سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(331) جس نے تعویز لٹکایا اس نے شرک کیا

  • 13052
  • تاریخ اشاعت : 2014-08-31
  • مشاہدات : 1591

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں  نے اکثر  جگہوں  پر  کلما ت  لکھے  ہو ئے  دیکھے   اور اب  بھی  دیکھتا  ہوں  جو در ج  ذیل  ہیں  جس  نے گلے  میں تعو یز  لٹکا یا اس نے شر ک  کیا  اور  ساتھ  یہ حدیث  لکھی  ہو تی  ہے ۔
«من تعلق  تميمة فقد اشرك»(مسند احمد)
گزارش  ہے  کہ یہ صحیح  ہے یا غلط  یا حدیث  مذکو ر کا درجہ  کیا ہے  اگر اس کا ذکر  کہیں  نہ ہو تو  بھی  درخواست  ہے  کہ گلے  میں تعویز   پہننا  کیسا  ہے ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں  نے اکثر  جگہوں  پر  کلما ت  لکھے  ہو ئے  دیکھے   اور اب  بھی  دیکھتا  ہوں  جو در ج  ذیل  ہیں  جس  نے گلے  میں تعو یز  لٹکا یا اس نے شر ک  کیا  اور  ساتھ  یہ حدیث  لکھی  ہو تی  ہے ۔

«من تعلق  تميمة فقد اشرك»(مسند احمد)

گزارش  ہے  کہ یہ صحیح  ہے یا غلط  یا حدیث  مذکو ر کا درجہ  کیا ہے  اگر اس کا ذکر  کہیں  نہ ہو تو  بھی  درخواست  ہے  کہ گلے  میں تعویز   پہننا  کیسا  ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جہاں  تک  حدیث  مذکو ر  کا تعلق  ہے تو  وہ حضرت عقبہ  بن  عا مر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے مسند  احمد  میں مرو ی  ہے ملا حظہ  ہو ۔(صححه البانی احمد 4/156) (17353) وقال محققه حمزۃ :اسنادہ حسن الحاکم 4/219 (7513) سکت عنه الذھبی الصحیحة (492) قال الامام البیہقی رحمة اللہ :والتمیمة يقال :انها ذخرزة كانوا يتعلقونها (٩/350) السنن الكبري) (الفتح  الربا نی :17/187)مسند  احمد  کے مبوب  اور شارح  علا مہ سا عا تی  مصری  نے اس کے رجا ل   کے با ر ے میں  کہا ہے  کہ "  رجالہ ثقات "(اس کے راوی  ثقہ  ہیں )اب مسئلہ  یہ رہ جا تا ہے  کہ تمیمہ  کا صحیح  مفہو م  اور مطلب  کیا ہے  اس سلسلے  میں ائمہ  لغت  و شارحین  حدیث ۔

کے چند  اقوال  حسب  ذیل  ہیں ۔تمیمہ کا معنی  منکا لکھا  ہے  چنانچہ  امام ابن اثیر  رحمۃ اللہ علیہ  فر ما تے ہیں ۔

«التمائم جمع  تميمة وهي خرزات» (النهاية :١/١٩٨)

"تمائم  تمیمہ  کی جمع  ہے اور اس کے معنی  منکے  کے ہیں ۔"

اور کتا ب "لسا ن العرب"میں ابو منصور سے  منقول  ہے :

«التمائم واحدتھا  تميمة وهي خرزات» (لسان العرب 12١/7)

'' تمائم کامفرد تمیمہ ہے اور وہ منکوں کانام ہے۔''

اسی طرح "فتح  المجید " میں علا مہ  خلخا لی  رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے :

«وھی ما یعلق باعناق الصبیان من خرزات وعظام» (ص27)

"تمیمہ  ان ہڈیوں  اور منکو ں  کا نا م  ہے جو  بچوں  کے گلے  میں لٹکا ئی  جا تی  ہیں ۔"نیز  "لسا ن العر ب " " میں  ہے :

«ولم اربین الاعراب خلافا ان  التمیمة هي الخرزة نفسها» (12/70)

"مجھے  اعرا ب  میں کسی  کا اختلا ف  معلو م  نہیں ہو سکا  تمیمہ فی  نفسہ  منکوں  کو کہا جا تا ہے ۔اور یہی  مذہب  ائمہ  لغت  کا بھی ہے ۔ واضح  ہو کہ اہل  جاہلیت  یہ فعل  اس لیے  کرتے تھے  تا کہ  اپنی اولا د  کو نظر  بد  سے محفوظ  رکھ  سکیں  چنانچہ  "المنجد "میں ہے :

«كان الاعراب يضعونها علي اولادهم للوقاية من العين ودفع الارواح»

"اعراب اپنی اولا د کو نظر بد  اور بد رو حوں  سے بچا ؤ  کی  خا طر  ان کے گلے  میں تمیمہ  لٹکا تے  تھے ۔ "

امام ابن اثیر  رحمۃ اللہ علیہ   مسئلہ  ہذا  کی مزید  وضا حت  کر تے  ہو ئے رقمطراز  ہیں :

«كانهم يعتقدون انها تمام الدواء والشفاء وانما جعلها شركا لانهم ارادوا بها دفع المقادير المكتوبة عليهم فطلبوا دفع الذي من غير الله الذي هو دافعه» (النهاية :١/١٩٨)

"گو یا کہ ان  کا یہ عقیدہ  تھا  تمیمہ ہی  مکمل  دوا اور شفا ء  ہے  اور اس  تمیمہ  کو اللہ کا شر یک  ٹھہرا دیا ۔انہوں  نے چا ہا  کہ تمیمہ  کے ذریعے  لکھی  ہو ئی  تقدیر  کو محو کر دیں  اور بیما ر  یوں  کے ازا لہ  کے لیے غیراللہ  کا سہا را  ڈھو نڈا  حالا نکہ  صرف  رب العز ت  ہی  تکا لیف  کو دور  کر نے  والا  ہے ۔اور  حا فظہ  ابن  حجر  رحمۃ اللہ علیہ   فر ما تے ہیں :

«التمائم جمع تميمة وهي خرز او قلادة تعلق في الراس كانوا في الجاهلية يعتقدون ان ذلك يدفع الافات»(فتح البا ری :10196)

"تمام  تمیمہ  کی جمع  ہے اور  وہ منکے  یا ہا ر  ہے جسے  سر  میں لٹکا یا جا تا ہے  جاہلیت میں لو گو ں  کا اعتقاد  تھا  کہ اس سے مصائب  رفع ہو جا تے  ہیں ۔ "

اہل فن  کی تشر یحا ت  کی رو شنی  میں ۔«من تعلق تميمة فقداشرك» کا مفہوم  بھی واضح  ہو گیا  کہ مقصود اس سے مذکورہ  معتقدات  کی تر دید ہے  نہ کہ  معروف  تعو یذا ت  جن  میں جا ہلیت  والے  مشر کا نہ  تصوررا ت  نہیں ہو تے ۔

علا مہ البانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے  "سلسلۃ الا حادیث  الصحیحہ" میں صاحب " دلا ئل  الخرات " کا رد  کیا ہے  جس  نے تمیمہ  کی تعریف  میں قرآنی  آیا ت  یا اسمائے  الہیٰ  پر مشتمل  مر قوم تعو یز ات  کو دا خل  کیا ہے ۔

قرآنی  آیا ت  اور اسما ء اللہ  الحسنی  پر مشتمل  تعو یذ لٹکا نے  کے با ر ے  میں سلف  اور  اور خلف  کا ہمیشہ  سے اختلا ف  چلا آرہا ہے کچھ  منع  کے قائل  ہیں  اور دیگر نے  جوا ز  کا فتو ی  دیا  ہے ۔چنانچہ " فتح  المجید  " میں ہے :

«لکن اذا کان المعلق من القرآن فرخض فیه بعض السلف وبعضهم لم يرخص فيه» (١/٣٩٢)

"لیکن لٹکی  ہو ئی  شے  جب  قرآنی  آیا ت  پر مشتمل  ہو تو بعض  سلف  نے اس کو جا ئز  قرار  دیا ہے  اور  بعض  نے ناجا ئز  قرار دیا ہے   اس سے  معلوم  ہو ا متنا زعہ  فیہ  شی  صرف  جوا ز  عدم  جوا ز ہے نہ  کہ جواز  کا معتقد  و عا مل  مشر ک  ہے شر ک  کا فتو ی صا در  کر نے  سے پہلے  قا ئلین  با لجوا ز  سلف  کو بھی  ملحو ظ  خا طر  رکھنا  ضروری  ہے ۔

من كان مستنا فليستن بمن قد مات........الخ

 البتہ  دلا ئل  کی روسے  میر ے  نز دیک  محقق  مسلک  یہی ہے  کہ تعو یز  گنڈے  سے  مطلقاً احترا  ز  کیا جا ئے  اور  صرف  ثا بت  شدہ  دم  پر اکتفا  کیا جا ئے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص612

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ