سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(196) اہل تشیع کا بخاری کی حدیث اپنے حق میں بیان کرنا

  • 12917
  • تاریخ اشاعت : 2014-08-24
  • مشاہدات : 990

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اہل تشیع بخاری کی اس حدیث (صحيح البخاري كتاب العلم باب كتابة العلم (١١٤) والمغاذي (٤٤٣٢)کو عموماً اپنے اس حق میں  پیش کرتے ہیں۔کہ  جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا بیماری کے دوران یہ فرمانا کہ میرے پاس قلم دوات لے  کرآؤ کہ میں آپ کو لکھ دوں مگر حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا کہ ہمیں قرآن کافی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  تو ہذیان میں ایسا کہہ رہے ہیں۔اس سے اہل تشیع درج زیل مسائل ثابت کرتے ہیں۔

1۔حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا کہنا نا مان کر گستاخی کی۔

2۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ہذیان میں مبتلا کہہ کرگستاخی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ہذیان میں ہونا شان کے خلاف ہے۔

3۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے بعد خلافت کے بارے میں لکھنا چاہتے تھے۔

4۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  تو امی تھے۔آپ کیسے  کہہ سکتے ہیں کہ لاؤ میں لکھ دوں؟ لہذا حدیث عقل ونقل کے خلاف ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1۔حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے بطور شفقت صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم   پر بیماری کے غلبہ کی وجہ سے روکاتھا۔لہذا یہ گستاخی نہیں۔علی سبیل التنزل  اگر اس کوگستاخی تسلیم کرلیا جائے۔ تو اس میں عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  منفرد نہیں تھے۔ بلکہ وہاں کئی ایک صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  واہل بیت رضوان اللہ عنھم اجمعین  موجود تھے۔ وہ سب اس میں شریک ہوں گے۔نیز  تنہا عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  پر الزام لگانا بے انصافی ہے۔حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کیوں نہ تحریر کروایا ۔جب کہ ان کو قرب دامادی حاصل تھا۔''فتح الباری'' وغیرہ میں حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا بیان ہے ۔مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے حکم دیا تھا کہ کوئی کاغذ لاؤ جو لکھا جائے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے روکنے سے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  کا رک  جانا منصب رسالت کے منافی ہے جب کہ آپ پر  تبلیغ فرض ہے۔اس واقعہ کے بعد بھی چند روز تک آپ زندہ رہے۔اگر کوئی ضروری تحریر ہوتی تو ضرور لکھوادیتے ۔

2۔پہلی بات یہ ہے کہ یہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا مقولہ نہیں۔حدیث کی کسی کتاب میں اس امر کی  تصریح موجود نہیں۔

٭ دوسرا''ہجر'' بمعنی ہذیان لینا غیر متبادر ہے۔یہ لفظ جدائی کے معنی میں کثیر الاستعمال ہے ۔چنانچہ قرآن میں ہے﴿وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا﴾دوسری آیت میں ہے:﴿ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ﴾

٭   تیسری بات یہ  ہے '' ہجر'' کے بعد استفهموه كا لفظ موجود ہے  جس کے معنی یہ ہیں آپ سے پوچھوتو سہی کیا ارشاد فرماتے ہیں۔اگرْْہجر'' کے معنی ہذیان کے لئے جائیں تو استفهموه سے بے ربط اور بے کار ہوجاتا ہے جس کو ہذیان ہوگیا اس سے پوچھنا  خلاف عقل ہے۔ثابت ہوا ھجر ویھجر کے معنی جدائی کے ہیں نہ کہ ہذیان ۔(فیصلہ حدیث قرطاس 69)

3۔'' قصہ قرطاس'' جمعرات کو پیش آیا۔بروزسوموار آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا انتقال ہوا۔اس اثناء میں اگر خلافت کے بارے میں کوئی ضروری تحریر ہوتی تو آپ لکھواسکتے تھے یا فاتح خیبر حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جراءت مندانہ اقدام کرکے لکھوا لیتے۔بلکہ حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت حسن  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  امت کی مصلحت کے پیش نظر رضاکارانہ طور پر امورخلافت سے مستعفی ہوگئے تھے۔یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ استحقاق خلافت اہل بیت کے لئے متعین نہیں۔

4۔کتاب کی نسبت آپ کی طرف بلحاظ آمر کے تھی قصہ صلح حدیبیہ میں بھی ایسے الفاظ موجود ہیں۔وہ نسبت بھی حکم کے اعتبار سے ہے جب کہ فی الواقع کاتب حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  تھے۔اسی طرح معاملہ یہاں بھی سمجھ لینا چاہیے۔اس میں ایسی کوئی شے نہیں جو عقل ونقل کے منافی ہو۔

ھذا ما عندي واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص497

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ