سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(502) چھوٹے بچوں کا تصویر والے کھیلونے استعمال کرنا

  • 12521
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-24
  • مشاہدات : 1505

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

چھوٹے بچوں کو بہلانے کےلئے کھلونے ،مثلاً:پلاسٹک کی گڑیا، شیر ،بندر وغیرہ گھروں میں رکھنا شرعاًکیا حیثیت رکھتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تصویر کشی اور فوٹوگرافی کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ امام بخاری ؒ نے تصاویر کےمتعلق مستقل ایک عنوان قائم کیا ہے، اس میں بیان کردہ احادیث کی روشنی میں ان کے نقصانات سے ہم قارئین کرام کو آگاہ کرتے ہیں ۔

٭جس گھرمیں تصاویر ہوں وہاں رحمت کے فرشتے  نہیں آتے۔ (کتاب اللباس،حدیث نمبر:۵۹۴۹)

٭قیامت کے دن تصاویر بنانے والے کو سخت ترین عذاب سے دوچار کیا جائے گیا۔ (حدیث نمبر:۵۹۵۰)

٭رسول اللہﷺ نےا نہیں بدترین مخلوق قرار دیا ہے۔ (حدیث نمبر:۴۳۴)

٭رسول اللہﷺ نے تصاویر بنانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (حدیث نمبر:۵۹۶۲)

٭رسول اللہﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جہاں تصاویر یا کوئی مجسمہ پاتے اسے توڑ ڈالتے۔ (حدیث نمبر:۵۹۵۲)

٭اللہ تعالیٰ نے ایک حدیث قدسی میں تصویریں بنانے والوں کو ظالم ترین قرار دیا ہے۔ (حدیث نمبر:۵۹۵۳)

٭تصویر کشی کی پاداش میں انہیں دگنا عذاب ہوگا، انہیں ان تصویروں میں روح ڈالنے کے متعلق کہا جائے گا۔ (حدیث نمبر :۵۹۵۱)

٭  رسول اللہ ﷺاس گھر میں داخل نہیں ہوتے تھےجن میں تصویر یں ہوتی تھیں۔(حدیث نمبر:۵۹۵۷)    

تصا ویر بنانےاور شوق کے طورپر ا نہیں اپنے پاس رکھنے کی بہت سخت وعیدہے، البتہ  درج ذیل صور تیں اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ 

٭پاسپورٹ ،شناختی کارڈ یا نوٹوں پر تصاویر اپنے پاس رکھنے کی گنجائش ہے، کیونکہ یہ ایک مجبوری کی صورت ہے۔

٭ایسے کپڑے پر تصاویرقابل برداشت ہیں،جسے بچھونے کے طور پر استعمال کیا جائے ،کیونکہ ایسا کرنے سے تصاویر کی توہین ہوتی ہے۔

٭درخت اور قدرتی مناظر کی تصاویر رکھنے کا جواز ہے جن میں روح نہ ہو۔

٭لڑکیوں کو امور خانہ داری سکھانے کے لئے تصاویر رکھی جاسکتی ہیں جو گڑیوں کی شکل میں ہوں۔

٭کسی یقینی فائدے کےپیش نظر بھی تصاویر رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

صورت مسئولہ میں بچوں کو بہلانے کےلئے پلاسٹک وغیرہ کی گڑیا رکھنے میں جواز ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث سےمعلوم ہوتا ہے۔

٭حضرت عائشہ ؓ رسول اللہﷺ کی موجودگی میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھیں۔ (صحیح بخاری ،الادب:۱۶۳۰)

٭حضرت عائشہ ؓ کے کھلونے میں ایک گھوڑے کا کھلونا  بھی تھا جس کے دو پر تھے۔ (ابوداؤد،الادب:۴۹۳۲)

لیکن ان کھلونو ں میں بندروں ،شیروں ،کتوں اور خنزیروں کی شکل و صورت کے کھلونے رکھنا ایک مسلمان کی شان کے خلاف ہے ،مغربی تہذیب سے وابستہ لوگ اس قسم کے حیوانات سے پیارکرتے ہیں ،مسلمان گھرانوں کو ان سے پاک ہونا چاہیے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:502

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ