سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(138) عیسائیوں کے اچھے کام پر اجر

  • 12854
  • تاریخ اشاعت : 2014-08-18
  • مشاہدات : 1087

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

1:.....قرآن حکیم عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث عقیدہ ابن اللہ کی وجہ سے ان کو کافرقرار دیتا ہے۔اور ان سے دوستی سے منع کرتا ہے۔لیکن سورۃ المائدہ آیت نمبر 69 کہ یہودی عیسائی جو بھی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو وہ غمگین نہ ہوں گے۔اسی طرح سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 62 میں ہے کہ وہ اللہ کے ہاں اجرپائیں گے۔

2:.....کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لائے بغیر ان کو اجر ملے گا؟

3:.....آج کل عیسائی رفاہ عامہ کے یا دوسرے اچھے کام کرتے ہیں تو کیا انھیں اجر ملے گا یا نہیں؟

اگر قرآن میں اس وقت کے یہودی عیسائی مراد ہیں تو وہ پہلے ہی سے اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(الف) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے چارقسم کے  لوگوں کا زکر فرمایا ہے۔

٭ پہلے وہ لوگ جو ایمان لائے ان سے مراد شریعت محمدیہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ماننے والے ہیں۔

٭  دوسری قسم یہودی ہیں: یہ لوگ موسیٰ  علیہ السلام  کی امت ہیں۔

٭ تیسری  قسم عیسائی : یہ عیسیٰ  علیہ السلام  کی امت ہیں۔

٭ چوتھی قسم بے دین لوگ ہیں:ان سے مراد معبودان باطلہ کے پجاری ہیں۔خوا ہ فرشتو ں کو پوجیں یا بتوں کو  یا آگ وغیر ہ کو ان کے متعلق سلف کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔بعض ان میں سے زبور بھی پڑھتے ہیں۔

ان چاروں کا نا م کے کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اللہ اورآخرت پر ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کئے صرف ان کے لئے خوشخبری ہے:

﴿فَلَهُم أَجرُ‌هُم عِندَ رَ‌بِّهِم وَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ ﴿٦٢﴾... سورة البقرة

ان لوگوں کا اپنے اپنے زمانہ میں ایمان اور عمل معتبر تھا مثلاً جب تک عیسیٰ  علیہ السلام  نہیں آئے اس وقت تک موسیٰ  علیہ السلام  کی شریعت پر پوری طرح عامل رہے ان کے لئے یہ خوشخبری ہے عیسیٰ  علیہ السلام  کے آنے کے بعد پہلی شریعت منسوخ ہوگئی۔اب عیسیٰ  علیہ السلام  کی شریعت پر جو پوری طرح عامل رہا۔وہ اس خوشخبری کا حقدار ہے اس کے بعد حضرت محمد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لائے۔اب پہلی تمام شریعتیں منسوخ ہوگئیں۔اب نجات کادارومدار شریعت محمدیہ  صلی اللہ علیہ وسلم  پر ہے۔

یہاں ایک شبہ ہوتا ہے۔ کہ پہلی شریعتیں جو منسوخ ہوچکی ہیں۔ صرف ان  تینوں کازکر کافی تھا۔یہودی عیسائی اور بے دین چوتھا فرقہ جو اس شریعت پر ایمان لایا اس کا زکر یہاں بے محل ہے کیونکہ اس شریعت پر جو ایمان لاچکے ان کے پھر ایمان لانے کا کوئی مطلب نہیں ۔

(ب) اس کے دو جواب ہیں:

1۔ایک یہ کہ ان کے ایمان لانے کامطلب ایمان پر ہمیشگی اورثابت قدمی ہے کیونکہ دارومدار خاتمہ پر ہے۔خاتمہ سے پہلے ایمان لایا ہوا کافی نہیں جب تک خاتمہ ایمان پر نہ ہو۔

2۔دوسراجواب یہ ہے کہ یہاں ایمان لانے والے سے مراد وہ ہے جو مدعی ایمان ہو۔جیسے منافق یا کمزور ایمان والے۔اس صورت میں مطلب یہ ہوا کہ اس امت میں سے جن کا دعویٰ ایمان کا ہے وہ اس خوشخبری کے اس صورت میں مستحق ہوں گے کہ وہ حقیقی معنی میں ایمان لائیں اور عمل نیک کریں۔

تنبیہ:

ایک لفظ کا معنی حقیقی اور مجازی دونوں کا ایک وقت میں مراد ہونایہ اما م شافعی  رحمۃ اللہ علیہ  کے نزدیک جائز ہے۔اور امام ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  منع کے قائل ہیں۔اس آیت سے امام شافعی  رحمۃ اللہ علیہ  کے مذہب کو تایئد ملتی ہے کیو ں کہ (( من آمن)) کے دو معنی ہوں گے۔ پہلے فرقے کے حق میں اس کے معنی ہوں گے۔جو ایمان پر ثابت قدم رہے یہ ''آمن'' کے مجازی معنی ہیں اور باقی فرقوں کے حق میں ہوں گے۔جو ایمان لائے اور یہ'' آمن' کے حقیقی معنی ہیں تو گویا اس میں حقیقی اور مجازی دونوں مراد ہوئے۔

شان نزول:

سلمان فارسی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور ان کے ساتھیوں کی عمر مجوسی مذہب پر گزری کچھ عیسائیت پر پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان نصیب کردیا ایک دن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس اپنے ساتھیوں کا زکر کرہے تھے کہ وہ نمازیں پڑھتے تھے روزے رکھتے تھے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان بھی لاتےتھے۔ اوراس بات  کی شہادت دیتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  آخری نبی  ہوں گے ان کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنمی ہیں(کیونکہ وہ یہ کام کسی شریعت کے تحت نہیں کرتے تھے۔سلمان فارسی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سخت غمگین ہوئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اُتاری جس سے اس طرف اشارہ کیا۔جس نبی  کازمانہ ہو اسی نبی کی شریعت کے تحت رہ کر جو ایمان لائے اور عمل نیک کرے اس کے لئے یہ خوشخبری ہے نہ کہ اپنے طور پر کسی کام کو اچھا سمجھ کر کرنے لگ جائے۔ اس  بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی؛

﴿وَمَن يَبتَغِ غَيرَ‌ الإِسلـٰمِ دينًا فَلَن يُقبَلَ مِنهُ وَهُوَ فِى الـٔاخِرَ‌ةِ مِنَ الخـٰسِر‌ينَ ﴿٨٥﴾... سورة آل عمران

‘‘اورجو شخص اسلام کے سوا کسی اوردین کا متلاشی ہو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گااورایسا شخصآخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔’’

الفاظ کی تشریح

  چونکہ یہاں ایمان کا معاملہ اعمال سے ہے۔اس لئے ایمان سے مراد اعتقاد ہے لیکن صرف اعتقاد نجات کے لئے کافی نہیں  اس لئے ساتھ اعمال کا بھی زکر کیا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایمان سے مراد عام ہو۔جس میں اعما ل بھی داخل ہوں۔ اور اعمال کا الگ زکر یہ ان کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے ہو۔چنانچہ ارشاد ہے:

﴿مَن كانَ عَدُوًّا لِلَّـهِ وَمَلـٰئِكَتِهِ وَرُ‌سُلِهِ وَجِبر‌يلَ وَميكىٰلَ فَإِنَّ اللَّـهَ عَدُوٌّ لِلكـٰفِر‌ينَ ﴿٩٨﴾... سورة البقرة

یعنی'' جو شخص اللہ کا فرشتوں کا اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو پس بے شک اللہ تعالیٰ دشمن ہے واسطے کافروں کے۔''

 اس آیت میں فرشتوں کا زکر کرنے کے  بعد جبرئیل اور میکائیل کا الگ الگ زکر کیا ہے۔یہ صرف ان کی بزرگ اور بڑائی کے لئے ہے۔ اسی طرح اعمال کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔اعتقاد ہی کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔عمل صالح کی تین شرطیں ہیں۔ ایک اعتقاد کاصحیح ہونا دوسرے شریعت کے موافق ہونا تیسرے اصلاح نیت اعتقاد کے صحیح ہونے کامطلب ہے کہ توحید کا قائل ہو اور شریعت کے موافق ہونے کا مطلب بدعت نہ ہو۔شریعت میں اس عمل کا ثبوت ہو اخلاص نیت یہ مطلب ہے کہ محض اللہ کی رضا کے لئے ہو۔کسی کے دبائو یا لہاظ یادکھاوے کے لئے نہ ہو۔

حزن خوف اور غم میں فرق یہ ہے  کہ حزن اس چیز پر ہوتا ہے جو چھن گئی ہو خوف آئندہ چیز کا ہوتا ہے۔جیسے تجارت میں کہیں نقصان نہ ہوجائے اور غم عام ہے گزشتہ چیز پر بھی ہوتا ہے جیسے کسی کا کوئی مرجائے اور آئندہ کا بھی جیسے امتحان میں کہیں ناکام نہ ہوجاؤں۔

''يحزنون’’کاباب دو طرح سے آتا ہے۔ایک حزن ‘يحزن‘بروزن ‘نصر ينصر  اس کے مصدر حزن کے معنی ہیں دوسرے کو غمگین کرنا چنانچہ قرآن میں ہے:

﴿وَلا يَحزُنكَ الَّذينَ يُسـٰرِ‌عونَ فِى الكُفرِ‌...١٧٦﴾... سورة آل عمران

یعنی'' نہ غمگین کریں تجھے وہ لوگ جو کفر میں جلدی کرتے ہیں۔''

دوسرا باب حزن یحزن بروزن سمع یسمع یہ لازم ہے۔اس کے معنی غمگین ہونے کے ہیں۔اس آیت میں یہی مراد ہے۔ ا س ساری بحث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو خاتم النبیین تسلیم کئے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں۔اورعیسائیوں کے اعمال بھی قابل قبول  نہیں۔جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی نبوت کا اقرار نہیں کرتے۔

کتاب وسنت کے نصوص اس امر پرواضح شواہد ہیں۔قرآن میں ہے:

﴿وَوَجَدَ اللَّـهَ عِندَهُ فَوَفّىٰهُ حِسابَهُ...٣٩﴾... سورة النور

صحیح مسلم میں ہے:'' کافر کے لئے اعمال خیر کی صرف دنیا میں جزا ہے آخرت میں نہیں''

ھذا ما عندي واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص421

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ