سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(491) کیا انبیاء زندہ ہیں اور حاضر و ناظر ہیں

  • 1295
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-26
  • مشاہدات : 1217

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
معراج کی رات آپﷺ کا موسیٰ کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھنا کیا اس سے انبیاء کا حاضر و ناظر اور زندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا؟ ازراہ کرم بادلائل صحیحہ جواب دیا جائے۔جزاکم اللہ خیرا

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

معراج کی رات آپﷺ کا موسیٰ کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھنا کیا اس سے انبیاء کا حاضر و ناظر اور زندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا؟ ازراہ کرم بادلائل صحیحہ جواب دیا جائے۔جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد ایک جہان بسایا ہے کہ جہاں مؤمنین اور کفار کی روحیں قیامت تک کے لیے قیام کرتی ہیں او راپنے اپنے اعمال کے مطابق عذاب و مسرت سے لاحق ہوتی ہیں۔ جن کا ذکر قرآن اور احادیث کثیرہ میں وارد ہے جیسے شہداء کی روحوں کا تذکرہ او ران کو رزق دیا جانا اسی طرح نیک لوگوں کی روحوں کا علیین میں داخلہ اور قبر میں عذاب و عتاب اور آرام و سکون بارے احادیث مبارکہ۔ مرنے والوں اور دنیا کے باسیوں کے درمیان برزخ حائل ہوجاتی ہے کہ عالم دنیا کے بعد عالم برزخ جو کہ قیامت تک کا ایک جہاں ہے وہ شروع ہوجاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿حتی إذا جاء أحد ھم الموت قال رب ارجعون۔ لعلی أعمل صالحا فیما ترکت کلاانھا کلمة ھو قائلھا ومن ورائھم برزخ إلی یوم یبعثون﴾ (المؤمنون:100)

’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آلیتی ہے تو کہیں گے اے رب مجھے واپس بھیج دے ۔ اُمید ہے کہ میں چھو ڑے ہوئے نیک اعمال بجا لاؤں ہر گز نہیں یہ تو صرف اس کے منہ کی بات ہوگی حالانکہ ان (دنیا والوں) سے اس کا پردہ ہوگا قیامت تک کے لیے۔‘‘

اس سے پتہ چلا کہ مرنے والے اور زندوں کے درمیان ایک پردہ ہے جس کی وجہ سے ان سے ہر قسم کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔

اب معراج میں نبیﷺ کا حضرت موسیٰ کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھنا ان کے معجزات میں شامل ہے۔ او رمعجزہ خرق عادت سے امور کے صادر ہونے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے معجزہ کے طو رپر معراج میں وہ تمام امو رجو عقلاً محال تھے مثلاً براق کا وجود، آسمانوں کا سفر، جنت و دوزخ کے مناظر خود دیکھنا وغیرہ سب امور معجزہ سےمتعلقہ ہیں۔ اور یہ طے شدہ بات ہے کہ معجزہ سے کوئی مسئلہ یا قاعدہ و قانون اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا اس واقعہ سے حیات انبیاء کی دلیل اخذ کرنا درست نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

﴿إنک میت وانھم میتون﴾ (زمر:30)

’’بے شک اےنبیﷺ! آپ بھی فوت ہونے والے ہیں اور وہ بھی فوت ہوں گے۔‘‘

آپﷺ کی وفات پر اور دنیامیں واپس نہ آنے پر صحابہؓ کا اجماع ہے ۔(دیکھئے: صحیح بخاری کتاب المناقب باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلاً:3394)

حیات انبیاء پر کوئی صحیح سند سے ایسی دلیل موجود نہیں جس سے انبیأ کا اپنی قبروں میں دنیاوی زندگی کی طرح حیات ہونا اور حاضر و ناظر ہونا ثابت ہو۔

وبالله التوفيق

فتاویٰ ارکان اسلام

حج کے مسائل  

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC