سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(103) مذاق کرنے والے

  • 12543
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-30
  • مشاہدات : 622

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اس آیت کا کیا مفہوم ہے اور یہ کن کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟
﴿وَلَئِن سَأَلتَهُم لَيَقولُنَّ إِنَّما كُنّا نَخوضُ وَنَلعَبُ ۚ قُل أَبِاللَّـهِ وَءايـٰتِهِ وَرَ‌سولِهِ كُنتُم تَستَهزِءونَ ﴿٦٥﴾... سورة التوبة
’’ اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟۔‘‘

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس آیت کا کیا مفہوم ہے اور یہ کن کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟

﴿وَلَئِن سَأَلتَهُم لَيَقولُنَّ إِنَّما كُنّا نَخوضُ وَنَلعَبُ ۚ قُل أَبِاللَّـهِ وَءايـٰتِهِ وَرَ‌سولِهِ كُنتُم تَستَهزِءونَ ﴿٦٥﴾... سورة التوبة

’’ اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟۔‘‘


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ آیت یا آیات ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، جو آپس میں قافلہ والوں کی باتیں کر رہے تھے تاکہ راستہ کو طے کرلیں اور راستہ کی مشقت کو بھول جائیں۔ حضرات صحابہ کرامﷺکے بارے میں یہ لوگ یہ کہتے تھے۔ والعیاذ باللہ۔ کہ ’’ہم نے ایسے لوگ نہیں دیکھے جو ہمارے ان قراء سے بڑھ کر پیٹ کے بارے میں رغبت کرتے ہوں، زبان کے زیادہ جھوٹے ہوں اور میدان جنگ میں زیادہ بزدل ثابت ہوں‘‘ حالانکہ منافقوں کی یہ ساری باتیں جھوٹ پر مبنی تھیں کیونکہ تمام لوگوں سے زیادہ پیٹو اور کھانے پینے کے زیادہ حریص وہ خود تھے۔ تمام لوگوں سے زیادہ جھوٹے تھے اور میدان جنگ میں سب سے زیادہ بزدلی دکھانے والے وہ خود تھے، غزوۂ احد کے موقع پر گھروں سے جہاد کے لیے نکلنے کے بعد واپس لوٹ گئے تھے، جو کہ ان کی بزدلی اور دُوں ہمتی کی دلیل تھی کیونکہ یہ ایمان و عقیدے کی دولت سے محروم تھے۔ جب یہ لوگ مذکورہ باتیں کر رہے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ دو آیتیں نازل فرما دیں۔ یہ جب نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے ان سے دریافت کیا تو کہنے لگے کہ ہم تو ہنسی مذاق کی باتیں کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَئِن سَأَلتَهُم لَيَقولُنَّ إِنَّما كُنّا نَخوضُ وَنَلعَبُ ۚ قُل أَبِاللَّـهِ وَءايـٰتِهِ وَرَ‌سولِهِ كُنتُم تَستَهزِءونَ ﴿٦٥ لا تَعتَذِر‌وا قَد كَفَر‌تُم بَعدَ إيمـٰنِكُم...﴿٦٦﴾... سورة التوبة

’’ اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟ (65) تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے،۔‘‘

یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ، اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے مذاق کرنا کفر ہے، جس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص96

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ