سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(216) بدکاری کا کفارہ

  • 12678
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-23
  • مشاہدات : 1090

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نماز پڑھتا اور نیک کام کرتا ہے مگر وہ بدکاری میں بھی مبتلا ہوگیا اور پھر اسے ندامت ہوئی اور اس نے توبہ کرلی، تو کیا اس بدکاری کی وجہ سے اس پر کوئی کفارہ بھی لازم ہے تاکہ اس کا ضمیر اس ندامت سے چھٹکارا حاصل کرسکے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہے، سچی توبہ کرنے سے سابقہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَالَّذينَ لا يَدعونَ مَعَ اللَّـهِ إِلـٰهًا ءاخَرَ‌ وَلا يَقتُلونَ النَّفسَ الَّتى حَرَّ‌مَ اللَّـهُ إِلّا بِالحَقِّ وَلا يَزنونَ ۚ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ يَلقَ أَثامًا ﴿٦٨ يُضـٰعَف لَهُ العَذابُ يَومَ القِيـٰمَةِ وَيَخلُد فيهِ مُهانًا ﴿٦٩ إِلّا مَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صـٰلِحًا فَأُولـٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّـهُ سَيِّـٔاتِهِم حَسَنـٰتٍ ۗ وَكانَ اللَّـهُ غَفورً‌ا رَ‌حيمًا ﴿٧٠﴾... سورةالفرقان

’’ اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وه بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وه زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال لائے گا (68) اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وه ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا (69) سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے ۔‘‘

الحمد للہ! توبہ سے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق پر ثابت قدم رکھے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص170

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ