سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(477) حجام کی کمائی سے قربانی کے حصوں میں شامل ہونا

  • 1281
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-19
  • مشاہدات : 1657

سوال

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوال یہ ہے کہ میرا ایک دوست ہے جو پیشہ کے اعتبار سے حجام ہے گزشتہ بقرہ عید پر محلہ والوں نے اس کو اپنے ساتھ قربانی میں حصہ دار بنانے سے یہ کہہ کر منع کیا کہ آپ حجام ہو اور آپ کی کمائی حرام کی ہے اس لیے آپ کو ساتھ ملانے سے ہماری قربانی خراب ہوجائے گی۔ کیا واقع ایسا ہے کیونکہ ایسے تو بہت سے لوگ ہیں اور صدیوں سے قربانی کا فریضہ چلاآرہاہے ہم سب ساتھ ساتھ قربانی کرتے آرہے ہیں۔ازراہ کرم قرآن اور حدیث کی رو سے تفصیلی جواب دیں۔جزاکم اللہ خیرا


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حجام کی کمائی میں اگرصرف داڑھی کاٹنے کے اجرت ہے تو چونکہ یہ کام حرام ہے لہٰذاس کی کمائی بھی حرام تصور ہوگی جبکہ صورت حال یہ ہے کہ حجام کے پاس اور بہت سے کام ہوتے ہیں جس میں داڑھی کٹوانا، بال کٹوانا اور حمام میں غسل وغیرہ تو اس کمائی میں یہ سب کاموں کی اجرت شامل ہوتی ہے لہٰذا اس کمائی کو 100 فیصد حرام سمجھنا غلط ہوگا۔

اس صورت میں حجام کو قربانی کے حصوں میں شامل کیا جاسکتا ہے اور اس کی شمولیت سے دوسرے حصوں کی قبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور ویسے بھی سب حصے دارو ں کی قربانی کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے نہ کہ دوسرے حصہ داروں کے اعمال کے ساتھ ہر حصہ دار اپنی قربانی کے قبولیت اور عدم قبولیت کے افعال کا خود ذمہ دار ہے نہ کہ دوسرا ۔لہذا دوسر ے حصوں پر اسکا کچھ اثر نہیں ان شاءاللہ۔

وبالله التوفيق

فتاویٰ ارکان اسلام

حج کے مسائل  

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ