سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(218) بخاری شریف کے خلاف بات کرنا

  • 12940
  • تاریخ اشاعت : 2014-08-26
  • مشاہدات : 1041

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص ذخیرہ حدیث ر سول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  بطریق محدثین کرام کا صریحا منکر ہے ۔اور کئی دفعہ ایک مسجد میں کھڑے بیٹھے نمازیوں کے سامنے وہ '' بخاری شریف'' کوگندگی اور گند کہہ دیتا ہے۔

1۔کیا وہ بالعموم مسلمان اور بالخصوص اہل حدیث رہتا ہے؟

2۔کیا وہ کسی مسجد اہل حدیث کامنتظم بنے رہنے کااہل ہوسکتا ہے؟

3۔کیا جس انتطامیہ نے   سے منتظم یا کیشئر برائے مسجد اہل حدیث بنا رکھا ہے وہ مسجد اہل حدیث کی انتظامی کمیٹی کے اہل باقی ر ہتے ہیں؟

4۔اور کیا خطیب یا امام جو اس سے  تنخواہ وصول کرتے ہیں۔اور مکمل طور پر اس کے زیر انتظام رہتے ہیں اور ا س کے '' بخاری شریف' کوگندگی کہنے بھی غیرت ایمانی کا کوئی مظاہرہ نہیں کرتے،وہ اس کے اہل ہیں کہ وہ مسجد اہل حدیث کے خطیب یا امام برقرار رکھے جائیں ؟

5۔اور کیا ایسے حالات میں شرعا ً خالص اہل حدیث نمازیوں پر مشتمل مسجد اہل الحدیث کی نئی انتظامی کمیٹی برائے فروغ  تعلیم حدیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  قائم کی جاسکتی  ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ذخیرہ حدیث کے منکر انسان کا مسلمانی اور اہل حدیث سے دور کا بھی تعلق یاواسطہ نہیں ہوسکتا۔ایسے شخص کو مسجد اہل حدیث کی جملہ زمہ داریوں سے فوراً فارغ کرکے کسی صحیح العقیدۃ مسلمان کو مقرر کیا جائے۔ سے میل جول باہمی تعلق یا راہ رسم رکھنا اپنے دین کو خطرے میں ڈالنا ہے جو ایک سچے مسلمان کی شان سے بعید ہے اور اگر کوئی غافل ایسے بدعقیدہ شخص کا حمایتی ہے۔یا اس کی حمایت سے دستبردار  ہونے کے لئے تیار نہیں تو اس سے بھی قطع  تعلقی کرلینی چاہیے۔ کیونکہ یہ بھی مریض القلب ہے۔ جن کی صحت یابی کے لئے رب کے حضور دعا گوہونا چاہیے اور صحیح العقیدہ لوگوں کو چاہیے کہ اپنی علیحدہ کمیٹی تشکیل دےکر دین اسلام کے فروغ کا سبب بنیں۔

ھذا ما عندي واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص530

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ