سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(247) اسمائے حسنیٰ کا وسیلہ

  • 12714
  • تاریخ اشاعت : 2014-08-10
  • مشاہدات : 661

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب انسان اس طرح دعا کرے کہ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اسمائے حسنیٰ اور صفات کے وسیلے سے یہ سوال کرتا ہوں کہ میرا یہ کام کردے تو کیا اس طریقے سے دعا کرنا صحیح ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سنت یہی ہے کہ دعا کرنے والا اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور صفات علیا کے وسیلہ کو اختیار کرے، نیز وہ اپنے اعمال صالحہ اور نیک لوگوں کی صحبت کے وسیلے کو اختیار کرے کہ یہ قبولیت کے اسباب میں سے ہے۔ اس طرح کے وسیلہ کو دعا سے پہلے اور بعد میں دونوں طرح پیش کرنا جائز ہے، لیکن یاد رہے کہ اشخاص کے وسیلہ کو اختیار کرنا جائز نہیں ہے، مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ اے اللہ! میں تیرے پاس فلاں مرد یا عورت کے وسیلہ کو پیش کرتا ہوں تو یہ وسائلِ شرک میں سے ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص195

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ