سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

احتلام سے روزہ ٹوٹنے کا حکم

  • 12689
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-03
  • مشاہدات : 903

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیااحتلام سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے ،محتلم نہ تو گناہ گار ہے اور نہ ہی اس پر کوئی کفارہ ہے۔و ہ صرف غسل جنابت کا پابند ہے۔کیونکہ یہ انسان کی استطاعت میں نہیں ہے اور اللہ تعالی انسان کو اس کی استطاعت سے زیادہ مکلف نہیں بناتے ہیں۔ارشاد باری تعالی ہے۔

﴿لا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفسًا إِلّا وُسعَها...٢٨٦﴾... سورة البقرة

اللہ تعالی تعالی کسی بھی جان کو اس کی استطاعت کے مطابق مکلف بناتا ہے۔

نیز نبی کریم نے فرمایا:

ثلاث لا يفطرن الصائم الحجامة والقيء والاحتلام(ترمذی:719)

تین چیزیں روزہ نہیں توڑتیں : پچھنا (فصد لگوانا) قے اور احتلام ۔

یہ اگرچہ ضعیف حدیث ہے لیکن اس سے پہلے گزری آیت مبارکہ اپنے موضوع پر صریح حکم کا درجہ رکھی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ