سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(102) ارشادِ باری تعالیٰ ﴿اِلاَّ اللَّمَمَ ﴾ کے معنی

  • 12542
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-30
  • مشاہدات : 695

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ارشادِ باری تعالیٰ ﴿اِلاَّ اللَّمَمَ ﴾ کی کیا تفسیر ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ارشادِ باری تعالیٰ ﴿اِلاَّ اللَّمَمَ ﴾ کی کیا تفسیر ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سورۃ النجم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلِلَّـهِ ما فِى السَّمـٰوٰتِ وَما فِى الأَر‌ضِ لِيَجزِىَ الَّذينَ أَسـٰـٔوا بِما عَمِلوا وَيَجزِىَ الَّذينَ أَحسَنوا بِالحُسنَى ﴿٣١ الَّذينَ يَجتَنِبونَ كَبـٰئِرَ‌ الإِثمِ وَالفَوٰحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَ‌بَّكَ وٰسِعُ المَغفِرَ‌ةِ ۚ هُوَ أَعلَمُ بِكُم إِذ أَنشَأَكُم مِنَ الأَر‌ضِ وَإِذ أَنتُم أَجِنَّةٌ فى بُطونِ أُمَّهـٰتِكُم ۖ فَلا تُزَكّوا أَنفُسَكُم ۖ هُوَ أَعلَمُ بِمَنِ اتَّقىٰ ﴿٣٢﴾... سورةالنجم

’’ اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے (31) ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی۔ سوائے کسی چھوٹے سے گناه کے۔ بیشک تیرا رب بہت کشاده مغفرت والا ہے، وه تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے۔ پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو، وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے ۔‘‘

تو اس آیت میں ﴿اِلاَّ اللَّمَمَ ﴾ کے متعلق سوال کیا گیا ہے، تو اس کے بارے میں علمائے تفسیر میں اختلاف ہے۔ انہوں نے اس کے معنی و مفہوم کے بارے میں کئی اقوال ذکر کیے ہیں، جن میں سے سب سے اچھے یہ دو قول ہیں:

… اس سے وہ صغیرہ گناہ مراد ہیں، جن کا انسان ارتکاب کر بیٹھتا ہے، مثلاً ایسی چیزوں کی طرف دیکھنا اور سننا وغیرہ جو صغیرہ گناہوں کے قبیل سے ہوں۔ یہ قول حضرت ابن عباس اور سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے۔ ان کا استدلال سورۃ النساء کی اس آیت سے ہے:

﴿إِن تَجتَنِبوا كَبائِرَ‌ ما تُنهَونَ عَنهُ نُكَفِّر‌ عَنكُم سَيِّـٔاتِكُم وَنُدخِلكُم مُدخَلًا كَر‌يمًا ﴿٣١﴾... سورة النساء

’’ اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے۔‘‘

تو ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ اس آیت میں مذکورہ گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں، جنہیں لَمَمسے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ان سے اجتناب ہر انسان کے لیے مشکل ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے اپنے مومن بندوں سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر وہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کریں گے، تو وہ ان کے صغیرہ گناہوں کو معاف فرما دے گا بشرطیکہ وہ صغیرہ گناہوں پر بھی اصرار نہ کریں۔ کبیرہ گناہوں سے کیا مراد ہے؟ اس کے بارے میں سب سے اچھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ گناہ ہیں، جن کے ارتکاب پر دنیا میں حد نافذ کی جاتی ہے مثلاً چوری، بدکاری، تہمت اور نشہ آور چیزوں کا استعمال یا اس سے مراد وہ گناہ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ وعید سنائی ہے کہ ان کے ارتکاب کی وجہ سے انسان اللہ تعالیٰ کے غضب، لعنت یا جہنم کی آگ کا مستحق ہوگیا مثلاً سود، غیبت، چغلی، اور سب وشتم وغیرہ۔ اس بات کی دلیل یہ حدیث بھی ہے کہ انسان جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے اور صغیرہ گناہوں پر بھی اصرار نہ کرے تو صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں:

«إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذَلِكَ لاَ مَحَالَةَ، فَزِنَا العَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ المَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ كُلَّهُ وَيُكَذِّبُهُ»(صحيح البخاري الاستذان باب زنا الجوارح دون الفرج حديث 1243  وصحيح مسلم القدر علي ابن آدم حظه من الزنا وغيره حديث 2657والفظ له)

 ہر ابن آدم کےلیے زنا لکھ دیا گیا ہے جسے وہ ضرور پائے گا دونوں آنکھوں کازنا دیکھنا ہے دونوں کانوں کا زنا سننا ہے زبان کا کلام کرنا ہے ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے پاؤں کازنا چلنا ہے دل خواہش اورٰ تمنا کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے۔‘‘

اس بات کی دلیل کہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنا اور ان پر اصرار نہ کرنا واجب ہے، حسب ذیل ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَالَّذينَ إِذا فَعَلوا فـٰحِشَةً أَو ظَلَموا أَنفُسَهُم ذَكَرُ‌وا اللَّـهَ فَاستَغفَر‌وا لِذُنوبِهِم وَمَن يَغفِرُ‌ الذُّنوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَم يُصِرّ‌وا عَلىٰ ما فَعَلوا وَهُم يَعلَمونَ ﴿١٣٥ أُولـٰئِكَ جَزاؤُهُم مَغفِرَ‌ةٌ مِن رَ‌بِّهِم وَجَنّـٰتٌ تَجر‌ى مِن تَحتِهَا الأَنهـٰرُ‌ خـٰلِدينَ فيها ۚ وَنِعمَ أَجرُ‌ العـٰمِلينَ ﴿١٣٦ قَد خَلَت مِن قَبلِكُم سُنَنٌ فَسير‌وا فِى الأَر‌ضِ فَانظُر‌وا كَيفَ كانَ عـٰقِبَةُ المُكَذِّبينَ ﴿١٣٧﴾... سورةآل عمران

’’ جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناه کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، فیالواقع اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟ اور وه لوگ باوجود علم کے کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے (135) انہیں کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وه ہمیشہ رہیں گے، ان نیک کاموں کے کرنے والوں کا ﺛواب کیا ہی اچھا ہے ۔‘‘

… لَمَم سے مراد وہ گناہ ہیں، جن کا انسان ارتکاب کر بیٹھتا ہے مگر پھر وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرلیتا ہے جیسا کہ سابقہ آیت میں ہے:

﴿وَالَّذينَ إِذا فَعَلوا فـٰحِشَةً...﴿١٣٥﴾... سورة آل عمران

’’ جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناه کر بیٹھیں ۔‘‘

نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَتوبوا إِلَى اللَّـهِ جَميعًا أَيُّهَ المُؤمِنونَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٣١﴾... سورة النور

’’  اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ  ۔‘‘

اس مفہوم کی اور بھی بہت سی آیات ہیں، اسی طرح نبیﷺ نے بھی فرمایا ہے:

(كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ)(جامع الترمذي صفة القيامة باب في استعظام المومن ذنوبه.... الخ حديث 2499وسنن ابن ماجه الزهد باب ذكر التوبه حديث 4251)

’’تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور بہترین خطار کار وہ ہیں جو توبہ کرلیں۔‘‘

ہر انسان سے غلطی ہوسکتی ہے، اس لیے سچی پکی توبہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ سچی توبہ وہ ہے جس میں سابقہ گناہوں پر ندامت کا اظہار کیا جائے، انہیں ترک کردیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے خوف، اس کی تعظیم اور اس کی مغفرت کی امید کی وجہ سے یہ سچا عزم کیا جائے کہ آئندہ ان کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا۔

اگر گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہو مثلاً کسی کی چوری کی ہو، کسی کا مال چھینا ہو، کسی پر تہمت لگائی ہو، کسی کو مارا ہو، کسی کو گالی دی ہو یا کسی کی غیبت وغیرہ کی ہو تو پھر توبہ کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ان بندوں کے حقوق کو ادا کرے یا ان سے معاف کروا لے الا یہ کہ گناہ کا تعلق غیبت سے ہو یعنی کسی کی عزت و آبرو کے بارے میں اس کی عدم موجودگی میں بات کی گئی ہو اور اسے معاف کروانا ممکن نہ ہو کہ اسے بتانے کی صورت میں زیادہ خرابی کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں یہی کافی ہے کہ غائبانہ طور پر اس کے لیے دعا کی جائے اور ان جگہوں میں اپنے علم کے مطابق اس کی اچھی صفات اور اس کے اچھے اعمال کا تذکرہ کرے، جہاں اس نے اس کی غیبت کی تھی اور اگر زیادہ خرابی کے رونما ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر اسے یہ بتانے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ اس نے اس کی غیبت کی تھی۔

میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اپنی رضا کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں اور آپ کو ہر برائی سے بچائے، ہم سب پر احسان کرتے ہوئے ہمیں دین پر استقامت عطا فرمائے، اپنی ناراضی کے اسباب سے بچائے اور اپنی شرع کے مخالف تمام امور سے ہمیں توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہ جواد کریم

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص94

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ