہے اگر جا ئز ہو تا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  یتیموں کا مال ہر گز ضائع کر نے کا حکم نہ دیتے  بلکہ یتیموں کواس مال سے حلال طریقے سے فائدہ پہنچاتے ۔"(فتاوی عظیم آبادی ص332)

اس طرح ہو میو پیتھی ادویات سے مختلف مراحل طے کر نے کے باوجود"الکواحل "کی نجاست زائل نہیں ہوتی اگر چہ ظاہر سکر (نشہ)محو ہوجا تا ہے لیکن تا ثیرامکا نی حد تک مو جو د رہتی  ہے جس کا کو ئی بھی ذی عقل اور صاحب شعور انکا ر نہیں کر سکتا نبی اکر م  صلی اللہ علیہ وسلم نے شرا ب کو جو سر کہ میں حلو ل  کر نے سے  منع فر ما یا ہے اس کا سبب بھی یہی ہے کہ کسی نہ کسی انداز میں نجا ست کا اثر قائم رہتا ہے جو مسلما ن کی جسمانی  وروحانی طہارت و پاکیزگی کے منا فی  ہے حدیث میں ہے :

'' ما اسكر كثيره فقليله حرام ’’

یعنی "جس شئی کے زیادہ استعمال سے نشہ آئے وہ تھوڑی بھی حرام ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ کمترجز بھی نجا ست میں مؤثرہے اس وجہ سے شرابی کی نماز کے عد قبولیت  میں  اس کی بہت بڑی تاثیر ہے جو اثر کئی روز تک  زوال پذیر نہیں ہوتا ۔

بھلا وہ شئی جس کو قرآن  نے رجس اور شیطانی عمل قرار دے کر تہدیدی  ووعید ی  تا کیدات  کے الفاظ  کے  ساتھ روکا ہو اس میں خیرو برکت توقع  کرنا کیسے ممکن ہے ہما ری  سوچ وفکر کا معیا ر بھی انتہائی عجیب  وغریب  ہے کہ "الکو حل "ادویا ت  کو محفوظ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے بھلا وہ شئی جو بذاتہ "ام الخبائث"ہو یہ دائمی نفع بخش کیسے ثابت ہو سکتی ہے ۔زمانہ قدیم میں اطباء کی عادت تھی کہ وہ جملہ ادویات کو شہد  کے ذریعے محفوظ رکھتے تھے شہدکو کتاب وسنت میں شفاء قرار دیا گیا ہے بے شمار امرا ض کے لیے مفید ہے جن کا احاطہ اس مختصر مجلس میں ممکن  نہیں ۔

اطباء نے لکھا ہے کہ اسکی تروات سے تین ماہ تک گو شت کو محفوظ  رکھا جا سکتا ہے بالو ں کو نرم ملا ئم  خوبصورت بناتا ہے رگوں  اور انتڑیوں کو صاف کرتا ہے میت کے جسم کو بو سیدہ ہو نے سے محفوظ رکھتا ہے وغیرہ وغیرہ  تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ۔(فتح الباری 10/140)

حافظہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔

’’ ولم يكن يعول قد ماء الاطباء في الادوية المركبة الا عليه ولا زكر للسكر في اكثر كتبهم اصلا ’’

"قدیم اطباء مرکب ادویات میں صرف شہد پر اعتماد کرتے تھے ان کی اکثر کتا بو ں میں نشہ کا بالکل ذکر نہیں ملتا ۔پھر قدیم علما ء کی عادت بھی یہی  تھی کہ وہ طب جسمانی  کا بہت زیادہ اہتمام فر ما تے بلکہ عالم ساتھ حکیم بھی ہو تا تھا اس کی بہترین مثالیں ماضی قریب میں محدث گوندلوی اور محدث روپڑی  تھے ( رحمۃ اللہ علیہ )وائے افسوس !آج ہم اس ورثہ سے محروم نظر آرہے ہیں اس کی وجہ محض انگریزی طریقہ علا ج پر اعتماد ہے جس میں نقصان کے پہلو غالب ہیں آج ہم اسلا می طریق علا ج سے روگردانی کر کے اغیار کی تقلید میں سیدھی راہ سے بھٹک چکے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری راہنمائی فرمائے !طب نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھنے اور اس پرعمل پیرا ہو نے کی تو فیق بخشے آمین!مسلمانوں پرفرض عائد ہو تا ہے کہ طب نبوی کی ترویج کےلیے مستقل ادارے قائم کریں تا کہ دنیا اسلامی طریق علاج کے فوائد وثمرات سے مستفید ہوجس میں دنیا و آخرت کی برکا ت ہیں اور دیگر علا ج کے طریقوں پراس کےتفوق کا بھی اظہار ہو شاید کہ غیر اقوام کی ہدایت کا ذریعہ بن جا ئے جیسے مشہور ہے کہ ایک انگریزڈاکٹرحدیث"الذباب "پڑھ کر مسلما ن ہو گیا تھا ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص642

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ