سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(468) شرکیہ وکفریہ عقائد کے حاملین فوت شدگان کےلیے دعائے مغفرت

  • 1272
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-13
  • مشاہدات : 1282

سوال

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے دادا جی بریلوی عقائد کی رو سے بہت دین دار تھے کیونکہ انہوں نے زندگی اسی ماحول میں گزاری۔شرک وبدعت کے مرتکب تھے۔یعنی قبر پرستی وغیرہ اب ان کا انتقال ہوچکا ہے۔اب کیامیرے لیے جائز ہے کہ میں ان کےلیے دعائے مغفرت کرتا رہوں۔؟ ازراہ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام توحید کو تمام اعمال کے لیے شرط قرار دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والےکے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ جب تک وہ توحید کا اقراری نہ ہوگا ایسی حالت میں موت کی صورت میں وہ جہنم میں جائے گا اور ایسے شخص کےلیے اس کی موت کے بعد دعائے مغفرت سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسولؐ کو فرماتے ہیں:

" مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُ‌وا لِلْمُشْرِ‌كِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْ‌بَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ " (التوبہ:113)

’’پیغمبر اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔‘‘

اس کی تفسیر صحیح بخاری میں اس طرح ہے کہ جب نبیؐ کے چچا ابوطالب فوت ہونے لگے تو نبیؐ ان کے پاس آئے ان کے پاس ابوجہل اورعبداللہ بن ابی امیہ بیٹھے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: چچا جان لا إلہ الا اللہ کہہ دیں تاکہ اللہ کے ہاں میں آپ کے لیے حجت پیش کرسکوں۔ ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا : اے ابوطالب کیا عبدالمطلب کے مذہب سے انحراف کرو گے؟ نبیؐ نے فرمایا: جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے روک نہیں دیا جائے گا میں آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔(صحیح بخاری:1360)

اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی کی موت شرک پر ہوئی ہو تو اس کے لیے دعائے مغفرت کرنا درست نہیں ہے۔

وبالله التوفيق

فتاویٰ ارکان اسلام

حج کے مسائل  

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ