سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(94) ارشاد بار تعالیٰ ﴿صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ﴾کے معنی

  • 12530
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-24
  • مشاہدات : 2449

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اس آیت کریمہ کے کیا معنی ہیں:
﴿صُمٌّ بُكمٌ عُمىٌ فَهُم لا يَر‌جِعونَ ﴿١٨﴾... سورة البقرة
’’ بہرے، گونگے، اندھے ہیں۔ پس وه نہیں لوٹتے ۔‘‘

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس آیت کریمہ کے کیا معنی ہیں:

﴿صُمٌّ بُكمٌ عُمىٌ فَهُم لا يَر‌جِعونَ ﴿١٨﴾... سورة البقرة

’’ بہرے، گونگے، اندھے ہیں۔ پس وه نہیں لوٹتے ۔‘‘


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی تین صفتیں بیان کی ہیں کہ وہ بہرے ہیں نہ تو حق کو سنتے ہیں اور نہ اس کی طرف کان لگاتے ہیں۔ گونگے ہیں کہ حق بات کہتے نہیں اور اندھے ہیں کہ حق کو دیکھتے ہی نہیں۔ سماعت نافع، نطق حق اور رویت حق کے فقدان کے باعث ان پر چونکہ علم کے دروازے بند ہوچکے ہیں لہٰذا یہ اپنی سرکشی اور اپنے نفاق سے باز نہیں آئیں گے کیونکہ یہ غلطی یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنے بارے میں فریب خوردہ ہیں۔ پس یہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں کہ کسی طرح بھی سیدھے راستے کی طرف نہیں آئیں گے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص88

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ