سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(73) میت سے قبر میں کیا جانے والا سوال

  • 12799
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-20
  • مشاہدات : 1253

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علماءئے دین وشرع متین اس مسئلہ کی بابت کہ میت سے قبر میں جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ«ما كنت تقول في هذا الرجل؟»''تو اس مرد کے متعلق کیاکہتا تھا؟'' تو کیا رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی صورت  وہاں دیکھائی جاتی ہے۔ یا آپ خود تشریف لاتے ہیں؟اس حدیث میں بعض لوگ نحوی نقطہ کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ ھذااسم اشارہ قریب کےلئےہے۔جس سے معلوم ہوا کہ آپ وہاں موجود ہوتے ہیں۔ اور فرشتے آپ کی طرف اشارہ  کرکے کہتے ہیں۔ «ما كنت تقول في هذا الرجل؟»جواب دےکر عنداللہ ماجور ہوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ما كنت تقول في هذا الرجل؟))(1) میں لام عہد ذہنی ہے۔ھذا اور  مامشارالیہ حاضرفی الذھن ہے جس طرح کہ''تنویرالحوالک للسیوطی'' میں ہے۔حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ  کا پسند کردہ مسلک بھی یہی ہے کلام عرب میں یہ استعمال شائع وزرائع عام ہے چنانچہ ''قصہ ہرقل'' میں ہے:

اني سائل هذا عن هذا الرجل

 پھر مسئول(میت) کاجواب بصیغہ غائب بھی اس امر کا موئید مثلا:

’’هو عبد الله ورسوله ’’(٢)......’’ اشهد انه عبد الله ورسوله ’’(٣)

 وہ اللہ کے بندے اور رسول  ہیں۔مزید آنکہ مقام ہذا مقام امتحان ہے اس بنا پر اسم گرامی کی تصریح  ترک کردی گئی ہے اسکا بھی تقاضا ہے کہ آپ کی شخصیت  سامنے نہ ہو۔

 رفع حجاب یا حضور بالجسم کے نظریہ پر واضح صریح کتاب وسنت میں کوئی دلیل موجود نہیں بلکہ اس نظریہ کا کمزور پہلو یہ ہے کہ واقف سے واقفیت تو آسان  ترکام ہے۔ لیکن سابقہ  وجودی عدم معرفت کی صورت میں حفظ اوصاف کے باوجود معاملہ مشتبہ ہونے کا امکان ہے۔ دوسرےلفظوں میں اس کا مفہوم یہ ہوا۔ابوجہل کے لئے وجودی معرفت آسان ہے  کیونکہ اسنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھا ہوا ہے جب کے بعد والے مومن کے لئے مشکل ہے کیونکہ اس کو آپ کی رویت حاصل نہیں حالانکہ اصل معاملہ اس کا برعکس ہے۔ مومن کی معرفت ایمان پر موقوف ہے۔جس کا اصلا ً تعلق باطن سے جبکہ کافر وجودی معرفت کے باوجود پہچان سے قاصر ہے ۔کیونکہ قلب سیاہ ہے اس سے معلوم ہواکہ :''فی ھذا الرجل میں حاضر فی الخارج نہیں بلکہ حاضر فی الذھن مراد ہے علاوہ ازیں یہ بھی امکان ہے کہ ''ھذا  بمعنیٰ ذلک'' ہو جیسے قرآن میں ہے:

﴿ذٰلِكَ الكِتـٰبُ لا رَ‌يبَ ۛ فيهِ...﴿٢﴾... سورة البقرة

آیت  میں ذلک بمعنیٰ ہذا ہے۔ممکن ہے ''ھذا الرجل'' میں بمعنی ذلک ہو ابن کثیر میں ہے:

كلا منهما مكان الاخر وهذا معروف في كلامهم

یعنی'' عرب لوگ اسم اشارہ قریب اور بعید کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔یہ  طریقہ کا ان کے کلام میں معروف ہے۔''


1۔(٨٣) صحيح البخاري كتاب الجنائز باب الميت يسمع خفق النعال (١٣٣٨)

2۔(٨٤) صحيح الترمذي (1083) حسنه اللباني الصحيحة (١٣٩١)

3۔(٨٥) صحيح البخاري كتاب الجنائز باب ماجاء في عذاب القبر (١٣٧٣)

ھذا ما عندي واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص251

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ