سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

تعویزات کا حکم

  • 12575
  • تاریخ اشاعت : 2014-07-23
  • مشاہدات : 549

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تعویزات کے بارے میں کیا حکم ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تعویزات کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تعویذ لٹکانا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے، ان کو باندھنا حرام ہے۔ جب آدمی ان میں خیر کے طلب اور شر کے دور کرنے کا عقیدہ رکھ لے تو یہ شرک اکبر تک پہنچا دیتے ہیں ۔ سیدناعبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

" من تعلق شیئاً وکِّل إلیه " (ترمذی :2072 )

جس نے کوئی چیز لٹکائی اس کو اسی کے سپرد کر دیا جائے گا، یعنی اللہ تعالی اس کو اسی طرف چھوڑ دے گا۔

دوسری جگہ فرمایا:

" من تعلق تمیمة فلا اتم اﷲ له " (مسند احمد :17404)

جس نے تعویذ لٹکایا تو اللہ تعالیٰ اس کی مراد پوری نہ کرے ۔

ایک اور روایت میں آتا ہے :

" من تعلق تمیمة فقد اشرک " (مسند احمد ج۴/۱۵۶ والحاکم ج۴/۲۱۹)

جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا ۔

ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک حلقہ (کڑا) تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا یہ کیا ہے۔ ؟ تو اس نے عرض کی کہ میرے جوڑوں میں بیماری ہے جس کی وجہ سے میں نے اس کوپہنا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ :

" انزعها فانها لا تذیدک الا وهنًا و انک لومت وهی علیک ما افلحت ابدًا " (مسند احمد ج ۴/۴۴۵ ابن ماجة فی الطب ج ۲/۱۱۶۷ )

اس کو اتار دو یہ آپ کی بیماری کو اور زیادہ کر دے گا اور اگر تم اسی حالت میں مر گئے کہ یہ آ پ کے ہاتھ میں تھا تو تم کبھی بھی فلاح نہیں پاؤ گے ۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے بخار کی وجہ سے دھاگہ باندھا ہوا ہے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس دھاگے کو توڑ دیا اور یہ آیت پڑھی ۔

﴿وَما يُؤمِنُ أَكثَرُ‌هُم بِاللَّـهِ إِلّا وَهُم مُشرِ‌كونَ ﴿١٠٦﴾... سورةيوسف

اور ان کی اکثریت اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائی اور وہ مشرک ہیں ۔

تمام قسم کے تعویذات لٹکانے کی حرمت پر ادلہ واضح اور روشن ہیں چاہے ان میں قرآن حکیم کی آیات ہی کیوں نہ لکھی ہوئی ہوں ۔ جس نے یہ کہا کہ جس میں قرآن کریم کی آیات لکھی ہوں تو جائز ہے تو اس کی بات کا کچھ اعتبار نہیں اس کے قول کو دلیل نہیں بنایا جائے گا اس لئے کہ اس کی بات پر قرآن و حدیث کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔

اور وہ پردے (چادریں) جن پر قرآن حکیم لکھا ہوا ہوتا ہے ، پھر ان چادروں کو مریضوں پر ڈالا جاتا ہے ، حرام ہے ۔ ان کے درمیان اور تعویذات کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔

تعویذات کا حرام ہونا چند وجوہات کی بنا پر ہے :

1۔ تعویذات کی حرمت میں نہی اور ممانعت کا عموم ہے اس عموم کو خاص کرنے والی کوئی چیز (دلیل) نہیں آئی ۔ اور یہ ایک اصولی قاعدہ ہے کہ عام اپنے عموم پر باقی رہتا ہے جب تک اس عام کو خاص کرنے والی کوئی دلیل نہ آئے۔

2۔ قرآن کریم میں سے لکھے ہوئے تعویذات لٹکانا قرآن کریم کو حقیر اور کمتر سمجھنے کے مترادف ہے اور ا س کے ساتھ لہو و لعب ہے اس لئے کہ کبھی کبھار انسان نجاستوں کی جگہ آتا ہے یا ان جگہوں میں جاتا ہے جن جگہوں سے قرآن کریم کو ادبًا اور احترامًا منزہ کیا جاتا ہے ۔

3۔ اسباب کو روکنے کے لئے اس لئے کہ اگر قرآن کریم سے لکھے ہوئے تعویذات کی اجازت دی جائے تو یہ غیر قرآن کریم سے تعویذات لکھنے اور لٹکانے کا ذریعہ بن جائے گا ۔

4۔ اس طرح کا عمل سلف صالحین میں سے کسی ایک سے بھی ثابت نہیں ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی طرف سے اس طرح کی جو نسبت کی گئی ہے صحیح نہیں ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ