سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(108) ارشادِ باری تعالیٰ ﴿اِنَّا عَرَضْنَا الامَانَة﴾میں امانت سے کیا مراد ہے

  • 12548
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-30
  • مشاہدات : 688

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب کے آخر میں ارشاد فرماتے ہیں:
﴿إِنّا عَرَ‌ضنَا الأَمانَةَ عَلَى السَّمـٰوٰتِ وَالأَر‌ضِ وَالجِبالِ فَأَبَينَ أَن يَحمِلنَها وَأَشفَقنَ مِنها وَحَمَلَهَا الإِنسـٰنُ ۖ إِنَّهُ كانَ ظَلومًا جَهولًا ﴿٧٢﴾... سورة الاحزاب
’’ ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں پر زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے (مگر) انسان نے اسے اٹھا لیا، وه بڑا ہی ظالم جاہل ہے۔‘‘
یہاں امانت سے کیا مقصود ہے؟ کیا اس سے مقصود امانت عقل ہے یا وہ چیز جس کا انسان کو امین بنایا گیا ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب کے آخر میں ارشاد فرماتے ہیں:

﴿إِنّا عَرَ‌ضنَا الأَمانَةَ عَلَى السَّمـٰوٰتِ وَالأَر‌ضِ وَالجِبالِ فَأَبَينَ أَن يَحمِلنَها وَأَشفَقنَ مِنها وَحَمَلَهَا الإِنسـٰنُ ۖ إِنَّهُ كانَ ظَلومًا جَهولًا ﴿٧٢﴾... سورة الاحزاب

’’ ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں پر زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے (مگر) انسان نے اسے اٹھا لیا، وه بڑا ہی ظالم جاہل ہے۔‘‘

یہاں امانت سے کیا مقصود ہے؟ کیا اس سے مقصود امانت عقل ہے یا وہ چیز جس کا انسان کو امین بنایا گیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امانت سے مراد یہاں وہ تمام عبادات و معاملات ہیں، جن کا انسان کو مکلف بنایا گیا ہے۔ یہ سب امانت ہیں۔ انسان کو ان کا امین بنایا گیا ہے کیونکہ ان کا ادا کرنا انسان کے لیے واجب ہے، مثلاً نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، جہاد، والدین سے حسن سلوک اور اقراروں کو پورا کرنا وغیرہ۔ یہ سب امور امانت ہیں اور وہ تمام امور جن کا انسان کو مکلف کیا گیا ہے، وہ امانت میں داخل ہیں مگر ان امور کی پابندی چونکہ عقل ہی سے ہوسکتی ہے اس لیے عقل ہی کی وجہ سے انسان حامل امانت ہے۔ جانور وغیرہ امانت نہیں ہیں کیونکہ وہ عقل نہ ہونے کی وجہ سے غیر مکلف ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیاتو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے۔ ان بڑی بڑی مخلوقات نے بار امانت اٹھانے سے انکار کردیا اور وہ ڈر گئیں لہٰذا انسان کا اس کو اٹھا لینا اس کے ظلم اور نادانی کی دلیل ہے، لیکن وہ قابل ستائش ہے جس نے اس بار امانت کو اٹھایا، اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے اسے بجا لایا، جس سے منع کیا ہے اس سے اجتناب کیا اور اس طرح وہ آسمانوں اور زمین سے افضل قرار پایا کیونکہ اس نے اس بار امانت کو اٹھایا اور پھر اس طرح اس کے حق کو ادا کیا جس طرح اس سے تقاضا کیا گیا تھا، لہٰذا اسے ایک تو بارِ امانت کے اٹھانے کا شرف حاصل ہوا اور دوسرا اسے ادا کرنے کا اور اگر وہ اس بار امانت کو نہ اٹھائے اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کرے تو ایسے شخص کے بارے میں فرمان الٰہی ہے:

﴿مَثَلُ الَّذينَ حُمِّلُوا التَّور‌ىٰةَ ثُمَّ لَم يَحمِلوها كَمَثَلِ الحِمارِ‌ يَحمِلُ أَسفارً‌ا...﴿٥﴾... سورةالجمعة

’’ جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہو۔‘‘

﴿إِنَّ شَرَّ‌ الدَّوابِّ عِندَ اللَّـهِ الَّذينَ كَفَر‌وا فَهُم لا يُؤمِنونَ ﴿٥٥﴾... سورةالانفال

’’ تمام جانداروں سے بدتر، اللہ کے نزدیک وه ہیں جو کفر کریں، پھر وه ایمان نہ ﻻئیں۔‘‘

تو وہ انسان جو امانت کے تقاضے کو پورا نہ کرے، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین جانور ہے۔ وہ اس گدھے کی طرح ہے جس پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ حماقت اور معاملہ نافہمی کی وجہ سے ایسے انسان کو گدھے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص101

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ