سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(449) بسم اللہ جہراُ پڑھنے کا حکم

  • 1253
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-12
  • مشاہدات : 619

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بسم اللہ جہری طورپر پڑھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

راجح بات یہ ہے کہ بسم اللہ جہرا نہیں پڑھنا چاہیے۔ سنت یہ ہے کہ اسے سراً پڑھا جائے کیونکہ یہ سورۃ الفاتحہ کی آیت نہیں ہے،(1)

اگر کبھی کبھی اسے جہری طورپر پڑھ لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ بعض اہل علم نے کہا ہے کبھی کبھی بسملۃ ضرور جہری طور پڑھناچاہئے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اسے جہراً بھی پڑھتے تھے لیکن جو بات صحیح سند کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آپ اسے جہراً نہیں پڑھتے تھے، لہٰذا زیادہ بہتر یہی ہے کہ اسے جہراً نہ پڑھا جائے۔ اگر ان لوگوں کی تالیف قلب کے لیے جہراً پڑھ لے جن کا مذہب اسے جہراً پڑھنے کا ہے تو امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔

وباللہ التوفیق

حاشیہ

(1)بسم اللہ، سورۃ الفاتحہ کی آیت ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے۔ راجح بات اس کا سورۃ الفاتحہ کی آیت ہونا معلوم ہوتا ہے (دیکھئے الصحیحۃ، حدیث: ۱۱۸۳) تاہم اس سے اس کا جہراً پڑھنا ضروری ثابت نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے عمل سے ہے کہ آپ نے اسے جہراً پڑھا ہے یا سراً؟ زیادہ روایات سری پڑھنے کی ہیں، اس لیے سراً پڑھنا ہی راجح ہوگا۔ (ص، ی)

فتاویٰ ارکان اسلام

حج کے مسائل  

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ