سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(497) قراءت سبعہ کا ثبوت

  • 12516
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-24
  • مشاہدات : 1280

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے بعض مدارس میں سبعہ یا عشرہ قراءت کا اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ بعض علما سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قراءت کا حصہ نہیں ہیں،کیونکہ ان کا ثبوت حد تواتر کو نہیں پہنچتا، قرآن کریم تواتر سے ہم تک پہنچا ہے ،قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس پر فتن دورمیں جہاں آزادی تحقیق کے نام سے صحیح احادیث کا انکار بلکہ استخفاف کیا جاتا ہے ،وہاں قراءت متواترہ کو بھی تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے ہاں برصغیر میں قرآن کریم کی جوروایت پڑھی پڑھائی جاتی ہے وہ قراءت متواتر کا ہی ایک حصہ ہے۔ اسے تسلیم کرنا اور باقی قراءت  کا انکار کرنا علم و عقل سے کورذوقی کی بدترین مثال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی زبان مختلف علاقوں اور قبیلوں میں استعمال ہوتو اس کے بعض الفاظ کے استعمال میں اتنافرق آجاتا ہے، کہ ایک قبیلہ والادوسرے قبیلے والوں کے لب ولہجہ اور ان کےہاں مستعمل الفاظ کو سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے۔ نزول قرآن کے وقت عربی زبان قریش،ہذیل،تمیم،ربیعہ، ہوازن اورسعد بن بکر جیسے بڑے بڑے قبیلوں میں بولی جاتی تھی ۔ لیکن بعض قبائل عربی الفاظ اور ان کے موارداستعمال کے سمجھنے سے قاصر رہتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر آسانی کرتے ہوئے قرآن کریم کو سات حروف میں نازل فرمایا ہے ۔ تاکہ قرآن کریم کے اول مخاطبین تکلف کاشکار نہ ہوں۔چنانچہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ ‘‘قرآن کریم سات حروف میں نازل کیاگیا ہے،لہٰذا جو حرف تمہیں آسان معلوم ہو اس کے مطابق اس کی تلاوت کرو۔’’ (صحیح بخاری،فضائل القرآن :۴۹۹۲)

یہ حدیث محدثین کے ہاں‘‘سبعہ احرف’’کے نام سے مشہور ہے اور ائمہ حدیث نے اسے اپنی تالیف میں ذکر کرکے متواتر کا درجہ دیا ہے، چنانچہ صحیح بخاری ،صحیح مسلم ،جامع ترمذی،سنن نسائی،سنن ابی داؤد،مؤطا امام مالک،مسند امام احمد،سنن بیہقی،مستدرک حاکم اور مصنف عبدالرزاق میں یہ حدیث بیان ہوئی ہے اور رسول اللہﷺ سے بائیس سے زیادہ صحابہ کرام ؓ بیان کرتے ہیں جن میں عمر بن خطاب، عثمان بن عفان،علی بن ابی طالب،ابوہریرہ، عبداللہ بن مسعود،ابی بن کعب،معاذبن جبل،عبداللہ بن عباس،حذیفہ بن یمان ،انس بن مالک،عبدالرحمن بن عوف،عبادہ بن صامت،ابوطلحہ انصاری ،سمرہ بن جندب،عمروبن العاص،ہشام بن حکیم ،سلیمان بن حرد،ابوجہم انصاری اور ام ایوب انصاریہ (رضوان اللہ اجمعین) پیش پیش ہیں۔ صحابہ کرام ؓ سے بے شمار تابعین اور ان گنت ائمہ حدیث نے متعدد اسانید کے ساتھ اس حدیث کو نقل کیا ہے۔

حدیث میں بیان شدہ سبعہ احرف کےمتعلق بہت اختلاف ہے،علامہ سیوطی ؒ نے علما کے چالیس اقوال کا ذکر کیا ہے، اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ اس متواتر حدیث  کے کسی طریق میں کوئی بھی ایسی صریح عبارت موجود نہیں ہے۔جو سبعہ احرف کی مراد کو متعین کردے۔جبکہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اللہﷺ ضرورت کے وقت کسی بات کی وضاحت کومؤخر نہیں کرتے۔ احادیث میں سبعہ احرف کی وضاحت  نہ ہونے کی صرف یہ وجہ ہے کہ نزول قرآن کے وقت تمام صحابہ کرام ؓ کے نزدیک سبعہ احرف کا مفہوم اس قدر واضح تھا کہ کسی کو بھی رسول اللہﷺ سے اس کے متعلق سوال کرنے کی ضرورت  ہی محسوس نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ اس مفہوم کو سمجھنے کےلئے کسی کےمحتاج تھے۔ اگر ان کے ذہن میں کوئی اشکال پیداہوتا تو وہ رسول اللہﷺ سے اس عقد کو حل کرنے کی کوشش کرتے ۔ حالانکہ یہ حضرات قرآن کےمتعلق اس قدر حساس تھے کہ سبعہ احرف سے متعلق اگر کسی نے کسی دوسرے قاری سے مختلف انداز پرقراءت سنی تو قرآن کریم میں اختلاف و اضطراب کے واقع ہوجانے کے خوف سے فوراًرسول اللہﷺ کی طرف رجوع فرمایا ، جیسا کہ حضرت عمرؓ کے متعلق روایات میں ہے کہ وہ خود اپنی سرگزشت بایں الفاظ بیان کرتےہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ میں حضرت ہشام بن حکیمؓ کو سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا،میں نے جب غورکیا تو معلوم ہوا کہ وہ متعدد الفاظ اس طرح تلاوت کررہے ہیں جو رسول اللہﷺ نے مجھے نہیں سکھائے تھے۔ چنانچہ حضرت ہشام کو نما ز ہی میں روک لینے پر تیار ہوگیا لیکن میں نے بمشکل اپنے آپ کو اس اقدام سے روکے رکھا،جونہی انہوں نے سلام پھیرا تو میں انہیں ان کے کپڑوں سے کھینچتے ہوئے رسول اللہﷺ کی طرف لے چلا، اس اثنا میں سوال کیا کہ آپ کو یہ سورت اس انداز پر پڑھنے کی کس نے تعلیم دی ہے؟انہوں نے جواب دیا کہ  مجھے رسول اللہﷺ نے یہ سورت اس طریقہ سے نہیں پڑھائی ،جس پر میں نے تجھے تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے،چنانچہ میں انہیں رسول اللہﷺ کی طرف لےچلا، وہاں پہنچ کر میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ !میں نے اسے سورہ فرقان ایسے طریقہ پر پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے مجھے اس طرح نہیں پڑھائی ہے، آپ نے فرمایا کہ ‘‘ہشام کو چھوڑدو۔’’ میں نے اسے چھوڑ ا تو آپ نے فرمایا:‘‘ہشام تم پڑھو۔’’ تب ہشام نے اسی طرح تلاوت کی جس طرح میں نے اسے پڑھتے ہوئے سناتھا، آپ نے فرمایا:‘‘یہ سورت اسی طرح نازل کی گئی ہے۔’’ پھر آپ نے مجھے پڑھنے کاحکم دیا تو میں نے اسی انداز سے اسے تلاوت کیا،جیسا کہ آپ نے مجھے پڑھائی تھی۔آپ نے فرمایا کہ ‘‘اسی طرح بھی نازل کی گئی ہے۔’’پھر آپ نے فرمایا:‘‘یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے ،لہٰذا جو حروف تمہیں آسان معلوم ہوں اس پر قرآن کی تلاوت کرو۔’’(صحیح بخاری ،فضائل القرآن:۵۰۴۱)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ایک تو یہ تمام وجوہ قراءت منزل من اللہ ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان وجوہ کا اختلاف تناقص و تضاد کا نہیں بلکہ تنوع اور زیادتی معنی کی قسم سے ہے۔ اس تنوع کے بے شمار فوائد ہیں جو فن توجیہ القراءت میں بیان ہوئے ہیں اور  اس پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔

رسول اللہﷺ کا معمول تھا کہ ہرسال رمضان المبارک میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دورکرتے تھے اور جس سال آپ کی وفات ہوئی ، اس سال آپ نےد و مرتبہ دورکیا، اس موقع پر بہت سی  قراءت منسوخ کردی گئیں اور چند قراءتیں باقی رکھی گئی ہیں۔ جو اب تک متواتر چلی آرہی ہیں۔ ان کے لئے اولین شرط یہ ہےکہ وہ متواتر ذریعے سے ثابت ہوں اور دوسری شرط یہ ہے کہ مصاحف عثمانی کے رسم کے مطابق ہوں،حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے عہد خلافت میں جب سرکاری طورپر قرآن پاک کے نسخے تیار کرائے توا ن کے لئے ایسا رسم الخط تجویز کیا گیا کہ قراءتیں اس رسم الخظ  میں سماگئیں اور جو قراءت رسم الخط میں نہ آسکتی تھیں، ان کو محفوظ رکھنے کا یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ ایک نسخہ ایک قراءت کے مطابق اور دوسرا دوسری کے مطابق تجویز کیا ۔ اس  طرح سات نسخے تیار کئے گئے جو مکہ معظمہ ،مدینہ منورہ ،یمن ،بحرین،بصرہ اور شام بھیجے اور ان کے ساتھ قراء حضرات بھی روانہ کئے تا کہ صحیح  طریقے سے لوگوں کو قرآن کریم کی تعلیم دیں۔ چنانچہ یہ قراء حضرات مختلف علاقوں میں پہنچے اور ہر ایک نے اپنی اپنی قراءت کے مطابق پڑھانا شروع کردیا  اور یہی  قراءتیں لوگوں میں مشہور ہوگئیں۔علمائے امت نے ان قراءت کو یادکرنے  کا اس قدر اہتمام کیا کہ ‘‘علم قراءت’’ ایک مستقل فن کی شکل اختیار کرگیا۔بہرحال متواتر قراءت وحی کا حصہ ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار کرنا قرآن کا انکار کرنا ہے۔ (واللہ اعلم )

نوٹ:تدوین قرآن کے وقت عربی کتابت نقاط و حرکات سے خالی ہوتی تھی۔ اس لئے ایک ہی نقش میں مختلف قراءت کے سماجانے کی گنجائش تھی۔لوگوں کی سہولت کےلئے جب حروف پر نقاط و حرکات لگیں تو قرآن مجید بھی علیحدہ علیحدہ قراءت میں شائع ہونے لگے۔ چنانچہ ہمارے ہاں برصغیر میں قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، اسی طرح مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش عام ہےاور اسی کےمطابق قرآن مجید کی اشاعت ہوئی ہے۔ چنانچہ راقم نے مدینہ منورہ میں دوران تعلیم قراءت نافع بروایت قالون اور بروایت ورش دونوں الگ الگ مصاحف دیکھے تھے۔ نیز قراءت امام کسائی کا مصحف بھی نظر سے گزرا تھا ،یہ وضاحت اس لئے ضروری تھی کہ ہمارے ہاںروایت حفص پر مشتمل مصاحف ہی دستیاب ہیں۔ اس لئے اسے قرآن کےمترادف خیال کیا جاتا ہے اور اس بنیاد پر دوسری متواتر قراءت کا انکار کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت حال اس کے برعکس ہے۔(واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:493

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ