سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(475) اللہ اللہ کے ذکر کو وظیفہ اور ورد بنانا

  • 1279
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-16
  • مشاہدات : 1857

سوال

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا اللہ اللہ کے ذکر کو وظیفہ اور ورد بنانا درست ہے؟ ازراہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو بھیج کر قیامت تک کے لیے شریعت محمدیﷺ کو تمام ادیان میں واجب العمل اور ضروری قرار دیا ہے اور اسی طرح شریعت محمدیﷺ کے آجانے سے باقی تمام شریعتیں منسوخ ہوچکی ہیں۔ اللہ نے اپنے احکام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے نبی آخر الزماں محمدﷺ پر وحی نازل فرمائی او ریہ وحی جلی یعنی قرآن اور خفی یعنی حدیث کی صورت میں تھی۔

احکام خداوندی بجا لانے کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرکے جنت کا حصول اور جہنم سے بچ جانا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کو اپنی اطاعت اور احکام پر عمل پیرا ہوجانے پر مشروط کیا ہے۔ اللہ کے احکام میں اس کے نبیﷺ پر ایمان لانا سب سے اہم اور مرکزی عمل ہے کیونکہ یہ وہ ہستی ہے کہ جس پر ایمان لاکر اور اس پر اعتماد کرکے اللہ کی پہچان اور اس کے احکام کی وصولی ہوسکتی ہے۔ اس لیے فرمایا:

وما اتاکم الرسول فخذوہ ومانھا کم عنہ فانتھوہ (الحشر:7)

’’جو رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے منع کرے اس سے باز آجاؤ‘‘

یہاں نبﷺ کی اتھارٹی اور ان کے اوامر و نواہی کو سند اور اپنے حکم کے طور پر بیان کیا جارہا ہے کہ اس کی بات کو ماننا اصل میں میرا حکم ماننا ہے۔

اسی طرح آپﷺ نے فرمایا:

من عمل عملاً لیس علیہ أمرنا فھورد (صحیح بخاری کتاب الاعتصام باالکتاب والسنہ باب إذا اجتہد العامل أو الحاکم)

’’جس نے کوئی عمل کیا اور اس عمل پر ہمارا حکم نہیں وہ مردود ہے۔‘‘

اذکار و ادعیہ بھی عبادت کا حصہ ہیں اگرچہ عام طور پر دعائیں نماز وغیرہ کے موقع کے علاوہ کسی بھی زبان اور الفاظ میں خرافات و ممنوعات سے بچتے ہوئے کی جاسکتی ہیں۔ اذکار اور وظائف کودعاؤں سے ذرا ہٹ کر حیثیت حاصل ہے کیونکہ یہ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو انسان کے ورد زبان رہتے ہیں اور وہ کسی بچے کی طرح ہر وقت اسے زبان پر جاری رکھتا ہے۔ اصل میں یہ اس کی اس کے رب کے ساتھ سرگوشیاں اور مناجات ہوتی ہیں جو راز و نیاز کی صورت میں ہوتی رہتی ہیں۔

لیکن شریعت نے اس پہلو کو بھی تشنہ نہیں چھوڑا او ریہ اذکار بھی اللہ کے رسولﷺ سے ثابت ہیں۔ مثلاًتمحید، تمجید اور استغفار وغیرہ کا ورد او ران کے علاوہ صبح شام کے اذکار جو کہ مسلمان کا رات دن کا وظیفہ بن جاتا ہے وہ سب اذکار اللہ کے رسولﷺ سے ماثور ہیں جنہیں ایک مسلمان کو ضرورت تھی۔

اب اگر کوئی ایسے الفاظ جو کہ ورد کے طور پر زبان پر جاری رکھے اور وہ اللہ کے رسولﷺ سے منقول بھی نہ ہوں تو اس پر مسلسل عمل کرنا بدعت کی شکل اختیار کرجائے گا۔

جس طرح کہ ہمارے دور میں کچھ لوگ اللہ اللہ کے ورد کو اپنا وظیفہ بناتے ہوئے ہر وقت زبان پر جاری رکھتے ہیں اور اس عمل کو لوگوں میں شائع بھی کررہے ہیں۔ اب اللہ اللہ کا مطلب کچھ بھی نہیں بنتا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے نام کے۔

یاد رہے کہ اذکار ماثورہ کے ہر وظیفہ اور ورد کا مکمل معنی بنتا ہے مثلاً استغفراللہ (میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں) اللہ اکبر (اللہ بہت بڑا ہے) الحمدللہ (سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) لیکن اللہ اللہ کا کیا مطلب ہے؟ یہ جملہ نہیں بنتا جس سے کوئی خبر یا درخواست کا پتہ چلے۔ اور دوسری طرف اس ورد میں مشغول ہونے سے وہ تمام اذکار جو ماثورہ ہیں سے انسان بے رغبتی اختیار کرلیتا ہے جس سے اس کی زندگی کے اعمال میں سنت اذکار کا تعطل آجاتا ہے۔لہٰذا اللہ اللہ کوبطور ورد اور وظیفہ اختیار کرنا کتاب و سنت اور سلف سے کہیں ثابت نہیں۔ اس سے اجتناب کرنا چاہیے اور ماثورہ وظائف کو اختیار کرنا چاہیے۔ ویسے بھی اگر ایک مسلمان اگر وظائف ماثورہ کو صحیح طور پر مکمل کرے تو اس کے پاس اتنا وقت کہاں بچے گا کہ وہ غیرماثورہ وظائف کی طرف توجہ دے۔

وبالله التوفيق

فتاویٰ ارکان اسلام

حج کے مسائل  

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ