سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(113) ارشاد باری تعالیٰ ﴿وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلاَّ وَارِدُھا﴾ میں وردد کا معنی

  • 12597
  • تاریخ اشاعت : 2014-08-05
  • مشاہدات : 598

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
سورۂ مریم کی آیت (۷۱، ۷۲) میں ہے:
﴿وَإِن مِنكُم إِلّا وارِ‌دُها ۚ كانَ عَلىٰ رَ‌بِّكَ حَتمًا مَقضِيًّا ﴿٧١﴾ ثُمَّ نُنَجِّى الَّذينَ اتَّقَوا وَنَذَرُ‌ الظّـٰلِمينَ فيها جِثِيًّا ﴿٧٢﴾... سورة مريم
’’ تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شده امر ہے (71) پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچالیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے ۔‘‘
میں ان آیات کریمہ خصوصاً جہنم کے اوپر سے گزرنے کے معنی معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے ابن رجب حنبلی کی کتاب ’’ التخویف من النار‘‘ میں پڑھا ہے کہ ائمہ ورود کے معنی کی تفسیر میں اختلاف ہے تو کیا اس کے معنی جہنم کی آگ میں داخل ہونے کے ہیں کہ ایک بار مومن اور کافر سب جہنم میں داخل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو اس سے نجات عطا فرما دے گا اور کافر جہنم ہی میں رہیں گے یا اس سے مقصود پل صراط کے اوپر سے گزرنا ہے جو کہ تلوار کی دھار کی مانند ہے مگر پہلا گروہ اس کے اوپر سے بجلی کی طرح، دوسرا تیز آندھی کی طرح، تیسرا عمدہ گھوڑے کی طرح اور چوتھا گروہ عمدہ اونٹوں اور دیگر جانوروں کی تیز رفتاری سے گزر جائے گا اور فرشتے کہہ رہے ہوں گے اے اللہ! سلامت رکھنا، سلامت رکھنا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سورۂ مریم کی آیت (۷۱، ۷۲) میں ہے:

﴿وَإِن مِنكُم إِلّا وارِ‌دُها ۚ كانَ عَلىٰ رَ‌بِّكَ حَتمًا مَقضِيًّا ﴿٧١ ثُمَّ نُنَجِّى الَّذينَ اتَّقَوا وَنَذَرُ‌ الظّـٰلِمينَ فيها جِثِيًّا ﴿٧٢﴾... سورة مريم

’’ تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شده امر ہے (71) پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچالیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے ۔‘‘

میں ان آیات کریمہ خصوصاً جہنم کے اوپر سے گزرنے کے معنی معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے ابن رجب حنبلی کی کتاب ’’ التخویف من النار‘‘ میں پڑھا ہے کہ ائمہ ورود کے معنی کی تفسیر میں اختلاف ہے تو کیا اس کے معنی جہنم کی آگ میں داخل ہونے کے ہیں کہ ایک بار مومن اور کافر سب جہنم میں داخل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو اس سے نجات عطا فرما دے گا اور کافر جہنم ہی میں رہیں گے یا اس سے مقصود پل صراط کے اوپر سے گزرنا ہے جو کہ تلوار کی دھار کی مانند ہے مگر پہلا گروہ اس کے اوپر سے بجلی کی طرح، دوسرا تیز آندھی کی طرح، تیسرا عمدہ گھوڑے کی طرح اور چوتھا گروہ عمدہ اونٹوں اور دیگر جانوروں کی تیز رفتاری سے گزر جائے گا اور فرشتے کہہ رہے ہوں گے اے اللہ! سلامت رکھنا، سلامت رکھنا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہﷺکی صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ اس آیت کریمہ سے مراد پل صراط کے اوپر سے گزرنا ہے، جسے جہنم کے اوپر نصب کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو جہنم سے بچائے۔ لوگ پل صراط کے اوپر سے اپنے اعمال کے مطابق گزر جائیں گے جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے۔ (۱)

(۱) صحیح مسلم، الایمان، باب أدنی أھل الجنۃ ، حدیث: 191 وجامع الترمذی، تفسیر ، باب ومن سورۃ مریم، حدیث: 3159

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص109

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC