سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(27) قرآن مجید کلام الٰہی ہے؟

  • 12746
  • تاریخ اشاعت : 2014-08-11
  • مشاہدات : 870

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہمارے ہاں ایک دیو بندی مبلغ نے یہ بیان کیا ہے۔''قرآن مجید کلام الٰہی نہیں ہے۔بلکہ مخلوق ہے۔''ان کا موقف یہ ہے کہ قرآن مجید صفت ہے اور صفت پیدا ہوتی ہے۔اس لئے قرآن مجید مخلوق ٹھرا جب ہم نے ان سے  بحث کی تو کہنے لگے کہ'' ہم اپنے علماء سے فتویٰ منگوا کر  آپ کو دیکھا سکتے ہیں۔آپ بھی اپنے علماء سے فتویٰ منگوا کر تسلی کرلیں '' اس مسئلہ کا جواب مطلوب ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں ایک دیو بندی مبلغ نے یہ بیان کیا ہے۔''قرآن مجید کلام الٰہی نہیں ہے۔بلکہ مخلوق ہے۔''ان کا موقف یہ ہے کہ قرآن مجید صفت ہے اور صفت پیدا ہوتی ہے۔اس لئے قرآن مجید مخلوق ٹھرا جب ہم نے ان سے  بحث کی تو کہنے لگے کہ'' ہم اپنے علماء سے فتویٰ منگوا کر  آپ کو دیکھا سکتے ہیں۔آپ بھی اپنے علماء سے فتویٰ منگوا کر تسلی کرلیں '' اس مسئلہ کا جواب مطلوب ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن مجید کلام اللہ اور غیر مخلوق  ہے سورہ توبہ میں ہے:

﴿حَتّىٰ يَسمَعَ كَلـٰمَ اللَّـهِ...٦﴾... سورة التوبة

''یہاں تک کہ کلام الٰہی سننے لگے۔''

جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے بےمثال اور بے نظیر ہے اسی طرح اس کی صفات بھی بے مثال اور بے نظیر ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ لَيسَ كَمِثلِهِ شَىءٌ ۖ وَهُوَ السَّميعُ البَصيرُ‌ ﴿١١﴾... سورة الشورىٰ

‘‘اس جیسی کوئی چیز نہیں اوروہ سنتادیکھتا ہے۔’’

اس آیت کریمہ میں جہاں باری تعالیٰ کی بے مثال زکر ہوئی ہے وہاں اس کا دیکھنا اور سننا بھی مذکور ہے یعنی صفات الٰہی کا اثبات ہے۔اس طرح سارا قرآن کریم صفت الٰہی غیر مخلوق اور معجز ہے امام طحاوی حنفی  رحمۃ اللہ علیہ  عقیدہ طحاویہ میں  فرماتے ہیں:

’’ ان القرآن كلام الله منه بدا بلا كيفيات قولا وانزله علي رسوله وحيا وصدقه المومنون علي ذلك حقا وايقنوا انه كلام الله الحقيقة ليس مخلوقا ككلام البرية فمن سمعه فزعم انه كلام البشر فقد كفر وقد ذمه الله وعابه واوعد بسقر حيث قال تعاليٰ((ساصليه سقر)) فلما او عد الله بسقر لمن قال(( ان هذا الا قول البشر))علمنا وايقنا انه قول خالق البشر ولا يشبه قول البشر’’

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص: 127۔128)

''قرآن اللہ کا کلام ہے۔ جو اسی سے ظاہر ہوا ہے۔ہمیں اس کے تکلم کی کیفیت معلوم نہیں۔اس نے وحی کی صورت میں اسے اپنے رسول کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل فرمایا۔اور مومنوں نے اس کے برحق ہونے کی تصدیق کی اور انہیں یقین ہو ا کہ یہ حقیقتاً اللہ کا کلام اور غیر مخلوق ہے لوگوں کے کلام کی طرح مخلوق نہیں ۔جو اسے سن کر خیال کرے کہ یہ بشر کا کلام ہے تو وہ کافر ہے ایسے شخص کی اللہ نے مذمت کی اور اس پر عیب لگایا اور دوزخ کے طبقہ ''سقر'' میں داخل کرنے کی دھمکی دی۔جس آدمی نے یہ کہا تھا کہ ''قرآن تو محض انسانی کلام ہے۔'' اللہ نے اس کو دوزخ کی دھمکی دی تو ہمیں علم اور یقین ہوگیا کہ یہ خالق بشر کا کلام ہے۔اور بشر کے کلام کے مشابہ نہیں۔''

کتب توحید میں امام ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کا قول معروف ہے کہ ''اللہ جانتا ہے  لیکن اس کا جاننا ہمارے جاننے کی طرح نہیں۔اللہ قادر ہے اس کی قدرت ہماری قدرت کی طرح نہیں۔اللہ متکلم ہے۔لیکن اس کا کلام مخلوق کے کلام جیسا نہیں۔اللہ سمع ہے اور اس کا سننا ہمارے سننے کی طرح نہیں۔وہ دیکھتا ہے۔اس کادیکھنا ہمارے دیکھنے کی طرح نہیں۔اس لئے ارشا د باری تعالیٰ ہے:

﴿هَل تَعلَمُ لَهُ سَمِيًّا ﴿٦٥﴾... سورة مريم

''بھلا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو۔''

شارح عقیدہ طحاویہ علامہ ابن ابی العز حنفی  فرماتے ہیں:

'' وبالجملة اهل السنة كلهم من اهل المذاهب الاربعة وغيرهم ن السلف والخلف متفقون علي ان كلام الله غير مخلوق ’’

جملہ اہل سنت مذاہب اربعہ کے پیروکار اور دیگر سلف وخلف سب اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کا  کلام غیر مخلوق ہے۔''(ص:137)

تفصیلی بحث کے لئے کتب  توحید ملاحظہ فرمائیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص206

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ