سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(222) امانت کو اپنی ذاتی ضروریات کے لیے استعمال کرنا

  • 12684
  • تاریخ اشاعت : 2014-08-09
  • مشاہدات : 484

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کچھ اہل خیر نے اعتماد کرتے ہوئے ایک ہائی سکول کی عمارت کی تعمیر کے لیے جمع کئے گئے عطیات کا مجھے خزانچی بنا دیا سکول کی عمارت کا کام جاری تھا کہ اپنے ذاتی گھر کی تعمیر کے لیے مجھے اس رقم کے استعمال کرنے کی ضرورت پیش آگئی، لیکن مدرسہ کی عمارت کی تکمیل سے قبل ہی میں نے وہ رقم سکول کی کمیٹی کے سپرد کردی اور کہا کہ یہ مال ایک ایسی خاتون کی طرف سے عطیہ ہے، جو اپنا نام ذکر کرنا پسند نہیں کرتی، جب کہ درحقیقت یہ مال میرے پاس امانت تھا اور اسے ادا کرنا میرے ذمہ واجب تھا لیکن شرمندگی کی وجہ سے میں حقیقت کا اظہار نہ کرسکا۔ کیا اس رقم کے استعمال کی وجہ سے مجھے گناہ ہوگا، جب کہ میں نے یہ رقم ادا بھی کردی ہے؟ توبہ کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔ یرحمک اللہ

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کچھ اہل خیر نے اعتماد کرتے ہوئے ایک ہائی سکول کی عمارت کی تعمیر کے لیے جمع کئے گئے عطیات کا مجھے خزانچی بنا دیا سکول کی عمارت کا کام جاری تھا کہ اپنے ذاتی گھر کی تعمیر کے لیے مجھے اس رقم کے استعمال کرنے کی ضرورت پیش آگئی، لیکن مدرسہ کی عمارت کی تکمیل سے قبل ہی میں نے وہ رقم سکول کی کمیٹی کے سپرد کردی اور کہا کہ یہ مال ایک ایسی خاتون کی طرف سے عطیہ ہے، جو اپنا نام ذکر کرنا پسند نہیں کرتی، جب کہ درحقیقت یہ مال میرے پاس امانت تھا اور اسے ادا کرنا میرے ذمہ واجب تھا لیکن شرمندگی کی وجہ سے میں حقیقت کا اظہار نہ کرسکا۔ کیا اس رقم کے استعمال کی وجہ سے مجھے گناہ ہوگا، جب کہ میں نے یہ رقم ادا بھی کردی ہے؟ توبہ کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔ یرحمک اللہ


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس شخص کے پاس کسی بھی سکیم کا کوئی مال بطور امانت رکھا گیا ہو تو اسے اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے یہ واجب ہے کہ اس کی حفاظت کا پورا پورا اہتمام کرے اور اسے صرف اس کے مصرف ہی میں استعمال کرے۔ آپ نے جو جھوٹ بولا اس سے بھی توجہ کریں۔ جو شخص صدق دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا توبوا إِلَى اللَّـهِ تَوبَةً نَصوحًا...٨﴾... سورة التحريم

’’ اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو-‘‘

اور فرمایا:

﴿وَتوبوا إِلَى اللَّـهِ جَميعًا أَيُّهَ المُؤمِنونَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٣١﴾... سورة النور

’’ ، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ ۔‘‘

سچی توبہ یہ ہوتی ہے کہ سابقہ گناہوں پر ندامت کا اظہار کیا جائے، اللہ تعالیٰ کے خوف و تعظیم کے پیش نظر انہیں ترک کردیا جائے، عزم صادق کیا جائے کہ آئندہ ان کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا اور اگر گناہ کا تعلق لوگوں کے خون، مال اور عزت و آبرو یا دیگر حقوق سے ہو تو انہیں واپس لوٹایا جائے یا ان سے معاف کروا لیا جائے اور اگر گناہ کا تعلق غیبت وغیرہ سے ہو اور خدشہ ہو کہ اسے بتانے کی صورت میں زیادہ نقصان ہوگا تو پھر ان لوگوں کو نہ بتائے جن کی غیبت کی ہو اور ان کے لیے دعا اور استغفار کرے اور غیبت کے ذریعے سے ان کی جو برائی کی اس کے مقابلے میں ان کی خوبیوں کا تذکرہ کرے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص176

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ