سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(88) ارشاد باری تعالیٰ ﴿وَلَکُم فِیھَا جَمَالٌ﴾ کی تفسیر

  • 12525
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-24
  • مشاہدات : 653

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ارشاد باری تعالیٰ:

﴿وَلَكُم فيها جَمالٌ حينَ تُر‌يحونَ وَحينَ تَسرَ‌حونَ ﴿٦﴾... سورة النحل

’’ اور ان میں تمہاری رونق بھی ہے جب چرا کرلاؤ  تب بھی اور جب چرانے لے جاؤ تب بھی ۔‘‘


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ آیت سورۂ نحل کے ابتداء میں ہے اور اس سے مراد اونٹ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مسخر کردیا ہے اور انہیں ہمارے لیے باعث جمال و زینت بنا دیا ہے کہ ان کے مالکان ان پر فخر کرتے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مال اور ذخیرہ بنا دیا ہے کہ ہم ان کے حصول میں رغبت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ جب وہ انہیں شام کو جنگل سے چرا کر لاتے ہیں اور جب صبح انہیں جنگل میں چرانے کے لیے لے جاتے ہیں، تو اس میں حسن و جمال (اور عزت و شان) کا پہلو بھی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص85

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ