سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(34) تصویر والے کلینڈروں کو تلف کرنا

  • 12753
  • تاریخ اشاعت : 2014-08-12
  • مشاہدات : 507

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی جو کہ (پابند ہے صوم وصلوۃ کا) نے ایک کیلنڈر فروخت کرنے والے کودیکھا کہ وہ بزرگان دین واولیائے کرام کی تصوراتی تصاویر مع عورتوں کی  تصاویر فروخت کررہا ہے اس نے جیب سے رقم دے کر وہ کیلنڈر لے کر پھاڑ دیئے کہ یہ تصاویر بزرگان دین کی نہیں ہیں بلکہ عورت کے ساتھ بزرگان دین ار اولیاء کرام کی تصاویر دین متین وشریعت مطہرہ کی خلاف ورزی اوراولیائے کرام کی توہین ہے۔تصاویر والے کیلنڈروں کے نیچے چند آیات قرآنی کے کیلنڈر تھے۔ جو کہ ا س کو معلوم نہ تھے۔ جب اس نے تصویر والے کیلنڈر پھاڑے تو ساتھ ہی وہ بھی نادانستہ پھٹ گئے۔ اب جب اس کو پتہ چلا تو  پشیمان ہوا۔آپ  فرمائیں کہ  اس شخص کی سزا کیا ہے اور کیا ا س کی معافی قابل قبول ہوگی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسے میں اللہ کے حضور معافی کی درخواست کرنی چاہیے۔ اور یہی کافی ہے صحیح حدیث میں ہے۔

’’ فان العبد اذا اعترف بذنبه ثم تاب تاب الله عليه ’’  صحيح البخاري كتاب المغازي باب حديث الافك (٤١٤١) صحيح مسلم كتاب التوبة با ب في حديث الافك وقبول توبة القاذف (7020)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص213

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ